بابراعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم معطل

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2021

ای میل

عدالت نے بابر اعظم کے خلاف اندراج مقدمہ کے حکم کو معطل کردیا — فائل فوٹو : اے ایف پی
عدالت نے بابر اعظم کے خلاف اندراج مقدمہ کے حکم کو معطل کردیا — فائل فوٹو : اے ایف پی

لاہور ہائی کورٹ نے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا سیشن کورٹ کا حکم معطل کرتے ہوئے متعلقہ ایس ایچ او کے ساتھ ساتھ درخواست گزار حامزہ مختار سے تحریری جواب طلب کر لیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے بابراعظم کی درخواست پر سماعت کی جس میں اندراج مقدمے کی درخواست پر ماتحت عدالت کے احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: خاتون کے قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم پر جنسی تعلق سمیت دیگر سنگین الزامات

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے وکیل حارث عظمت ایڈووکیٹ نے نشاندہی کی کہ سیشن عدالت نے حقائق کے برعکس بابر اعظم کے خلاف اندراج مقدمہ کا حکم دیا ہے اور حامزہ مختار نے بابر اعظم کو بلیک میل کرنے کے لیے بے بیناد درخواست دائر کی۔

وکیل نے کہا کہ خاتون نے 2018 میں ہی بابر اعظم سے صلح کی تھی اور معاملہ ختم ہو گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے بھی دھمکی آمیز کالز موصول ہونے کے حامزہ مختار کے دعوے پر منفی رپورٹ پیش کی لیکن سیشن عدالت نے شواہد کے بغیر بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

ایڈووکیٹ حارث عظمت نے استدعا کی کہ بابر اعظم کے خلاف اندراج مقدمہ کے حکم پر عملدرآمد روکا جائے اور قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کے خلاف اندراج مقدمہ کی کارروائی غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کی جائے۔

عدالت نے بابر اعظم کے وکیل کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا سیشن کورٹ کا حکم معطل کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس کو بابر اعظم پر الزامات لگانے والی خاتون کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم

عدالت نے خاتون حامزہ مختار کے ساتھ متعلقہ ایس ایچ او کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر تحریری جواب طلب کر لیا۔

درخواست پر مزید سماعت 8 فروری کو ہو گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کی سیشن کورٹ نے نصیرآباد پولیس کو پاکستان کرکٹ کپتان بابر اعظم کے خلاف فوجداری ضابطہ اخلاق کی دفعہ 154 کے تحت خاتون کا بیان قلمبند اور قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا تھا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد نعیم نے حمزہ مختار کے ذریعے دائر درخواست کو نمٹاتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ ملزم پر اسقاط حمل اور شادی کی جھوٹی یقین دہانی پر دھوکا دہی سے جسمانی تعلق جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، درخواست گزار کی درخواست کو بغور پڑھنے سے بادی النظر میں قابل سزا جرم کا کمیشن بنایا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جج نے نصیر آباد اسٹیشن ہاؤس آفیسر کو ہدایت کی کہ وہ خاتون کا بیان فوجداری ضابطہ اخلاق کی دفعہ 154 کے تحت درج کریں اور قانون کے مطابق سختی سے آگے بڑھیں، جج نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ پولیس رپورٹ درخواست کے حقائق سے یکسر مختلف ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ میں بابراعظم کے اہلخانہ کے خلاف خاتون کی ہراسانی کی درخواست

محترمہ حامزہ مختار نے درخواست میں بابر اعظم پر الزامات عائد کیے کہ انہوں نے جنسی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے شادی کے جھوٹے وعدے کیے، انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2015 میں وہ بابر اعظم کے بچے کے ساتھ حاملہ ہوگئی تھیں لیکن انہیں اسقاط حمل کروانا پڑا تھا۔

کرکٹر کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار نے پہلے بھی یہی الزامات عائد کرنے والی ایک درخواست واپس لے لی تھی اور متعلقہ تھانے میں بیان حلفی جمع کرایا تھا، انہوں نے اسقاط حمل کے الزام کو بھی متنازع قرار دیا۔