فلسطین کی پہلی خاتون ٹیکسی ڈرائیور کے چرچے

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2020

ای میل

نائلہ ابو جبہ کی تعریفیں کی جا رہی ہیں—فوٹو: اے ایف پی
نائلہ ابو جبہ کی تعریفیں کی جا رہی ہیں—فوٹو: اے ایف پی

مشرق وسطیٰ کے ملک فلسطین میں پانچ بچوں کی والدہ کی جانب سے گزر بسر کے لیے ٹیکسی چلانے کے عمل کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

فلسطین کے علاقے غزہ کی 39 سالہ پانچ بچوں کی والدہ نائلہ ابو جبہ نے مالی مشکلات سے بچنے اور گزر بسر کے لیے گزشتہ ہفتے ہی ٹیکسی چلانا شروع کی ہے۔

خبر رساں ادارے ایجنسی پریس فرانس (اے ایف پی) سے بات کرتے ہوئے نائلہ ابو جبہ نے بتایا کہ ان کی ایک سہیلی ہیئر ڈریسر کا کام کرتی ہیں، جن سے انہوں نے ایک دن مشورہ مانگا کہ اگر وہ خواتین کے لیے ٹیکسی سروس شروع کرے تو کیسا رہے گا؟

نائلہ ابو جبہ نے بتایا کہ ان کی سہیلی نے ان کے مشورے کو لاجواب قرار دیتے ہوئے انہیں جلد سے جلد کام شروع کرنے کا حوصلہ دیا۔

نائلہ ابو جبہ نے سہیلی کے مشورے کے بعد ٹیکسی سروس شروع کی—فوٹو: اے ایف پی
نائلہ ابو جبہ نے سہیلی کے مشورے کے بعد ٹیکسی سروس شروع کی—فوٹو: اے ایف پی

پانچ بچوں کی کفیل نائلہ ابو جبہ کے مطابق جب کچھ عرصہ قبل ان کے والد کی وفات ہوگئی تھی تو انہوں نے دیگر اہل خانہ کے ہمراہ مل کر کار خریدی تھی، جسے اب وہ بطور ٹیکسی چلا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ عام سواری نہیں اٹھاتیں بلکہ پہلے سے بکنگ شدہ افراد کو ایک سے دوسری منزل تک پہنچاتی ہیں اور زیادہ تر ان کی بکنگ پہلے سے ہی ہوجاتی ہے۔

نائلہ ابو جبہ کے مطابق وہ خواتین کو بال بنوانے کے لیے بیوٹی پارلر لے جانے سمیت انہیں شاپنگ کے لیے مارکیٹ اور بازاروں سمیت شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے بھی لے جاتی ہیں۔

نائلہ ابو جبہ پانچ بچوں کی کفالت بھی کرتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی
نائلہ ابو جبہ پانچ بچوں کی کفالت بھی کرتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی

نائلہ ابو جبہ کی ٹیکسی پر سفر کرنے والی خواتین میں غزہ کی 27 سالہ آیا سلیم بھی ہیں جو نائلہ کی ٹیکسی پر سفر کرنے کے دوران خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں۔

غزہ کی پٹی کا شمار فلسطین کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں کورونا کی وبا سے قبل ہی بے روزگاری کی شرح 50 فیصد تک تھی اور وہاں پر جاری کشیدگی کی وجہ سے روزگار کے مواقع میں مسلسل کمی آرہی ہے۔

نائلہ ابو جبہ صرف خواتین کی سواری اٹھاتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی
نائلہ ابو جبہ صرف خواتین کی سواری اٹھاتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی

غزہ، جیسے علاقے میں جہاں مرد حضرات کو کام تلاش کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں، وہیں خواتین کے لیے روزگار تلاش کرنا تو اور بھی مشکل کام ہے۔

غزہ سمیت فلسطین بھر میں اگرچہ خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی نہیں ہے، تاہم وہاں پر زیادہ تر خواتین کمرشل بنیادوں پر ڈرائیونگ نہیں کرتیں اور نائلہ ابو جبہ کو نہ صرف غزہ بلکہ ریاست فلسطین کی بھی پہلی خاتون ٹیکسی ڈرائیور کا اعزاز حاصل ہے۔

نائلہ ابو جبہ زیادہ تر ایڈوانس بکنگ پر کام کرتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی
نائلہ ابو جبہ زیادہ تر ایڈوانس بکنگ پر کام کرتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی

نائلہ ابو جبہ کی جانب سے ٹیکسی چلائے جانے کے بعد اب خیال کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر غزہ یا فلسطین کے دیگر علاقوں کی خواتین بھی اس شعبے میں آگے آئیں گی۔

پانچ بچوں کی کفیل نائلہ ابو جبہ کی جانب سے ٹیکسی ڈرائیونگ کرنے کی دنیا بھر میں تعریفیں کی جا رہی ہیں اور لوگ انہیں فلسطینی خواتین کا رول ماڈل قرار دے رہے ہیں۔

نائلہ ابو جبہ نہ صرف غزہ بلکہ فلسطین کی بھی پہلی خاتون ٹیکسی ڈرائیور ہیں—فوٹو: اے ایف پی
نائلہ ابو جبہ نہ صرف غزہ بلکہ فلسطین کی بھی پہلی خاتون ٹیکسی ڈرائیور ہیں—فوٹو: اے ایف پی