علی ظفر پر ایک اور خاتون کا ہراسانی کا الزام، 50 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2021

ای میل

25 جنوری کو علی ظفر کو جواب جمع کرانے کے لیے نوٹس جاری کردیا گیا — فائل فوٹو: انسٹاگرام
25 جنوری کو علی ظفر کو جواب جمع کرانے کے لیے نوٹس جاری کردیا گیا — فائل فوٹو: انسٹاگرام

گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے ہراسانی کے الزامات و مقدمات کا سامنا کرنے والے پاکستان کے معروف گلوکار و اداکار علی ظفر پر لینا غنی نامی خاتون نے بھی جنسی ہراسانی کا الزام عائد کردیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس سید احسن اظہر رضوی پر مشتمل سنگل بینچ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج لاہور کے ذریعے 25 جنوری کو علی ظفر کو جواب جمع کرانے کے لیے نوٹس جاری کردیا۔

میک اپ آرٹسٹ لینا غنی نے علی ظفر کی جانب سے انہیں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر بدنام کرنے پر الزام لگایا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: میشا شفیع کیس، 'جنسی ہراسانی' ازخود نوٹس کیس میں ضم

انہوں نے اپنے وکیل کے ذریعے دائر کیے گئے دعوے میں کہا کہ علی ظفر کا 20 دسمبر 2020 کا ری ٹوئٹ اور 22 دسمبر کا ٹوئٹ جھوٹ پر مبنی ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ علی ظفر کے ان سے متعلق ٹوئٹس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا جائے۔

لینا غنی نے کہا کہ دونوں ٹوئٹ اور ری ٹوئٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ علی ظفر کے خلاف مہم میں لینا غنی کا ہاتھ ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ دونوں ٹوئٹس لینا غنی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور عوام کی نظروں میں انہیں نیچا دکھانے کے لیے کیے گئے تھے۔

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ علی ظفر نے پہلی مرتبہ 2014 میں لندن میں ایک فیشن ایونٹ کے دوران انہیں ہراساں کیا تھا جبکہ جون 2014 میں دو مرتبہ نازیبا گفتگو بھی کی تھی۔

درخواست گزار کے مطابق اس حوالے سے انہوں نے اپنی بہن اور دوستوں کو بھی آگاہ کیا تھا۔

درخواست کے مطابق علی ظفر نے جولائی 2014 میں بہت بڑی کمپنی میں کام کی آفر بھی کی جس پر انہوں نے شائستگی سے انکار کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: میشا شفیع نے ’جنسی ہراساں‘ کیس پر سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

درخواست میں کہا گیا کہ 2018 معروف گلوکارہ میشا شفیع نے بھی علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے اور ان کے خلاف ہراسانی کا مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ قرار دیا جائے کہ علی ظفر کے خلاف درخواست گزار کسی آن لائن مہم کا حصہ نہیں ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ علی ظفر کو ان کے خلاف سوشل میڈیا سمیت آن لائن، ٹی وی چینلز پر مواد اور خبریں چھپوانے سے روکا جائے۔

اس کے ساتھ ہی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ خدشہ ہے کہ ایسے مواد اور خبروں کے ذریعے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

علاوہ ازیں لینا غنی نے اپنی درخواست میں یہ مؤقف بھی دیا کہ ان کا گلوکارہ میشا شفیع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی انہیں ذہنی اذیت دینے پر علی ظفر سے 50 کروڑ روپے کا معاوضہ دلوایا جائے۔

بعد ازاں عدالت نے سوشل میڈیا پر خاتون میک اپ آرٹسٹ لینا غنی کو مبینہ طور پر بدنام کرنے کے الزام میں دائر کیے گئے 50 کروڑ کے ہرجانے پر علی ظفر کو نوٹس جاری کردیا۔

خیال رہے کہ میشا شفیع نے جولائی 2018 میں علی ظفر پر اپنی ٹوئٹ کے ذریعے جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا، جسے علی ظفر نے مسترد کردیا تھا۔

مذکورہ معاملے پر دونوں نے ایک دوسرے پر ہرجانے کے دعوے بھی دائر کر رکھے ہیں اور علی ظفر کے ہتک عزت کیس کی گزشتہ 2 سال سے سماعتیں جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ میں میشا شفیع ہراسانی کیس سماعت کے لیے مقرر

علاوہ ازیں علی ظفر نے میشا شفیع سمیت دیگر خواتین کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں جھوٹی مہم چلانے کی درخواست بھی دائر کی تھی، جس پر حال ہی میں ایف آئی اے نے قرار دیا کہ ان کی تحقیقات کے مطابق علی ظفر کے خلاف جھوٹی مہم چلائی گئی اور ایف آئی اے نے ٹرائل کورٹ سے میشا شفیع سمیت دیگر افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست بھی کی تھی جن میں لینا غنی کا نام بھی شامل تھا۔

میشا شفیع اور علی ظفر کے جنسی ہراسانی کے کیس کو ڈھائی سال گزر جانے کے باوجود تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا اور ان کے معاملے پر شوبز شخصیات سمیت دیگر اہم سیاسی و سماجی شخصیات بھی منقسم دکھائی دیتی ہیں۔