فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت نہیں ہو سکتی، الیکشن کمیشن

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2021

ای میل

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فارن فنڈنگ کیس کی اوپن سماعت کو مسترد کردیا — فائل فوٹو: اے ایف پی
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فارن فنڈنگ کیس کی اوپن سماعت کو مسترد کردیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ ان کی اسکروٹنی کمیٹی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی طاقت اور حیثیت رکھتی ہے اور وہ غیر ملکی فنڈنگ ​​کیس کی کھلی سماعت نہیں کر سکتی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے اپنے ڈائریکٹر تعلقات عامہ الطاف احمد کے دستخط کے ساتھ جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو کمیٹی کو کیس کی کارروائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں: فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ٹی وی پر براہ راست دکھائی جائے، وزیراعظم

یہ بیان وزیراعظم عمران خان کی جانب سے غیر ملکی فنڈنگ ​​کیس میں عوامی سماعت کی تجویز کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ اسے براہ راست نشر کیا جانا چاہیے، وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی فنڈنگ ​​کیس کی کارروائی کو براہ راست ٹی وی پر نشر کیا جانا چاہیے تاکہ عام لوگوں کو ہر چیز کا پتا چل سکے۔

تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کے بیان میں کہا گیا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی سفارشات موصول ہونے کے بعد کمیشن غیر ملکی فنڈنگ ​​کیس میں کھلی سماعت کرے گا جس کو فریقین کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد کمیشن جلد سے جلد میرٹ پر کیس کا فیصلہ کرے گا، کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بغیر کسی خوف و دباؤ کے کیس کا فیصلہ کرے گا، انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی فنڈنگ ایک 'اہم اور حساس' معاملہ ہے اور اس میں میرٹ پر مبنی فیصلہ 'قومی مفاد' کا باعث ہوگا۔

کمیشن نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بغیر کسی ثبوت کے کیس پر غیر ضروری تبصرے کرنے سے گریز کریں تاکہ وہ پوری توجہ کے ساتھ کیس کو آگے بڑھا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: فارن فنڈنگ کیس پاناما-ٹو بنے گا، شیخ رشید

دوسری جانب درخواست گزار اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی اپنے فرائض صداقت، شفافیت اور ریفرنس کی شرائط (ٹی او آر) کے مطابق انجام دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان تحفظات کی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے 27 اگست 2020 کے حکم میں توثیق کی ہے جب اس نے یہ کہتے ہوئے 17 اگست 2020 کی کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد کردیا تھا کہ کمیٹی نے نہ تو ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی اور نہ ہی دستاویزات سے شواہد کا جائزہ لیا ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی کارکردگی پر واضح فرد جرم عائد کرنے کے باوجود کمیٹی کو دوبارہ موقع دیا گیا کہ پی ٹی آئی کے غیر ملکی فنڈز کی جتنی جلدی ممکن ہو جانچ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے 27 اگست سے 20 جنوری 2020 کے درمیان کمیٹی نے قانون اور ٹی او آر کی جانچ پڑتال کے مطابق کورس میں اصلاح سے انکار کردیا، اکبر ایس بابر نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب پی ٹی آئی کے کھاتوں اور دیگر مالی دستاویزات کو اس کے ساتھ شیئر کرنے کی دوبارہ درخواست کی گئی تو کمیٹی نے 'پی ٹی آئی کے دستاویزی دباؤ کے تحت' صاف طور پر انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اسکروٹنی کمیٹی نے اپنی آخری میٹنگ میں تو یہاں تک کہ عمران خان کی تحریری ہدایات کے تحت درج دو امریکی کمپنیوں سے غیر قانونی فنڈنگ ​​کے بارے میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ڈاؤن لوڈ کیے جانے والے ثبوت کی توثیق کرنے کی تحریری وابستگی پر بھی تجدید کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت کی کمی پر درخواست گزار کے حقیقی خدشات کو دور کرنے کے بجائے کمیٹی نے واک آؤٹ کرنے کا انتخاب کیا جو خود ہی غیر معمولی تھا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس پر ایک نظر

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اسکروٹنی کمیٹی نے اپنی آخری میٹنگ میں تو یہاں تک کہا تھا کہ یا تو عمران خان تحریری یقین دہانی کرائیں یا پھر عمران خان کی تحریری ہدایات کے تحت درج دو امریکی کمپنیوں سے غیر قانونی فنڈنگ ​​کے بارے میں امریکی محکمہ انصاف سے ثبوت ڈاؤن لوڈ کر لیے جائیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت کی کمی پر درخواست گزار کے حقیقی خدشات کو دور کرنے کے بجائے کمیٹی نے واک آؤٹ کرنے کا انتخاب کیا جو خود ہی غیر معمولی اقدام تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا دعویٰ ہے کہ اسکروٹنی کمیٹی بالکل جے آئی ٹی کی طرح ہے، یہ اپنی نوعیت کی واحد جے آئی ٹی ہوگی جو نہ ہی خود مختار ہے اور نہ ہی شواہد کی تحقیقات اور توثیق کے لیے منصفانہ اور فعال ہے۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے لیے آگے جانے کا واحد راستہ یہ تھا کہ وہ کمیٹی سے تمام دستاویزات کا ریمانڈ حاصل کرے اور اگر کسی قابل اعتماد نتیجے پر پہنچنے میں سنجیدہ ہے تو اس کی براہ راست نگرانی میں آزاد تفتیش کرے۔