جو لڑائی لڑنی ہے لڑیں، افواج پاکستان کو اس سے باہر رکھیں، ایاز صادق

اپ ڈیٹ 31 اکتوبر 2020

ای میل

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ(ن) کے رہنما ایاز صادق میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ(ن) کے رہنما ایاز صادق میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ہم سب محب وطن پاکستانی ہیں، نہ مجھے حق ہے کہ میں کسی کو غدار کہوں اور نہ کسی اور کو حق ہے کہ وہ مجھے غدار کہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ہفتہ کے روز لاہور میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما ایاز صادق سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے ملکی سیاسی صورتحال اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کی۔

ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ تقریباً 10 دن پہلے سے ہی یہ ملاقات طے تھی اور اسی سلسلے میں مولانا تشریف لے کر آئے ہیں لیکن اس میں کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں ہر طرح کی سوچ ہے اور ہر طرح کی بات کرنے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب محب وطن پاکستانی ہیں، نہ مجھے حق ہے کہ میں کسی کو غدار کہوں اور نہ کسی اور کو حق ہے کہ وہ مجھے غدار کہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان جو چاہتا ہے وہ اپنے ناپاک عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکے گا، سیاسی سوچ ہماری مختلف ہو سکتی ہے لیکن جہاں پاکستان کی بات آتی ہے تو پوری پاکستانی قوم یکجا ہے اور انشااللہ ہندوستان کو جیسے ہمیشہ منہ توڑ جواب دیا گیا ہے، آگے بھی دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میری بات پر اختلاف ہو سکتا ہے مگر سیاسی بات کو جو رنگ دینے کی کوشش کی گئی اس سے پاکستان کے بیانیے کو فائدہ نہیں ہوا بلکہ اس سے سلیکٹڈ حکومت نے ہندوستان میں جو بیانیہ بنانے کی ناکام کوشش کی جا رہی تھی اس کو تقویت دینے کی کوشش کی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ ہمیں اس حکومت سے شدید تحفظات ہیں لیکن وہ سیاسی اختلافات ہیں چاہے وہ سقوط کشمیر کے حوالے سے ہو۔

ان کا کہنا تھا کہا کہ انہوں نے افواج پاکستان کو، میرے بیان سے نتھی کرنے کی کوشش کی یہ پاکستان کی خدمت نہیں تھی، میرا بیان دیکھا جا سکتا ہے، سنا جا سکتا ہے اور اس میں اس حکومت کے بارے میں گفتگو کی تھی جس کو غلط انداز میں انڈین میڈیا کی حکمت عملی کو اپناتے ہوئے یہاں حکومتی لوگوں نے غلط انداز میں پڑھا جو سراسر پاکستان کے خلاف سازش ہے۔

ایاز صادق نے مزید کہا کہ میں نے اس نالائق حکومت کے بارے میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ آپ نے جو لڑائی لڑنی ہے وہ ضرور لڑیں، افواج پاکستان کو اس لڑائی سے باہر رکھیں، آج لاہور میں جو بینر اور پوسٹر لگے یہ پاکستان کے مؤقف کی کوئی خدمت نہیں ہے، یہ آپ نے ہندوستان کے میڈیا کے ہاتھوں میں کھیل کے پاکستان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے مؤقف پر کھڑا ہوں، میرے پاس بے شمار راز ہیں اور میں پارلیمنٹ کے نیشنل سیکیورٹی کمیشن کی سربراہی کرتا رہا ہوں، میں نے کبھی بھی غیر ذمے دارانہ بیان نہ دیا ہے اور نہ دوں گا، ہم سیاسی لوگ ہیں اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بیان دیتے رہے ہیں اور آگے بھی دیتے رہیں گے۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایک جگہ جہاں پاکستان، اکائی، ہمارے اداروں کا نام آتا ہے، وہاں پاکستان کا ہندوستان کے نام ایک واضح پیغام ہے کہ ہمارا حکومت سے چاہے کتنا ہی سیاسی اختلاف کیوں نہ ہو مگر ہندوستان کے معاملے میں ہم ایک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ سب سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ اس چیز کو مت ابھاریں اور ایک وزیر نے بھی بیان دیا لیکن میں اس کا بھی ذکر نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ پاکستان کے حق میں نہیں ہے، آپ ایک مثبت کردار ادا کریں اور ان لوگوں کے بیان نہ لگائیں جو پاکستان کے خلاف سازش کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

ناجائز حکومتیں ہم پر مسلط نہ کی جائیں، مولانا فضل الرحمٰن

اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں اختلافات کی حدود ہونی چاہیے، ہم اختلاف رائے کا حق رکھتے ہیں اور یہ اصولوں پر کرتے ہیں لیکن کسی کو اس بات کا حق نہیں دے سکتے کہ ہم ان سے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بھی لیتے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ قیامت کی علامت ہے کہ مسلم لیگی غدار ٹھہرے ہیں، اس حوالے سے احتیاط کا دامن تھامے رکھنا چاہیے، ہمارا واضح مؤقف ہے کہ 25 جولائی 2018 کو دھاندلی ہوئی ہے، ہم اس حکومت کے جواز کو تسلیم نہیں کرتے اور ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ تنقید سے کوئی بالاتر نہیں ہے، ہمارے ملک میں رسول اللہ ﷺ کی توہین ہو جاتی ہے، پھر ان کو تحفظ فراہم کر کے ملک سے باہر بھیج دیا جاتا ہے، ہمارے ملک میں صحابہ کرام کی توہین ہوتی ہے، پھر انہی لوگوں کو عزت و آبرو کے ساتھ ملک سے باہر بھیجنے کے انتظامات کر دیے جاتے ہیں لیکن ہمارے ادارے اتنے مقدس ہیں کہ اس کے افراد بھی ان سے زیادہ ہیں اور تنقید سے بالاتر ہیں، ہم شاید اس اصول کو تسلیم نہیں کرتے، ہم توہین آمیز رویے کے خلاف ہیں چاہے وہ عدالت کے بارے میں ہو، جج صاحبان کے بارے میں ہو لیکن ہم ساتھ ساتھ اپنی توہین بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے زمانے میں پاکستان نے معاشی لحاظ سے ترقی کی اور ہمارے ملک کی ترقی کا سالانہ تخمینہ ساڑھے 6 فیصد تک پہنچ گیا تھا اور آج وہ صفر سے بھی گر گیا ہے، ملک دیوالیہ کردیا گیا ہے، پچھلے حکومتیں پاکستان کو بلیک لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں لے گئی تھیں، کوئی ایف اے ٹی ایف سے ہماری قانون سازیاں نہیں ہوئیں بلکہ ہم نے خود اپنی پالیسیاں بنائیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آج ہماری معیشت کہاں چلی گئی ہے، معاشی پالیسیاں اچھی اور بری ہوتی ہیں لیکن عام آدمی تک اس کے اثرات پانچ یا چھ سال بعد پہنچتے ہیں، یہاں حکومت کے پہلے سال میں لوگوں نے مہنگائی کے سبب چیخنا شروع کردیا تھا اور پہلے ہی سال میں چھوٹے تاجروں، دکانداروں نے دیہات کی سطح پر جا کر ہڑتال کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کے لیے رسک بن چکے ہیں، ملکی بقا کا سوال ہے، ناجائز حکومتیں ہم پر مسلط نہ کی جائیں، ملکی سیاست میں مداخلت نہ کی جائے، آئین کے مطابق ملک کو چلایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ایسی حکومت نہیں دیکھی جو خود اپوزیشن کو اشتعال دلاتی ہے، ہمیشہ اپوزیشن اشتعال کی طرف جاتی ہے اور حکومت اس کو اعتدال پر لانے کی کوشش کرتی ہے تاکہ بحران پیدا نہ ہو لیکن یہاں تو بحران پیدا کیے جاتے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قائد نے کہا کہ پی ڈی ایم کو توڑنے کی سازش کراچی میں ہوئی لیکن پی ڈی ایم کی جماعتوں نے اپنی بھرپور حکمت عملی سے اسے ناکام بنایا ہے اور ہم شیڈول کے مطابق اپنا پروگرام جاری رکھیں گے۔

حکومت کب تک اپنے گھٹنے ٹیک دی گی اس حوالے سے سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت تو نہیں ہے۔

ایاز صادق کے بیان کے حوالے سے سوال پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس سے بھی کچھ آگے جا کر ہمیں اتفاق کرنا چاہیے، یہ ذرا کم ہے۔

اس موقع پر ایاز صادق نے کہا کہ میں وضاحت کر چکا ہوں اور ایسی کوئی بات نہیں کی کہ معذرت کروں۔

مولان فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایاز صاق کی گفتگو سے کوئی اختلاف رائے کر سکتا ہے لیکن اس کے ردعمل میں پلوامہ کا ذکر کر کے جس عقلمندی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، اس سے اندازہ لگائیں کہ وہاں کس قسم کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔