بھارت نے مقبوضہ کشمیر کیلئے ڈومیسائل کے نئے قوانین متعارف کرادیے

اپ ڈیٹ 02 اپريل 2020

ای میل

بھارت نے گزیٹ نوٹی فیکشن جاری کردیا—فوٹو: اے پی
بھارت نے گزیٹ نوٹی فیکشن جاری کردیا—فوٹو: اے پی

بھارت نے گزٹ نوٹی فیکشن جاری کردیا جس کے تحت جموں و کشمیر میں 15 سال سے مقیم فرد اپنے ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقے کو اپنا آبائی علاقہ قرار دے سکے گا۔

الجریزہ اور گلف نیوز کے مطابق بھارت کی جانب سے مذکورہ اقدام مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 8 ماہ بعد سامنے آیا ہے۔

مزید پڑھیں: آرٹیکل 370 کی منسوخی، مقبوضہ کشمیر آج دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گا

جموں و کشمیر سول سروسز ایکٹ میں واضح کیا گیا کہ ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقہ کو اپنا آبائی علاقہ قرار دینے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے وسطی علاقے میں 15 سال تک رہائش اختیار کرچکا ہو یا 7 سال کی مدت تک تعلیم حاصل کی ہو یا علاقے میں واقع تعلیمی ادارے میں کلاس 10 یا 12 میں حاضر ہوا اور امتحان دیے ہوں۔

اس سے قبل مذکورہ جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ 35 اے میں شہری سے متعلق تعریف درج تھی کہ صرف اسی شخص کو مقبوضہ جموں اور کشمیر کا ڈومیسائل جاری کیا جائے گا جو مقبوضہ علاقے میں ریلیف اینڈ ریبلٹیشن کمشنر کے پاس بطور تارکین وطن رجسٹرڈ ہو۔

واضح رہے کہ نئی دہلی نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے گزشتہ برس 5 اگست کو مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔

آئین کی دفعہ 3 اے میں مرکزی حکومت کے عہدیداران بشمول آل انڈیا سروسز آفیسرز، پی ایس یوز اور مرکزی حکومت کے خود مختار ادارے کے عہدیداران، پبلک سیکٹر کے بینکوں و مرکزی جامعات کے عہدیداران، مرکزی یونیورسٹیز کے عہدیداران اور مرکزی حکومت کے تسلیم شدہ تحقیقی اداروں کے بچے بھی شامل ہیں ’جنہوں نے جموں و کشمیر میں 10 سال کی مدت تک خدمات انجام دی ہیں یا ایسے والدین کے بچے جو سیکشن میں کسی بھی شرائط کو پورا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت

بھارت کے نئے قوائد کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں سخت تنقید کا سامنا ہے۔

اس دوران مقبوضہ کشمیر میں پیدا اور بڑے ہونے والوں کی حالت زار پر سے متعلق ایک واقعہ پیش آیا جب وائرس کی وجہ سے بھارت کے لاک ڈاؤن سے بچنے کے لیے ایک شخص نے خود کو مردہ ظاہر کیا اور چار لوگوں کے ہمراہ ایمبولینس میں نکلنے کی کوشش کی۔

پولیس نے بتایا کہ حکیم دین مقبوضہ جموں کے ایک ہسپتال میں سر میں معمولی چوٹ لگنے کی وجہ سے زیر علاج تھا جب ایک ایمبولینس ڈرائیور نے 70 سالہ شخص کو اپنی جعلی موت ظاہر کرنے کی تجویز دی تاکہ چوکیوں سے نکلا جا سکے۔

دین اور تینوں دیگر افراد مقبوضہ کشمیر کے ایک دور دراز علاقہ پونچھ واپس جانا چاہتے تھے جو پاکستان کے ساتھ واقع سرحد کے قریب ہے۔

متنازع علاقے کے سپرنٹنڈنٹ پولیس رمیش انگرل نے بتایا کہ چاروں افراد اور ڈرائیور نے ایمبولینس میں 160 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کیا اور ہسپتال سے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا استعمال کرتے ہوئے متعدد چوکیوں سے گزرے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کے قیدیوں کی رہائی، رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ

انہوں نے بتایا کہ ’ایمبولینس کو گھر پہنچنے سے پہلے آخری چوکی پر روک لیا گیا جہاں انکشاف ہوا کہ ایمبولینس کے اندر چھپا ہوا شخص مردہ نہیں ہے‘۔

رمیش انگرل نے بتایا کہ مذکورہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

واضح رہے کہ پونچھ کے علاقے میں کورونا وائرس سے متعلق کیسز کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔


یہ خبر 2 اپریل 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی