وزیر اعظم اور کابینہ کی کارکردگی کیسے بہتر ہوگی؟

27 جنوری 2021

ای میل

لکھاری ڈان کے سابق ایڈیٹر ہیں۔
لکھاری ڈان کے سابق ایڈیٹر ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری دیکھتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان کے دل میں حسد کے جذبات تو پیدا ہوئے ہوں گے کیونکہ عمران خان امریکی صدارتی نظام کے حوالے سے اپنی پسند کا بارہا اظہار کرچکے ہیں۔

وہ اپنے کئی انٹرویوز میں بتا چکے ہیں کہ وہ ان اصولوں کو رکاوٹ کی طرح دیکھتے ہیں جن کی وجہ سے کابینہ کی کچھ نشستیں منتخب ممبران کو دینا ضروری ہیں حالانکہ وہ ان کو ماہرین کے حوالے کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ امریکی صدر کرتا ہے۔

انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد سے ہی جو بائیڈن کو کورونا کی صورتحال کے ساتھ ساتھ معیشت، ایمیگریشن، دفاع، صحت اور اس جیسے دیگر شعبوں کے حوالے سے بریفنگ ملنا شروع ہوگئی تھی۔ یہ وہ شعبے تھے جن پر ان کی انتظامیہ نے فوری کام کرنا تھا۔

ہوسکتا ہے کہ یہ عمل بھی وزیرِاعظم کے لیے حسد کا باعث بنا ہو۔ وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کو تیاری کے لیے بہت وقت ملتا ہے (یعنی انتخابات اور حلف برداری کے دوران ڈھائی ماہ کا وقفہ ہوتا ہے) اور جس وقت وہ منصب سنبھالتے ہیں تب تک انہیں معاملات کا مکمل فہم حاصل ہوچکا ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں جب عمران خان انتخابات میں کامیاب ہوئے تو انہیں اہم معاملات کے حوالے سے اس وقت ہی بریف کیا گیا جب انہوں نے وزیرِاعظم کا حلف اٹھایا اور وہ ڈھائی سال گزرنے کے بعد اب تک سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ تو کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس سے ان کی حکومت متاثر ہورہی ہے؟

شاید وہ فیصلہ سازی کی آزادی کو یاد کررہے ہیں جس کی وجہ سے وہ 1992ء کا ورلڈ کپ جیتے تھے۔ وہ اس دور کو اپنے کیریئر کا عروج تصور کرتے ہیں۔ انہیں اس وقت اس بات کی آزادی تھی کہ وہ جس کھیل کو پوری طرح سے سمجھتے ہیں اس کے لیے بہترین کھلاڑی منتخب کریں۔ انہوں نے ایک ایسی ٹیم کو ایک زخمی شیر سے تشبیہہ دے کر حوصلہ دیا، جو گروپ مرحلے میں ہی ورلڈ کپ سے باہر ہونے کو تھی ۔

ان کی حکمتِ عملی کامیاب بھی رہی۔ اپنے ابتدائی 5 گروپ میچوں میں سے 4 میچ ہارنے کے بعد پاکستانی ٹیم نے لگاتار 3 میچ جیت کر سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرلی۔ سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف حاصل ہونے والی جیت نے انہیں ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچا دیا۔ پھر جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

پاکستانی ٹیم کو عمران خان کی قیادت اور کارکردگی کا فائدہ ہوا لیکن انہیں جاوید میانداد کے مشورے بھی حاصل رہے اور ساتھ ہی ان کے پاس انضمام الحق، وسیم اکرم، مشتاق احمد، رمیز راجہ، اور معین خان جیسے بہترین کھلاڑی بھی موجود تھے جو ضرورت کے وقت ٹیم کا سہارا بنے۔

عمران خان کو آج بھی پاکستان کی قیادت ملی ہوئی ہے لیکن ملک اب تک ان کی کارکردگی دیکھنے سے محروم رہا ہے۔ 1992ء میں انہوں نے جن لوگوں کا انتخاب کیا تھا انہوں نے تو اپنی کارکردگی دکھا دی لیکن حکومت کے لیے انہوں نے جن وزرا کا تقرر کیا ان میں اسد عمر، مراد سعید، فیصل واؤڈا اور ’جان اللہ کو دینی ہے‘ کہنے والے شہریار آفریدی شامل تھے۔ بعد میں شبلی فراز بھی اس فہرست کا حصہ بن گئے۔

پھر درجن بھر کے قریب مشرف دور کے وزرا بھی شامل ہیں جن کی کارکردگی بھی اب تک صفر رہی ہے۔ ان میں سے کچھ نے ملک کو واقعی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان میں وزیر برائے ہوابازی سرور خان بھی شامل ہیں جنہیں درست طور پر ’پی آئی اے کا جلاد‘ کہا جاتا ہے۔ مشرف دور کے ساتھ عمران خان کا یہ نفرت اور محبت کا رویہ حیران کن ہے۔

معاملہ جو بھی ہو یہ پارلیمان کے منتخب رکن تھے اور وزیرِاعظم کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا کہ ان میں سے کچھ کو کابینہ کا حصہ بنایا جائے، لیکن جن لوگوں کو وزیرِاعظم نے پارلیمان کے باہر سے کابینہ میں شامل کیا ہے، کیا ان کی کارکردگی بہتر رہی؟

وزیرِاعظم کے پاس شہباز گل، عثمان ڈار، ندیم بابر، رؤف حسن، معید یوسف، شہزاد اکبر جیسے مشیروں اور معاونین خصوصی کی فوج ظفر موج ہے۔ روزانہ ٹی وی پر آنے اور میڈیا سے بات کرنے کے علاوہ انہوں نے بھی کوئی ٹھوس کارکردگی نہیں دکھائی۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ وزیرِاعظم اکثر یہ بات کہتے ہیں کہ برطانیہ میں 18 سال کرکٹ کھیلنے کے تجربے نے انہیں وہاں کی جمہوریت اور میڈیا کے کام کرنے کے طریقے کے حوالے سے بہت کچھ سکھایا لیکن لگتا ایسا ہے کہ ان کی سیاسی تربیت میں ویسٹ منسٹر طرز کی جمہوریت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

اس طرزِ جمہوریت میں جب ایک جماعت حزبِ اختلاف سے حزبِ اقتدار میں آتی ہے تو اس جماعت کا سربراہ آسانی کے ساتھ وزارتِ عظمیٰ سنبھال لیتا ہے۔ وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ دراصل ایک ’شیڈو‘ وزیرِاعظم ہوتا ہے۔ وہ پچھلے وزیرِاعظم سے ایوان کے اندر حکومتی پالیسیوں پر روزانہ کی بنیاد پر سوالات کرتا ہے اور حکومتی پالیسیوں کے بارے میں علم رکھتا ہے۔ اور یہ سوال الل ٹپ نہیں ہوتے بلکہ ہر جماعت کے پالیسی ساز افراد حکومتی پالیسیوں پر نظر رکھتے ہیں اور اپنے قائد کو متبادل پالیسیوں کے حوالے سے بریف کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ حزبِ اختلاف کے اہم اراکین ’شیڈو‘ کابینہ بناتے ہیں۔

حکومتی کابینہ کے ہر رکن کے لیے حزبِ مخالف کا ایک ’شیڈو‘ رکن ہوتا ہے اور اس کے پاس اپنی وزارت کے حوالے سے اپنے مشیر، معاونین خاص اور پالیسی ساز افراد ہوتے ہیں۔ وہ موجودہ حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے خود حکومت کرنے کی تیاری کرتے ہیں۔

وزیرِاعظم، اراکینِ کابینہ اور ’شیڈو‘ کابینہ کے اراکین بلاناغہ ایوان میں آتے ہیں۔ حزبِ اقتدار کے اراکین کو حقائق دکھا کر چیلنج کیا جاتا ہے اور وہ سخت سے سخت تنقید سننے کے بعد بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

یہاں نکتہ یہ ہے کہ دُور سے تو امریکی نظامِ حکومت ایک طاقتور نظام معلوم ہوتا ہے جسے وائٹ ہاؤس میں بیٹھا کوئی بھی ایماندار شخص معاشرے کی بھلائی اور لوگوں کو ان کے حقوق دینے کے لیے استعمال کرسکتا ہے لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔

اگرچہ امریکی صدر کے پاس بے تحاشہ اختیارات موجود ہوتے ہیں لیکن پھر بھی موجودہ صدر کو ہر وقت کانگریس کا سامنا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ آمرانہ ذہنیت رکھنے والے ٹرمپ پر بھی کانگریس کی نظریں موجود تھیں۔ اس کے علاوہ میڈیا بھی صدر یا اس کی انتظامیہ میں سے کسی کی کارکردگی میں آنے والے جھول کی تاک میں رہتا ہے۔

یہ بات یاد رکھیں کہ آمرانہ ذہنیت جمہوریت کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ اگر ٹیکنوکریٹ اور ماہرین کو کابینہ میں شامل کرنے سے متعلق پاکستانی تجربے کی بات کی جائے تو یہ واضح ہے کہ ایسی مہارت کسی کام کی نہیں ہے جو غریب کے تن چھپانے کو کپڑا فراہم نہ کرسکے۔

بہتر کارکردگی کے لیے لگن، ایمانداری، محنت اور ایک اچھی ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ مخالفت برداشت نہ کرنا اور خود کو بہتر اور برتر تصور کرنا اس کے متبادل نہیں ہوسکتے۔


یہ مضمون 24 جنوری 2021ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔