آڈیٹر جنرل پاکستان سے براڈشیٹ کے معاملے پر تحقیقاتی رپورٹ طلب

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2021

ای میل

پی اے سی نے آڈیٹر جنرل سے رپورٹ مانگ لی—فائل فوٹو: آڈیٹر جنرل ویب سائٹ
پی اے سی نے آڈیٹر جنرل سے رپورٹ مانگ لی—فائل فوٹو: آڈیٹر جنرل ویب سائٹ

اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے آڈیٹر جنرل پاکستان (اے جی پی) جاوید جہانگیر کو کہا ہے کہ وہ براڈشیٹ کے معاملے پر تحقیقات کریں اور 10 روز میں رپورٹ پیش کریں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی اے سی چیئرمین رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ اگر رپورٹ میں نیب کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے تو غیرملکی کمپنی کو ادا کی گئی رقم قومی احتساب بیورو (نیب) سے وصول کی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستانی حکومت نے برطانیہ کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد براڈشیٹ کمپنی کو 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی تھی۔

براڈشیٹ کمپنی نے اثاثہ جات ریکوری معاہدے (اے آر اے) کے تحت نیب کو پاکستانی شہریوں کے آف شور اثاثوں کی نشاندہی کرکے دینے کے لیے پاکستان سے لاکھوں ڈالرز کا دعویٰ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ نے براڈ شیٹ معاملے کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی

یاد رہے کہ سال 2000 میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں نیب نے برطانوی کمپنی سے خدمات حاصل کی تھیں کہ وہ بیرون ملک چھپی پاکستانیوں کی غیرقانونی دولت کا پتا لگائے تاہم 2004 میں یہ معاہدہ ختم ہوگیا تھا۔

پی اے سی اراکین کا یہ بھی مؤقف تھا کہ رقم نیب سے وصول کی جانی چاہیے تاکہ انسداد بدعنوان ادارے کے لیے ایک تاثر قائم ہو جو ان کے بقول بدعنوانی کے معاملات میں صرف اپوزیشن رہنماؤں کو ہدف بنا رہا ہے۔

اس موقع پر جب ایک رکن نے اسے ایک اور غیر ملکی فنڈنگ کیس قرار دیا تو سینیٹر مشاہد حسین سید نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ ایک فنڈنگ فارن کیس‘ تھا کیونکہ برطانوی کمپنی ایک بھاری رقم ادا کی گئی۔

اس سے قبل 14 جنوری کو پی اے سی نے براڈشیٹ پر اے جی پی سے رپورٹ طلب کی تھی۔

اے جی پی جاوید جہانگیر نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کے خط کے جواب میں نیب 20 جنوری تک ریکارڈ فراہم کرنے کے لیے تیار تھا، لہٰذا انہوں نے کمیٹی سے کہا کہ مذکورہ معاملے پر تحقیقات مکمل کرنے کے لیے کم از کم 10 روز دیے جائیں۔

دوران اجلاس کمیٹی کے رکن سید نوید قمر نے یاد دلایا کہ کیس سے متعلق بہت قیاس آرائیاں ہورہی ہیں لہٰذا پی اے سی عوام کو حقائق سے متعلق آگاہی دینا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آڈیٹرز کو اسے معمول کا کام کی طرح نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے اپنی اولین ترجیح بنائیں۔

آڈیٹر جنرل پاکستان جاوید جہانگیر کا کہنا تھا کہ چونکہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والی کمپنی سے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے تو آڈیٹرز کو لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر سمیت وزارت خارجہ سے متعلقہ مواد حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

اس پر پی اے سی چیئرمین نے کہا کہ اس معاملے نے ملک میں سیاسی ماحول کو متاثر کیا ہے اور ’ہمیں معاہدے کے ذمہ دار حکام پر ذمہ داری عائد کرنے کی ضرورت ہے‘۔

علاوہ ازیں کمیٹی نے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے آڈٹ پیراس کا بھی جائزہ لیا، جہاں موٹرویز کے مختلف سیکشنز پر ضرورت سے زیادہ ٹول پلازہ قائم کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

حنا ربانی کھر نے تجویز دی کہ مختلف سیکشنز پر ٹول ٹیکس وصولی کے بجائے کمیوٹر آخری ایگزٹ (اخراج) پر مجموعی رقم چارج کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: براڈ شیٹ معاملے میں کی گئی ادائیگی، ماضی کی ڈیلز کی قیمت ہے، شہزاد اکبر

اس پر این ایچ اے چیئرمین کیپٹن (ر) سکندر قیوم کا کہنا تھا کہ چونکہ مختلف سیکشنز کے لیے ایک سے زائد کمپنیوں کو ٹول کلیکشن کے لیے ٹھیکے دیے گئے ہیں تو ان کمپنیوں نے اپنے متعلقہ سیکشنز کے داخلی راستوں پر کلیکشن پوائنٹس قائم کرلیے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ سسٹم کو اپ گریٹ کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں لیکن عارضی انتظام کے طور پر ٹول پلازوں پر اضافی لائنز قائم کی جارہی ہیں۔

اسی بات کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور پی اے سی کے رکن راجا ریاض نے چیئرمین سے درخواست کی کہ وہ پنڈی بھٹیاں پر این ایچ اے کو ٹول ٹیکس وصول کرنے سے روکے۔

جس پر تنویر حسین راجا ریاض سے معاملہ وزیر مواصلات کے ساتھ اٹھانے کا کہا لیکن راجا ریاض نے کہا کہ مراد سعید کبھی میری نہیں سنتے۔


یہ خبر 20 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی