کورونا وائرس کو آغاز میں پکڑنے والی منفرد ڈیوائس

16 جنوری 2021

ای میل

بائیو بٹن — فوٹو بشکریہ بائیو انٹیلی سنس
بائیو بٹن — فوٹو بشکریہ بائیو انٹیلی سنس

کورونا وائرس کی وبا میں کمی لاکر معاشرتی سرگرمیوں کو کسی حد تک معمول پر لانے کے لیے کافی کچھ کیا جارہا ہے۔

اس حوالے سے نئی ٹیکنالوجیز پر بھی کام ہورہا ہے جن میں سے ایک ڈسپوزایبل وائرلیس ڈیوائس ہے جو لوگوں کو کورونا وائرس کی علامات سے خبردار کرنے کا کام کرتی ہے۔

لاس ویگاس میں سی ای ایس ٹیکنالوجی نمائش کے دوران بائیوبٹن نامی اس ڈیوائس کو پیش کیا گیا۔

بائیو انٹیلی سنس نامی کمپنی نے اس ڈیوائس کو تیار کیا جس کا حجم بہت چھوٹا ہے اور اسے اسٹیکر کی طرح سینے پر چپکایا جاسکتا ہے۔

سینے پر لگنے کے بعد یہ ڈیوائس پہننے والے کی دھڑکنوں کی رفتار، جسمانی درجہ حرارت، جسمانی سرگرمیوں، نیند اور سانس کی رفتار کو مسلسل مانیٹر کرتی ہے۔

اسے بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ کچھ دنوں میں بائیوبٹن اتنا ڈیٹا اکٹھا کرلیتا ہے جو ممکنہ کووڈ 19 کی علامات کو شناخت کرنے میں مدد دیتا ہے، چاہے صارف بیمار نہ بھی ہو۔

فوٹو بشکریہ بائیو انٹیلی سنس
فوٹو بشکریہ بائیو انٹیلی سنس

اس ڈیوائس کو بائیو انٹیلی سنس نے امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔

امریکن کالج آف کارڈیالوجی نے اس ڈیوائس سے رواں سال مئی میں شیڈول سالانہ اجلاس کے دوران عملے کی کووڈ اسکریننگ کی جائے گی۔

یو سی ہیلتھ کی جانب سے بھی اس ڈیوائس کو طبی عملے کے ان افراد کو مانیٹر کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، جن کو کورونا وائرس ویکسینز کا استعمال کرایا گیا۔

بائیو انٹیلی سنس کو توقع ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے تفریحی سفر اور دفاتر کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔

ویسے تو کورونا وائرس کی علامات شناخت کرنے والی ویئر ابیل ڈیوائسز جیسے فٹ بٹ ایا اورا رنگز کو بھی تیار کیا گیا ہے، مگر یہ ڈیوائسز تاحال تحقیقی مراحل سے گزر رہی ہیں۔

اس کے مقابلے میں بائیوبٹن کو امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے منظوری دی جاچکی ہے۔

کمپنی کے مطابق اس ڈیوائس کے ابتدائی ورژن میں یہی سنسرز استعمال کیے گئے تھے، جن سے دھڑکنوں کی رفتار، جسمانی درجہ حرارت اور سانس کی رفتار کا مستند ڈیٹا حاصل ہوا۔

کمپنی نے تسلیم کیا کہ اس کا سافٹ ویئر اتنا اچھا ہے جو کسی بیماری کی علامات کو جلد شناخت کرسکتا ہے، تاہم وہ کورونا وائرس اور فلو کے درمیان فرق کو ظاہر نہیں کرسکتا۔

تاہم کمپنی کا کہنا تھا کہ وائٹل سائنز کی مسلسل مانیٹرنگ یقیناً جسمانی درجہ حرارت چیک کرنے کے مقابلے میں زیادہ کارآمد ثابت ہوگا۔