راولپنڈی: پنجرے سے طوطے آزاد کرانے پر 8 سالہ بچی مالکان کے تشدد کے باعث جاں بحق

اپ ڈیٹ جون 03 2020

ای میل

کوٹ ادو سے تعلق رکھنے والی بچی کو 4 ماہ قبل ایک سالہ بچے کی دیکھ بھال کے لیے ملازمت پر رکھا گیا تھا— فائل فوٹو: رائٹرز
کوٹ ادو سے تعلق رکھنے والی بچی کو 4 ماہ قبل ایک سالہ بچے کی دیکھ بھال کے لیے ملازمت پر رکھا گیا تھا— فائل فوٹو: رائٹرز

پنجرے سے طوطے آزاد کرانے پر مالکان کے مبینہ تشدد کا شکار ہونے والی 8 سالہ بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عوام سمیت سیاستدانوں نے بھی 8 سالہ بچی کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔

راولپنڈی میں ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی زہرہ کو 31 مئی کو زخمی حالت میں بیگم اختر رخسانہ میموریل ہسپتال لایا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق مشتبہ شخص نے اعتراف کیا کہ پنجرے سے قیمتی پالتو طوطوں کو آزاد کرانے پر انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے زہرہ کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

مزید پڑھیں: 12 سالہ لڑکی کو ریپ کے بعد 80 فٹ گہرے کنویں میں پھینک دیا

تاہم ہسپتال لانے کے کچھ دیر بعد ہی زہرہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئی اور مالکان کو اسی روز گرفتار کرلیا گیا تھا۔

پولیس نے راولپنڈی عدالت سے 6 جون تک دونوں میاں بیوی کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔

متاثرہ بچی کو ہسپتال لانے کے فوراً بعد روات پولیس اسٹیشن میں اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کی جانب سے ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بچی کے چہرے، ہاتھوں، پسلیوں کے نیچے اور ٹانگوں پر زخم تھے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ بچی کے جسم پر موجود نشانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہوسکتا ہے اس پر جنسی حملہ کیا گیا ہو۔

پولیس نے اس حوالے سے معلوم کرنے کے لیے فرانزک ایگزامینیشن کے لیے نمونے بھیجے ہیں جن کی رپورٹ آنا باقی ہے۔

پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302، 376 اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔

بعدازاں پوسٹ مارٹم کے بعد زہرہ کی میت لواحقین کے حوالے کردی گئی جس میں انکشاف ہوا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی: 7 سالہ بچی کا ریپ کے بعد قتل، چچا گرفتار

پولیس کے مطابق پنجاب کے شہر کوٹ ادو سے تعلق رکھنے والی بچی کو 4 ماہ قبل ایک سالہ بچے کی دیکھ بھال کے لیے ملازمت پر رکھا گیا تھا اس وقت مالکان نے اسے تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

مذکورہ واقعے نے ایک مرتبہ پھر پاکستان میں کم عمر بچوں کے استحصال اور چائلڈ لیبر کے قوانین سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی(پی پی پی) کی سینیٹر شیری رحمٰن نے مذکورہ معاملہ اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ چائلڈ لیبر کو روکنا ہے۔

علاوہ ازیں لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز کی استاد ندا کرمانی نے بچوں کی ملازمت کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ استحصال کی بدترین قسم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے بچوں کو زیادتی کا خطرہ ہوتا ہے، ان کے والدین کو ملازمت دیں، انہیں اسکول جانے میں تعاون کریں، ہر کسی کے بچے کو احترام کے ساتھ اپنے بچوں جیسا سمجھیں، ایک مہذب انسان بنیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے بھی واقعے کی مذمت کی۔

دوسری جانب ضلع چکوال میں 6 افراد کی جانب سے 14 سالہ معذور لڑکی کے مبینہ ریپ کا واقعہ بھی سامنے آیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کی تحصیل لاوہ کی پولیس نے 3 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ایک گرفتاری سے قبل ضمانت پر رہا ہوگیا اور دیگر 2 زیر حراست ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ 26 مئی کو نامعلوم شخص ان کے گھر میں زبردستی داخل ہوا اور ان کی بیٹیوں کے جاگنے کے بعد بھاگ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ 'میری ایک 14سالہ بیٹی جو گونگی اور بہری ہے وہ خوفزدہ ہوگئی اور صدمے کا شکار ہوگئی، تسلی دینے کے بعد اس نے اشاروں کی زبان سے گھر میں داخل ہونے والے شخص کی شناخت بتائی۔

لڑکی کی والدہ کے مطابق ان کی بیٹی نے بتایا کہ 6 افراد نے ان کا ریپ کیا جس میں گھر میں داخل ہونے والا شخص بھی شامل تھا۔