سابق فرانسیسی وزیراعظم کے خلاف 'کراچی افیئر' پر مقدمے کی کارروائی

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2021

ای میل

91 سالہ ایڈورڈ بیلاڈور نے کورٹ میں پیشی کے موقع پر موجود صحافیوں کو کوئی بیان نہیں دیا — تصویر: اے ایف پی
91 سالہ ایڈورڈ بیلاڈور نے کورٹ میں پیشی کے موقع پر موجود صحافیوں کو کوئی بیان نہیں دیا — تصویر: اے ایف پی

پیرس: نوے کی دہائی میں صدارتی انتخابی مہم میں معاونت کے لیے اسلحے کی ڈیل میں رشوت لینے کے الزام میں فرانس کے سابق وزیراعظم ایڈورڈ بیلاڈور عدالت میں پیش ہوئے، اس کیس میں 6 افراد کو پہلے ہی قید کی سزا ہوچکی ہے۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 91 سالہ ایڈورڈ بیلاڈور نے کورٹ آف جسٹس آف ریپبلک میں پیشی کے موقع پر موجود صحافیوں کے مجمعے کو کوئی بیان نہیں دیا۔

قدامت پسند جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم فرانسیسی سیاستدانوں کی اس طویل فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے مالی معاملات میں مبینہ گڑبڑ پر مقدمے کا سامنا کیا، ان میں سابق صدر نکولس سرکوزی اور ان کے جانشین جیکوئیس شیراک بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:'کراچی افیئر' نامی رشوت کے مقدمے میں سابق فرانسیسی وزیر اعظم کے ٹرائل کا آج سے آغاز

اس سے کے علاوہ 1993 اور 1995 کے درمیان پاکستان کو آبدوزوں اور سعودی عرب کو فیری گیٹس کی فروخت میں 'کارپوریٹ اثاثوں کے غلط استعمال میں سازش' پر سال 2017 میں 2 خواتین پر بھی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

تفتیش کاروں کو معلوم ہوا کہ اس معاملے میں رشوت کا تخمینہ 13 لاکھ فرینکس ہے جس کی مالیت اب تقریباً 28 لاکھ یورو (33لاکھ ڈالر) ہے۔

کراچی افیئرز کے نام سے معروف مقدمے میں شبہ ہے کہ اس رقم کا ایک بڑا حصہ ایڈورڈ بیلاڈور کی 1995 کی صدارتی انتخابی مہم میں استعمال ہوا جب وہ فرانکوئس میٹرنڈ کے دور صدارت کے آخری سالوں میں وزیراعظم کے عہدے پر فائز تھے۔

مزید پڑھیں: سابق فرانسیسی وزیراعظم کو 'کراچی معاملے' میں تحقیقات کا سامنا

خصوصی طور پر انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ 500 فرانک کے بلز کے ذریعے ایک کروڑ 2 لاکھ 50 ہزار فرانک کی نقد رقم استعمال کی گئی۔

قابل پوچھ گچھ رقم

ایڈورڈ بیلاڈور، جنہیں اپنے خفیہ جرائم کے الزام کا بھی جواب دینا ہے انہوں نے کوئی بھی غلط کام کرنے کی تردید کی اور کہا کہ ایک کروڑ فرانک صدارتی مہم کی ریلیوں میں ٹی شرٹس اور دیگر اشیا کی فروخت سے حاصل ہوئی تھی۔

مذکورہ دعوے کراچی پاکستان میں 2002 میں ہونے والے ایک بم دھماکے کی تحقیقات میں سامنے آئے تھے جس میں فرانسیسی انجینیئرز کو لے جانے والی بس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس دھماکے میں 15 افراد مارے گئے تھے جن میں آبدوزوں پر کام کرنے والے 11 فرانسیسی انجینیئرز بھی تھے اور اس حملے کا ابتدائی شک القاعدہ کے دہشت گردی نیٹ ورک پر ظاہر کیا گیا تھا۔

تاہم بعد میں جب تفتیش کاروں کا دھیان اس جانب گیا کہ کہیں یہ حملہ بیلاڈور کو صدارتی انتخاب میں شکست دینے کے بعد جیکوئیس شیراک کی جانب سے اسلحے کی ڈیل میں کمیشن کی ادائیگی روکنے کے فیصلے پر انتقام لینے کے لیے تو نہیں کیا گیا، اس وقت سے اس کا شبہ آبدوزوں کے معاہدے پر منتقل ہوگیا۔