سعودی عرب کا شہریوں کو کورونا ویکسین کی مفت فراہمی کا اعلان

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2020

ای میل

دنیا بھر میں دوا ساز اور ریسرچ سینٹرز کووڈ-19 ویکسین کی تیاری کی دوڑ میں شامل ہیں
—فوٹو: شٹراسٹاک
دنیا بھر میں دوا ساز اور ریسرچ سینٹرز کووڈ-19 ویکسین کی تیاری کی دوڑ میں شامل ہیں —فوٹو: شٹراسٹاک

سعودی وزارت صحت نے عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے 70 فیصد شہریوں اور تارکینِ وطن کو کورونا وائرس کی مفت ویکسین فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام کو اُمید ہے کہ حفاظتی دوا کی فراہمی کا ہدف آئندہ سال کے آخر تک مکمل ہوجائے گا۔

اس حوالے سے سعودی وزارت صحت کے اعلیٰ افسر عبداللہ اسیری نے کہا کہ 'وہ افراد جن کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت نہیں آیا انہیں آئندہ مہینوں میں شروع ہونے والی کورونا وائرس کی ویکسین مہم میں ترجیح دی جائے گی'۔

انہوں نے کہا کہ 16 برس سے کم عمر افراد کو اس وقت تک ویکسین نہیں دی جائے گی جب تک تحقیق یا ٹیسٹس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہیں ویکسین کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:یونیسیف کا غریب ممالک کو کورونا ویکسین کی 2 ارب ڈوز پہنچانے کا اعلان

اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے آئندہ ہفتوں میں ملک میں ویکسینز سے متعلق واضح شیڈول کے اعلان کی منصوبہ بندی بھی کی ہے۔

سعودی عرب 2 طریقوں سے کوویکس آرگنائزیشن سے ویکسین کے حصول پر کام کررہا ہے جسے بنانے اور اس کی فنانسنگ میں جی 20 کا بہت بڑا کردار تھا۔

ڈاکٹر عبداللہ اسیری نے کہا کہ سعودی عرب اس سہولت کے ذریعے بڑی تعداد میں ویکسین حاصل کرسکیں گے جبکہ دوسرا راستہ بڑی کمپنیوں سے براہ راست ویکسین کا حصول ہے تاکہ کوویکس سے باقی رہ جانے والے خلا کو پُر کیا جاسکے۔

خیال رہے کہ کوویکس ایک عالمی تنظیم ہے جس کا مقصد ویکسین بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنا ہے تاکہ ویکسین کے لائسنس یافتہ اور منظور ہونے کے بعد دنیا بھر کے ممالک کو محفوظ اور مؤثر ویکسین یکساں طور پر مہیا کی جاسکے۔

ڈاکٹر عبداللہ اسیری نے کہا کہ مؤثر ویکسین کے حصول میں ایک طویل پلان اور سپلائی چین کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ضرورت مند ممالک کو وافر مقدار میں پہنچانے کے لیے وقت بھی درکار ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں دوا ساز اور ریسرچ سینٹرز کووڈ-19 ویکسین کی تیاری کی دوڑ میں شامل ہیں اور عالمی سطح پر ہزاروں افراد کی شمولیت کے ساتھ ویکسینز کے ٹرائلز جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آکسفورڈ یونیورسٹی کی کووڈ ویکسین معمر افراد کیلئے محفوظ ثابت

فائزر کی ویکسین، آخری ٹرائلز کے نتائج میں 95 فیصد کامیابی اور کوئی سنگین مضر اثرات نہ ہونے کے بعد اب یہ ویکسین آئندہ ماہ تک امریکا اور یورپ کا ہنگامی اجازت نامہ حاصل کرسکتی ہے۔

دوسری جانب گزشتہ ہفتے موڈرنا کی ویکسین نے ابتدائی اعداد و شمار جاری کیے تھے جس کے مطابق ویکسین 94.5 فیصد مؤثر ہے۔

یہ دونوں ویکسین جن کے نتائج توقع سے بہتر آئے ہیں، نیو میسینجر آر این اے (mRNA) ٹیکنالوجی سے تیار کی گئی ہیں، جنہوں نے اس عالمی وبا کے خاتمے کی اُمیدوں کو بڑھا دیا ہے جو اب تک 13 لاکھ افراد کی موت کا سبب بن چکی ہے جبکہ اس نے معمولاتِ زندگی اور معیشتوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔