فارن فنڈنگ کی تحقیقات ہوئیں تو عمران خان کا بھی 'فالودہ والا' نکل آئے گا، پی ڈی ایم

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2021

ای میل

پی ڈی ایم وفد نے یاد داشت الیکشن کمیشن میں جمع کرادی—فوٹو: ڈان
پی ڈی ایم وفد نے یاد داشت الیکشن کمیشن میں جمع کرادی—فوٹو: ڈان

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں زیر سماعت فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد کرنے کے لیے یاد داشت پیش کردی اور کہا کہ ادارے تحقیقات کریں تو عمران خان کا بھی فالودہ والا نکل آئے گا۔

اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے باہر سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ 'آج پی ڈی ایم کا وفد چیف الیکشن کمشنر سے ملا اور علامتی مظاہرہ کیا کیونکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا فارن فنڈنگ کیس 6 سال سے التوا کا شکار ہے'۔

مزید پڑھیں: پی ڈی ایم کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج، فارن فنڈنگ کیس نمٹانے کا مطالبہ

ان کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس میں 'الیکشن کمیشن خود قرار دے چکا ہے کہ پی ٹی آئی نے قانون کا غلط استعمال کرکے اس پورے عمل کو التوا میں ڈالنے کی کوشش کی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'کبھی وہ درخواست کرتے ہیں کہ اس کارروائی کو خفیہ رکھا جائے، کبھی درخواست دیتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار نہیں ہے لیکن یہ تمام قانونی مسائل حل ہوچکے ہیں'۔

احسن اقبال نے کہا کہ 'مارچ 2018 میں جو اسکروٹنی کمیٹی بنائی گئی تھی اس کا مینڈیٹ ایک ماہ تھا کہ وہ ایک ماہ میں پی ٹی آئی کے فنڈز کی اسکروٹنی کرکے رپورٹ پیش کرنی تھی لیکن تاحال عمل مکمل نہیں ہوسکا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 20 نومبر 2019 کو اپوزیشن کا نمائندہ وفد چیف الیکشن کمشنر کے پاس آیا تھا اور درخواست کی تھی کہ اس معاملے کو جلد از جلد نمٹایا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے اس مسئلے کا فیصلہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے، ایک سیاسی جماعت نے ممنوعہ ذرائع سے نہ صرف فنڈنگ حاصل کی بلکہ منی لانڈرنگ کی، امریکا کے اندر امریکا کے قوانین کی خلاف ورزی کی'۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس پر ایک نظر

رہنما مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ 'وہ جماعت اعتراف جرم کر چکی ہے، کہا جارہا ہے ایجنٹس نے گڑ بڑ کی جبکہ پاکستان کا قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ جو بھی ایجنٹ مقرر ہوگا، پرنسپل اس کا ذمہ دار ہوگا اور ایجنٹس عمران خان نے خود مقرر کیے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ان تمام ایجنٹس کا ایڈریس بھی پی ٹی آئی کے تھے اور وہ ان کے اپنے نمائندے تھے جن کو یہ مقرر کرتے تھے، جب پی ٹی آئی بھی اعتراف کر چکی ہے کہ اس نے قانونی کی خلاف ورزی کی ہے، ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی ہے'۔

'ادارے تحقیقات کریں تو عمران خان کا منیجر کروڑ پتی نکلے گا'

ان کا کہنا تھا کہ 'اگر نیب، ایف آئی اے اور پاکستان کے تحقیقاتی ادارے فارن فنڈنگ کی تحقیقات کریں تو پتا چلے گا کہ عمران خان کا بھی فالودہ والا نکل آئے گا، عمران خان کا خانساما اور منیجر بھی کروڑ پتی نکلے گا کیونکہ عمران خان اپنے ملازمین کے نام پر کروڑوں روپے باہر سے منی لانڈرنگ کرکے یا پھرہنڈی کے ذریعے منگاتے رہے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'وہ شخص جو ملک میں سب سے رسیدیں مانگتا تھا اور جب اپنی رسیدیں دینے کی باری آئی ہے تو مسلسل التوا کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں'۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'ہمارے دیہات میں جب کوئی شخص قتل کرتا ہے اور اس کا جرم پکڑا جاتا ہے تو وہ اپنے بچاؤ کی خاطر مدعی پر کراس پرچہ کرانے کی کوشش کرتا اور اب پی ٹی آئی بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی پر کراس پرچے کرکے بچنا چاہتی ہے لیکن بچ نہیں سکے گی'۔

مزید پڑھیں: تحریک انصاف کے زیرِ استعمال 18 خفیہ بینک اکاؤنٹس کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ 'مسلم لیگ (ن) نے کوئی ممنوعہ فنڈنگ حاصل نہیں کی اور کوئی ایسا اکاؤنٹ نہیں ہے جس کو ہم نے چھپایا ہو جبکہ پی ٹی آئی نے درجنوں اکاؤئنٹس چھپائے ہیں'۔

احسن اقبال نے کہا کہ 'ہم اُمید کرتے ہیں اور الیکشن کمشنر نے بھی ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ میرٹ کے اوپر اس عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس الیکشن کمیشن کو قومی اتفاق رائے سے چنا گیا ہے اور اہم اُمید رکھتے ہیں کہ یہ اپنا کام غیر جانب داری سے، بغیر کسی دباؤ کے اور شفاف انداز میں اس معاملے کو نمٹا کر سیاست کے اندر الیکشن کمیشن کے غیر جانب دار کردار کو بحال کرے گا'۔

انہوں نے کہا کہ 'اس الیکشن کمیشن نے اگلے انتخابات بھی کرانے ہیں اور سب کی اُمید ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کو اگر میرٹ اور شفاف انداز میں نمٹائے گا تو 2018 کے انتخابات میں الیکشن کمیشن کی ساکھ متاثر ہوئی ہے وہ بحال ہوسکتی ہے'۔

یاد داشت میں جلد فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، راجا پرویز اشرف

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف نے کہا کہ 'پی ڈی ایم کا کل یہاں ایک یاد داشت جمع کرانے آئی تھی لیکن دیر ہونے کی وجہ سے پیش نہیں کی جاسکی اور آج صدر پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمٰن کی ہدایت پر وفد آیا اور یاد داشت چیف الیکشن کمشنر کو پیش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کے ذرائع ای سی پی کو فراہم کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی الیکشن کے دوران جب کسی جماعت سے کوئی غیر قانونی کام ہوا ہے تو اس کا بروقت ایکشن نہ کرنا سب سے بڑی بے انصافی ہوتی ہے اور 6 سال سے پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ پر فیصلہ نہیں دے سکا اور اس سے سارے نظام پر سوالیہ نشان آتا ہے اور جمہوریت ڈلیور نہیں کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم نے یاد داشت میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کے تمام ثبوت آچکے ہیں جو ان کے اپنے بانی رکن کی طرف سے دائر درخواست ہے، اس پر فوری فیصلہ کیا جائے تا کہ انصاف پر مبنی سلسلہ شروع ہو اور ہم اُمید کریں تاکہ اگلے انتخابات بھی شفاف ہوں۔

راجا پرویز اشرف نے کہا کہ پی پی پی کی طرف سے واشگاف الفاظ میں یہ بات ریکارڈ میں لانا چاہتا ہوں اور عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری کوئی غیر قانونی فارن فنڈنگ نہیں ہے اور جب الیکشن کمیشن کہے گا ہم ریکارڈ دینے کو تیار ہیں۔