اسلام آباد: گستاخانہ خاکوں کےخلاف مظاہرہ،ریڈ زون جانے کی کوشش پر پولیس کی شیلنگ

اپ ڈیٹ 31 اکتوبر 2020

ای میل

پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال پر مظاہرین مشتعل ہوگئے — فوٹو: شکیل قرار
پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال پر مظاہرین مشتعل ہوگئے — فوٹو: شکیل قرار

دارالحکومت اسلام آباد میں گستاخانہ خاکوں اور فرانس کے صدر کے بیان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے شرکا کی جانب سے ریڈ زون کی جانب بڑھنے پر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

احتجاجی مظاہرین سرینا چوک پر پہنچے اور گستاخانہ خاکوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرین میں مسلم طلبا محاذ پاکستان، تاجر تنظیموں، جے یو آئی (ف) اور جے یو آئی (س) کے رہنما اور کارکنان شامل تھے۔

پولیس نے ریڈ زون جانے والے راستے کنٹینرز لگا کر بلاک کر دیے جبکہ مظاہرین نے ریڈ زون کی طرف جانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔

— فوٹو: شکیل قرار
— فوٹو: شکیل قرار

پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال پر مظاہرین مشتعل ہوگئے اور سرینا ہوٹل کے سامنے جنگل میں آگ لگا دی جبکہ پولیس چوکی کو بھی توڑ دی۔

ذرائع نے کہا کہ صورتحال بگڑنے پر پولیس کی مزید نفری کو ریڈ زون میں طلب کر لیا گیا جبکہ پولیس کا ساتھ دینے کے لیے رینجرز کی نفری کو بھی طلب کر لیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو ڈپلومیٹک انکلیو میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: مذہب کے خلاف آزادی اظہار رائے کو استعمال نہیں کرنا چاہیے، اقوام متحدہ

پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال پر مظاہرین نے آبپارہ چوک میں دھرنا دے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستانی حکومت، فرانس سے سفارتی تعلقات ختم نہیں کرتی تب تک دھرنا جاری رہے گا۔

بعد ازاں مظاہرین کے قائد شہیر سیالوی سے وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کے عملے نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا، تاہم مظاہرین نے کہا کہ وہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ کسی سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

چند گھنٹے بعد وزیر مذہبی امور دھرنے میں پہنچے اور شرکا سے دھرنا ختم کرنے کی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ آپ کے مطالبات وزیر اعظم تک پہنچاؤں گا، مطالبات پورے کرانے کی یقین دہانی نہیں کراتا لیکن میرا بھی مطالبہ وہی ہے جو آپ کا ہے، تاہم سڑک بند کر کے عوام کو تکلیف دینا اچھا نہیں۔

گستاخانہ خاکے اور فرانسیسی صدر کا متنازع بیان

واضح رہے کہ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ رواں ماہ فرانس کے ایک اسکول میں ایک استاد نے آزادی اظہار رائے کے سبق کے دوران متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے 2006 میں شائع کردہ گستاخانہ خاکے دکھائے تھے۔

جس کے چند روز بعد ایک شخص نے مذکورہ استاد کا سر قلم کردیا تھا جسے پولیس نے جائے وقوع پر ہی گولی مار کر قتل کردیا تھا اور اس معاملے کو کسی دہشت گرد تنظیم سے منسلک کیا گیا تھا۔

مذکورہ واقعے کے بعد فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کو ‘ہیرو’ اور فرانسیسی جمہوریہ کی اقدار کو ‘مجسم’ بنانے والا قرار دیا تھا اور فرانس کے سب سے بڑے شہری اعزاز سے بھی نوازا تھا۔

برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پیرس میں مذکورہ استاد کی آخری رسومات میں فرانسیسی صدر نے خود شرکت کی تھی جس کے بعد 2 فرانسیسی شہروں کے ٹاؤن ہال کی عمارتوں پر چارلی ہیبڈو کے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں کی کئی گھنٹوں تک نمائش کی گئی تھی۔

فرانسیسی صدر نے رواں ماہ 23 اکتوبر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ فرانس آزادی اظہار پر یقین رکھتا ہے اور ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

فرانسیسی صدر کے ایسے بیان کے بعد پاکستان، ترکی، ایران، ملائیشیا، کویت اور سعودی عرب سمیت تقریباً دنیا کے تمام مسلم ممالک میں فرانس کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے تھے اور فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔

فرانسیسی میگزین کے مکروہ عمل کی حکومت اور ملکی صدر کی جانب سے حمایت کے بعد ہی اقوام متحدہ نے ’گستاخانہ خاکوں‘ کے حوالے سے اظہار افسوس کرتے ہوئے برہمی کا بیان جاری کیا۔

مزید پڑھیں: فرانسیسی صدر نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو اشتعال دلایا، وزیراعظم

خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ فرانسیسی صدر کی جانب سے اسلام مخالف بیان سامنے آیا ہو، رواں ماہ کے آغاز میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے فرانس کے سیکیولر ’بنیاد پرست اسلام‘ کے خلاف دفاع کے منصوبوں کی نقاب کشائی کی تھی اور اس دوران اسلام مخالف بیان بھی دیا تھا۔

ایمانوئیل میکرون نے فرانس کی سیکیولر اقدار کے ‘بنیاد پرست اسلام’ کے خلاف ‘دفاع’ کے لیے منصوبے کو منظر عام پر لاتے ہوئے اسکولوں کی سخت نگرانی اور مساجد کی غیر ملکی فنڈنگ کے بہتر کنٹرول کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ فرانسیسی ہفتہ وار میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر ایمانوئیل میکرون نے کہا تھا کہ فرانس میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور چارلی ہیبڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے فیصلے پر وہ کوئی حکم نہیں دے سکتے۔