اس زندگی میں زندگی کے سوا سب کچھ ہے!

12 فروری 2021

ای میل

دوستی اور محبت جو 2 انسانوں کی ملاقات میں ممکن ہے، موبائل میں سے کبھی نہ ملے گی۔
دوستی اور محبت جو 2 انسانوں کی ملاقات میں ممکن ہے، موبائل میں سے کبھی نہ ملے گی۔

جب ہم 21 کے تھے تو کیمرا گھر کی الماری میں ہوتا تھا اور اس کو ہاتھ لگانے کی ہمیں قطعاً اجازت نہیں تھی۔ عید، بقر عید یا کسی شادی وغیرہ میں کیمرے میں رِیل ڈلوائی جاتی، پھر تصاویر کے لیے گھر کے خوبصورت کونے ڈھونڈے جاتے، ہر کوئی اپنی زیادہ سے زیادہ تصاویر بنوانے کی کوشش کرتا۔ گھر کے بڑے، بھائی اور بہن کیمرا تھامے فوٹوگرافر نواب بنے پھرتے اور ہم غریب چھوٹے صرف پوز مارنے کو، اور دُور سے دیکھنے کو رہتے۔

یہی نہیں بلکہ جب تصاویر ’دُھل‘ کر آتیں تو آدھی پر روشنی بہتر نہ ہونے کی بنا پر دھواں پھر جاتا، جبکہ آدھی چہرے کے تاثرات بگڑنے پر متنازعہ ہوجاتیں۔ گروپ فوٹو میں 2 کی تصویر اچھی آتی اور 2 کی موٹی یا بھینگی آجاتی اور پھر چھپانے یا دکھانے کی، پھاڑنے یا سنبھالنے کی دھینگا مشتی شروع ہوجاتی۔

اور اگر ان سارے مراحل سے گزر کر کچھ تصاویر اچھی آہی جاتیں تو البم سجا کر اسکول یا کالج بیگز میں گھسا لیے جاتے، اور باری باری گھر کے سب افراد کے بستوں سے نکلتیں، بہانے بہانے سے تصاویر کلاس فیلوز کو نکال کے دکھائی جاتیں کہ دیکھو اصل میں تو ہم کتنے پیارے ہیں، یہ تو بس گرم موسم اور دھول مٹی کی وجہ سے اتنے پیارے نہیں لگتے، ورنہ ہم بھی کسی ماڈل سے کم ہیں کیا۔

یہ وہ وقت تھا جب ایک ایک منٹ میں کئی انداز میں سیکڑوں سیلفیوں کی عیاشی اور پھر ان کی ایڈیٹنگ اور فلٹرز کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کام کے بڑے پیسے لگتے تھے چنانچہ کبھی کبھار ہی ایسی عیاشی برداشت ہوتی تھی۔

تب ہمیں کیا خبر تھی کہ چند ہی سالوں میں ہر کسی کا اپنا اسٹوڈیو ہوگا، اپنی لائٹس اور کیمرا ہوگا اور ہر کوئی اپنی سلطنت میں سب سے بڑھ کر حسین اور خوبصورت ہو جائے گا۔

اس زمانے کی چالاک ساسیں، بہوئیں پسند کرنے سے پہلے ان کو کسی بہانے سورج کی روشنی میں ضرور دیکھ لیتی تھیں تاکہ میک اپ سے آگے دیکھ سکیں۔ اب شاید ان کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہوگی کہ میک اپ سے پہلے فلٹرز اور ایڈٹس سے بھی گزرنا پڑتا ہوگا۔

جرنلز اور opinion books کے نام سے ڈائریاں سجائی جاتی تھیں، دوستوں سے تاثرات مانگے جاتے تھے، اس بہانے خود کو اچھا دکھانے کا اور اپنے بارے میں بات کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔ اس وقت ہمیں کہاں خبر تھی کہ ایک دن سوشل میڈیا اور سمارٹ فون دنیا کے ہر چھوٹے، بڑے، امیر، غریب کی اپنی پروفائل، اپنا پلیٹ فارم بنا دے گا۔ ہر کسی کے خیالات، مشاہدات اور نظریات ہوں گے، ہر کوئی اپنی فیس بک کا بے تاج بادشاہ ہوگا۔ ہر کوئی فلسفی اور محقق بن جائے گا اور ہر فرد مقبول ہوجائے گا۔

ایک وقت تھا کہ کیمرے کو ہاتھ لگانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی تھی
ایک وقت تھا کہ کیمرے کو ہاتھ لگانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی تھی

سوشل میڈیا نے ہر چھوٹے بڑے کو اس کا اپنا اسٹوڈیو دے دیا ہے
سوشل میڈیا نے ہر چھوٹے بڑے کو اس کا اپنا اسٹوڈیو دے دیا ہے

ہمارے زمانے میں وہ لڑکا خراب سمجھا جاتا تھا جو سارا دن گلی میں کھڑا رہتا ہو۔ دوستوں کے ساتھ پھرنے والے آوارہ کہلائے جاتے تھے۔ اب سب سوشل میڈیا پر رہتے ہیں اور خرابی کے معیارات بھی بدل گئے ہیں۔ اب گلیاں پھرنے اور دوستوں میں رہنے کی کوئی وجہ ہی نہیں رہی، اب ہر چیز انٹرنیٹ پر مل جاتی ہے۔ تب جو لڑکی اٹھلا کر چلتی تو اس کے کردار پر حرف آجاتا تھا لیکن اب ہر لڑکی کے پاس اپنی ڈی پی پر، پوسٹ پر، ویڈیوز اور تصاویر پر اٹھلانے، بل کھانے کی سہولت ناصرف میسر بھی ہے بلکہ رجحان کے نام پر اب اس سے کردار بھی کم متاثر ہوتا ہے۔

زمانے کے انداز بس 20 سالوں میں ہی بے انتہا بدلے گئے ہیں۔ پہلے لڑکے لڑکیوں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اسکولوں اور کالجوں کے گرد پھرتے رہتے تھے۔ شادیوں پر شہ بالے بنتے تھے، چٹھی پہنچانے کے لیے گلی کا بچہ، دوست یا بھائی پھانسا جاتا تھا، پھر گھر کے نمبر پر فون کرکے محبوبہ بلانے کو آوازیں بدلنی پڑتیں تھیں، بہنوں کی مدد مانگی جاتی تھی، عاشق 4 لوگوں کی تفتیش سے گزرتے تھے تو محبوبہ تک رسائی ملتی تھی وگرنہ سارے گھر میں ہر وقت رانگ نمبر کی گھنٹیاں بجتی رہتی تھیں، لیکن اب ایسا کوئی بھی جنجال کرنا نہیں پڑتا۔

گھروں میں ٹی وی اور وی سی آر والدین کی اجازت سے چلتے تھے، فلم دیکھنے کی خاطر سو لوگوں کی سو شرائط پر سمجھوتا کرنا پڑتا تھا۔ فلموں کے چناؤ سے سینسر شپ تک کتنے مراحل سے گزرتے تب جاکر ایک فلم دیکھنی مقدر بنتی تھی مگر اب ہر کمرے میں نہیں ہر ہاتھ میں دنیا بھر کا میڈیا اور فلمیں موجود ہیں، جیسا چاہے دیکھو اور جتنا چاہے دیکھو!

کبھی ٹی وی صرف والدین کی اجازت سے ہی دیکھا جاتا تھا
کبھی ٹی وی صرف والدین کی اجازت سے ہی دیکھا جاتا تھا

ہاسٹلز تک پہنچتے 21ویں صدی کی شروعات میں جو موبائل جوانی کے آخر پر ہمارے ہاتھوں میں آئے وہ والدین کی نگرانی میں استعمال کرنے پڑتے، یعنی ایک موٹا اور بے ڈھنگا موبائل سارے گھر کے استعمال میں ہوتا اور اس پر بھی اکثر ٹیکسٹ یا سانپوں والے گیم کے سوا کچھ میسر نہ تھا۔ کبھی زندگی اتنی بھی محدود تھی!

یہ ہم پچھلی صدی کے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہوں نے 20ویں صدی کی آخری دہائیوں میں جنم لیا۔ 21ویں صدی سے پہلے سنتے تھے کہ 21ویں صدی بہت ہی حیران کن ہوگی مگر اس قدر ہوگی یہ خود ہمیں بھی اندازہ نہ تھا۔

بس جادوئی دنیا سے گزرتے گئے اور اس کے عجوبوں کو ایسے دیکھتے گئے کہ جیسے کچھ نیا دیکھا ہی نہیں۔ ہم نے جوانیاں ڈی پی اور فلٹرز کے سائے میں نہیں گزاریں مگر ہمیں جو لوگ ملتے تھے وہ اصلی اور حقیقی تھے، ہمارے ساتھ جو دوست چلتے تھے وہ گھنٹوں، دنوں مہینوں اور سالوں کے لیے صرف ہمارے ہی لیے وقف ہوتے تھے، ہمیں محبت یا نفرت جو بھی ملتی خالص ملتی تھی۔

ہم جب باغوں اور پارکوں میں جاتے تو ایک دوسرے کو دیکھتے تھے، ان کی سنتے اور اپنی کہتے تھے، موسموں کو پرکھتے تھے، خوشبوؤں کو سونگھتے تھے۔ ہماری نسل کے لوگ بارش کی پہلی بوند پر پھیل جانے والی مٹی کی خوشبو پر مست ہوجاتے تھے، بارش میں چھتوں، صحنوں اور گلی میں نکل آتے تھے۔ تب جب بارش کے قطروں کی تصاویر ممکن نہ تھیں ہم ہر قطرہ اپنی ہتھیلیوں پر، چہرے اور بدن پر اتار لینا چاہتے تھے۔

جب بارش کے قطروں کی تصاویر لینا ممکن نہ تھا تب لوگ ان قطروں کو ہتھیلیوں پر جمع کرتے تھے
جب بارش کے قطروں کی تصاویر لینا ممکن نہ تھا تب لوگ ان قطروں کو ہتھیلیوں پر جمع کرتے تھے

ہمیں ڈائریاں لکھنی پڑتیں، اب لوگ بلاگ اور فیس بک پر کہانیاں لکھتے ہیں، ہم شعر اور غزلیں لکھ لکھ تھک جاتے، اب ہر کوئی کاپی پیسٹ کرلیتا ہے، ہم کمرے میں پوسٹر لگاتے تھے اب ہر ہنر صرف وال پر ہی سجنے کے لیے اترتا ہے۔ ہمارے بند کمروں کی آہیں کسی تک پہنچ بھی نہ پاتی تھیں اور اب چھینک بھی آجائے تو دوسرے براعظم میں خبر پہنچ جاتی ہے۔ ہم سب اس قدر روشن ہوچکے ہیں کہ بجھ کر رہ گئے ہیں، ہم اس قدر ہجوم میں ہیں کہ گمشدہ ہوگئے ہیں۔ ہم آواز سے شور بن چکے ہیں، ہم سُر سے چیخ بن چکے ہیں۔

آج سے 20 سال پہلے گلیوں سے گزرتے تو ہمیں ان کے گھر، موڑ اور دیواروں کے رنگ، ان کے باہر کھڑے لوگ تک یاد ہونے لگتے تھے، 20 سال پہلے کے یاد کیے فون نمبر آج بھی آپ کو یاد ہوں گے لیکن اب آپ 2 منٹ پہلے جس سے ملے تھے اس کا چہرہ تک بھول جاتے ہیں، گھر سے انٹرنیٹ پر نکلتے ہیں اور واپسی کا راستہ ہی بھول جاتے ہیں۔

کبھی ہم اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور محبت کو خالص اور مکمل ملتے تھے، پورے دل سے اور وجود سے میسر ہوتے تھے، ہماری انگلیاں تب بولتی نہ تھیں اور ہمارے جسم کی ہر رگ میں تب سگنلز اور لہریں پوشیدہ نہ تھیں۔ ہم اپنی ہر ہر حرکت کو محسوس کرتے تھے، اس کے ساتھ رہتے تھے، اور اب یہ صورتحال ہے کہ رکھتے کہیں ہیں اور پڑتے کہیں ہیں پاؤں!

کتاب اٹھاتے تو اس کے صفحات میں دن اور راتیں گم کردیتے، رنگوں میں ڈوبتے تو گھنٹوں نظر تک اٹھا کر نہ دیکھتے کہ سورج کدھر سے کدھر چلا گیا، دوستوں اور سہلیوں سے گھر کے واحد تار والے فون پر گپ شپ میں مصروف ہوتے تو گھر والے فون بند کرنے کو منتیں کرتے، کھیلنے جاتے تو گھر والے ڈانٹ ڈپٹ کرکے واپس لاتے۔ جب ہم صرف پٹھو گرم اور پکڑم پکڑائی جیسے کھیلوں پر ہی سارا دن لگا سکتے تھے، ہماری ہر چیز زندگی سے بھرپور تھی۔ اب ہم اپنے بچوں کو دھکے دے کر باغ لے جاتے ہیں اور منتوں سے کھیلنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ صرف 20 سال پہلے ہم اپنے ہوش و حواس سے اسی دنیا میں رہتے تھے جس میں اب سب کچھ ہے سوائے ہوش و حواس کے۔

پہلے ہم کتاب اٹھاتے تھے تو مطالعے میں دن و رات کا حساب نہیں رہتا تھا
پہلے ہم کتاب اٹھاتے تھے تو مطالعے میں دن و رات کا حساب نہیں رہتا تھا

21ویں صدی نے صرف 20 سالوں میں انسان سے انسان کو چھین لیا ہے، جو باقی ماندہ کسر رہ گئی تھی وہ کورونا کے ہاتھوں لٹ چکی ہے، انسان جیسے اپنے اندر اور باہر سیکڑوں حصوں میں ٹوٹ کر بکھر گیا ہے۔

21ویں صدی کے پہلے 20 سال کا بوجھ آج کے انسان پر خاصا کٹھن ثابت ہوا ہے۔ ہر موڑ پر ایسے مسائل سامنے آرہے ہیں جن کے بارے میں کبھی سوچا تک نہیں تھا۔ ادویات کی ایجاد سے پہلے کینسر، ایڈز اور کورونا جیسی بیماریاں بھی نہ تھیں، کیا مصنوعی ذہانت کی زندگی میں اس قدر مداخلت ہمارے ذہن، زندگی اور شخصیت کو کھا تو نہیں جائے گی؟ کہیں اگلے 20 سال انسانی دماغ کے لیے مہلک نہ ہوجائیں؟

آج جن جدید ترین موضوعات پر بات کی جا رہی ہے وہ mindfulness ہے، وہ اپنے حال پر توجہ ہے، اپنے لمحات کو جاننا ہے آج کے جدید فلسفی ہمیں سکھا رہے ہیں کہ سائنسی ترقی کی اس تیز رفتار دنیا میں کسی کی آواز اور لمس، بارش کی بوند اور پھول کی خوشبو، سبزے کی نمی اور دھوپ کی تمازت زندگی کو زندہ رکھنے کے لیے کس قدر ضروری ہے۔ کیسا ظلم ہے کہ ایک طبقہ ہمیں پہلے ایک طرف دھکیل دیتا ہے پھر دوسرا طبقہ آکر ہمیں ہماری گمشدہ عادتوں کی افادیت سمجھانے لگتا ہے جیسے زندگی واقعی ظرف اور اعصاب کا کھیل ہو۔

انسانوں کی جلتی پیشانیاں تاثیر مسیحائی کی منتظر ہیں، اس سے پہلے کہ حرارت دماغوں تک پہنچے، آئیں ہم بھی زندگی کے ماتھے پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں، اور بہتے ہوئے پانی کے ساتھ خود کو گہرائی میں گرنے سے روکیں۔

اگلے 20 برس میں شاید تبدیلی کی رفتار اس سے بھی بڑھ کر ہو۔ انسان ہوں کہ معاشرے، دیر تک چلنا ہو تو سنبھل کر چلنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ اپنے ہر کام اور ہر لمحے میں جیئیں، ہر قدم سوچ کر رکھیں اور اپنی سوچ و اعمال کو ہم آہنگ رکھیں۔ یہاں سے وہی انسان اور معاشرے آگے بڑھ سکیں گے جو اپنا توازن برقرار رکھنے کی جنگ جیت سکیں گے۔

یہ درست ہے کہ رنگ و بُو کی اشتہا نے، چمکتی بتیوں اور تیز رفتاری نے ہماری بصیرت دھندلا دی اور بصارت چھین لی ہے، پھر بھی ابھی بحالی ممکن ہے۔ دفتری اوقات کی طرح ہر چیز کے اوقات مقرر کیجیے، کچھ خالص وقت زمینی رشتوں اور اصل سماجی ضروریات کے لیے نکالیں۔ لوگوں کے چہرے دیکھیں کہ ان پر 20 سالوں میں کس قدر بے چینی اتر آئی ہے۔ حُسن کے لیے صرف کیمرے اور فلٹر ہی نہیں چہرے کا اطمینان اور مزاج کی شفتگی بھی چاہیے۔ تعلقات کے لیے صرف پروفائل ہی نہیں کردار اور اخلاق کی ضرورت کو بھی سمجھیں۔ دوستی اور محبت جو 2 انسانوں کی ملاقات میں ممکن ہے، موبائل میں سے کبھی نہ ملے گی۔