راولپنڈی: کم عمر معذور ملازمہ پر ’تشدد‘ کے الزام میں گرفتار جوڑا جیل منتقل

18 جنوری 2021

ای میل

ملازمہ کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو منتقل کردیا گیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
ملازمہ کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو منتقل کردیا گیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

راولپنڈی: سیٹلائٹ ٹاؤن میں 10 سالہ معذور ملازمہ پر تشدد کے الزام میں ایک جوڑے کو گرفتار کرلیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیدائشی طور پر دائیں پاؤں سے معذور ساہیوال سے تعلق رکھنے والی لڑکی سیٹلائٹ ٹاؤن کے بلاک ’بی‘ میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔

لڑکی پر تشدد کے الزام میں جوڑے کی گرفتاری بنی پولیس کی جانب سے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے بعد عمل میں آئی۔

بعد ازاں ان دونوں کو اتوار کو ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے کے بعد 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔

مزید پڑھیں: راولپنڈی: پنجرے سے طوطے آزاد کرانے پر 8 سالہ بچی مالکان کے تشدد کے باعث جاں بحق

واضح رہے کہ جوڑے نے لڑکی کو تقریباً 6 ماہ قبل اسلام آباد میں واقع ایک نجی کمپنی کے ذریعے ملازمت پر رکھا تھا۔

مذکورہ واقعے کی نشاندہی اس وقت ہوئی جب جوڑے کے پڑوس میں رہنے والے ایک سیکیورٹی گارڈ طارق محمود نے گھر سے لڑکی کے چلانے کی آوازیں سنیں۔

طارق محمود نے اپنے بیان میں کہا کہ ’تشدد اور لڑکی کے چلانے کی آوازیں معمول بن چکی تھیں‘۔

دوسری جانب چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے سینئر ڈسٹرکٹ آفیسر سید علی عابد نقوی نے ڈان کو بتایا کہ لڑکی کو بیورو منتقل کردیا گیا اور سرکاری ہسپتال کی جانب سے اس کا طبی معائنہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ لڑکی کو پیر کو مزید قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں یہ بات بھی سامنے آئی کہ لڑکی کو یومیہ 12 گھنٹے کام پر مجبور کیا جاتا تھا اور اسے بچا ہوا کھانا کھانے کو دیا جاتا تھا۔

ادھر لڑکی نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ’ان کے آجر انہیں تھپڑ مارتے اور ٹنڈے سے پیٹتے تھے‘۔

سید علی عابد نقوی نے واقعہ کے رپورٹ ہونے کے بعد چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی ٹیم اور پولیس مذکورہ گھر پر پہنچیں اور لڑکی کو بیورو منتقل کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑکی کے والد سے رابطہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

یاد رہے کہ ملک میں گھریلو ملازمین پر تشدد کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی ملک میں مبینہ طور پر مالکان کی جانب سے گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

نومبر کے آخر اور دسمبر 2020 کے اوائل میں فیصل آباد میں مدینہ ٹاؤن پولیس نے ایڈن ویلی ہاؤسنگ اسکیم میں ایک کم سن لڑکی پر تشدد کے الزام میں ایک خاتون اور ایک مرد کے خلاف مقدمہ درج کرکے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد: گھریلو ملازمہ پر تشدد کے الزام میں ایک شخص گرفتار

سوشل میڈیا پر 11 سالہ گھریلو ملازمہ صدف پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک لڑکے، اس کی والدہ اور انکل، جن کی شناخت رانا منیر کے نام سے ہوئی، انہیں سڑک پر ایک لڑکی کو مارتے اور دھکا دیتے دیکھا گیا تھا، جس کے بعد یہ گرفتاری عمل میں آئی تھی۔

اس سے قبل جون 2020 میں راولپنڈی میں پنجرے سے طوطے آزاد کرانے پر مالکان کے مبینہ تشدد کا شکار ہونے والی 8 سالہ بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی تھی۔

مذکورہ واقعے میں پولیس نے بتایا تھا کہ مشتبہ شخص نے اعتراف کیا کہ پنجرے سے قیمتی پالتو طوطوں کو آزاد کرانے پر انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے زہرہ کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔