فوٹو شوٹ میں رنگت گوری کرنے کے الزامات پر کمالا ہیرس کی ٹیم کا مؤقف

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2021

ای میل

کمالا ہیرس ووگ میگزین کے فروری کے شمارے میں سرورق کی زینت بنیں گی—فائل فوٹو: رائٹرز
کمالا ہیرس ووگ میگزین کے فروری کے شمارے میں سرورق کی زینت بنیں گی—فائل فوٹو: رائٹرز

جلد ہی نائب امریکی صدر کی ذمہ داریاں سنبھالنے والی کمالا ہیرس کی ٹیم نے شہرہ آفاق فیشن میگزین 'ووگ' کی جانب سے کیے گئے تازہ فوٹوشوٹ پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ میگزین کے فیصلے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق کمالا ہیرس کی 'ووگ' کے لیے کرائے گئے فوٹو شوٹ کی تصاویر 10 جنوری کو سامنے آنے کے بعد ان کی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رد عمل دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمالا ہیرس کی ٹیم کے رکن نے دعویٰ کیا کہ انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی تصاویر انہیں دکھائی جانے والی تصاویر میں شامل نہیں تھیں۔

کمالا ہیرس کی ٹیم نے ان کی وائرل ہونے والی تصاویر میں ان کی رنگت گوری کیے جانے یا مذکورہ تصاویر کو انتہائی خراب کوالٹی میں کھینچے جانے پر کوئی بات کیے بغیر کہا کہ وہ میگزین کی حکمت عملی کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

ٹیم کے مطابق انہیں کمالا ہیرس کی مذکورہ تصاویر کا اس وقت ہی پتا چلا جب وہ 10 جنوری کو انٹرنیٹ پر لیک ہوئیں، اس سے قبل وہ مذکورہ تصاویر کے حوالے سے نہیں جانتے تھے۔

کمالا ہیرس کی ٹیم کے برعکس میگزین نے اپنے بیان میں تصاویر کی طرفداری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جلد نائب امریکی صدر بننے والی خاتون کی مذکورہ تصاویر عوامی انداز میں بنائی ہیں، جس انداز میں انہیں عام طور پر دیکھا جاتا ہے۔

میگزین نے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے کہ مذکورہ تصاویر کمالا ہیرس کی ٹیم کو دکھائی گئی تھیں یا نہیں۔

تاہم میگزین کمالا ہیرس کی تصاویر کو 11 جنوری کو آن لائن ایڈیشن میں شائع کی تھیں اور ان کی مذکورہ دونوں تصاویر میں سے ایک تصویر 'ووگ' کے سرورق کی زینت بنے گی۔

یہ بھی پڑھیں: میگزین پر فوٹو شوٹ میں کمالا ہیرس کی رنگت گوری کرنے کا الزام

کمالا ہیرس کی وہ تصویر 'ووگ' کی زینت بنائے جانے کا امکان ہے، جس میں انہیں جوگرز سمیت دیکھا جا سکتا ہے۔

کمالا ہیرس کی تصاویر 10 جنوری کو 'ووگ' کے ٹوئٹر ہینڈل پر بھی شیئر کی گئی تھیں اور ان کی دونوں تصاویر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر سے لوگوں نے میگزین پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ اس نے تصاویر میں کمالا ہیرس کی رنگت گوری کی ہے۔

کئی صارفین اور تنقید نگار صحافیوں اور فیشن شخصیات نے میگزین پر یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ کمالا ہیرس کی تصاویر انتہائی بری کوالٹی میں کھینچی گئیں۔

'ووگ' کے لیے کرائے گئے فوٹوشوٹ میں کمالا ہیرس کو سادہ لباس میں دیکھا جا سکتا ہے تاہم ان کی رنگت سیاہ فام یا گہری کے بجائے گوری یا سفید دکھائی دے رہی ہے۔

فوٹو شوٹ میں ان کے پیچھے کپڑوں کے سادہ پردوں کو دیکھا جا سکتا ہے جب کہ تصاویر کی کوالٹی کو بھی انتہائی برا یا کم محسوس کیا جا سکتا ہے۔

تنقید کرنے والے افراد کے مطابق کمالا ہیرس بنیادی طور پر سیاہ فام ہیں تاہم ان کے فوٹوشوٹ میں انہیں گورا دکھایا گیا جو کہ قابل مذمت ہے۔