کورونا وائرس کی روک تھام میں کونسا ملک بہترین اور کون بدترین رہا؟

اپ ڈیٹ 30 جنوری 2021

ای میل

تحقیق میں برازیل کی حکمت عملی کو بدترین قرار دیا — اے ایف پی فوٹو
تحقیق میں برازیل کی حکمت عملی کو بدترین قرار دیا — اے ایف پی فوٹو

کورونا وائرس کی وبا دنیا بھر میں پھیل چکی ہے اور ممالک کی جانب سے اس کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات کیے جارہے ہیں۔

تو دنیا میں کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے کونسے ملک نے بہترین کام کیا اور کون بدترین رہا؟

تو کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے برازیل کو دنیا میں بدترین حکمت عملی اختیار کرنے والا ملک قرار دیا گیا ہے جبکہ نیوزی لینڈ سب سے بہترین۔

یہ بات آسٹریلیا کے ایک تھنک ٹینک کی تحقیق میں سامنے آئی۔

لووی انسٹیٹوٹ نے لگ بھگ سو ممالک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے اقدامات کا تجزیہ 6 زمروں بشمول مصدقہ کیسز، اموات اور ٹیسٹنگ کے تحت کیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ان زمروں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے سے عندیہ ملتا ہے کہ کس ملک کی کارکردگی وبا کے خلااف اچھی یا بدترین رہی۔

نیوزی لینڈ کے بعد سرفہرست 10 ممالک میں بالترتیب ویت نام، تائیوان، تھائی لینڈ، قبرص، روانڈا، آئس لینڈ، آسٹریلیا، لٹویا اور سری لنکا شامل ہیں۔

دوسری جانب بدترین ممالک میں برازیل کے بعد میکسیکو کولمبیا، ایران، امریکا، بولیویا، پاناما، اومان، چلی اور گوئٹے مالا رہے، جبکہ بھارت 12 واں بدترین ملک قرار دیا گیا۔

کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اقدامات کے حوالے سے 98 ممالک کی اس فہرست میں پاکستان کو 69 واں نمبر دیا گیا۔

برازیل میں کورونا وائرس کے نتیجے میں 2 لاکھ 18 ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں اور امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

براعظم امریکا کے سب سے زیادہ آبادی والے ان دونوں ممالک میں میں قوم پرست رہنماؤں نے کووڈ 19 کے خطرات کو جھٹلاتے ہوئے فیس ماسک پہننے کا مذاق اڑایا، لاک ڈاؤنز کی مخالفت کی اور خود بھی وائرس کا شکار ہوئے۔

اس فہرست میں چین کو شامل نہیں کیا گیا تھا جس کے بارے میں تھنک ٹینک کا کہنا تھا کہ چین کا ٹیسٹنگ کا ڈیٹا عوامی طور پر دستیاب نہیں۔

لووی انسٹیٹیوٹ کا کہنا تھا کہ سیاسی نظام کے تحت وبا کی روک تھام کے لیے حوالے سے کسی کو واضح فاتح قرار نہیں دیا جاسکتابلکہ لگ بھگ دنیا بھر میں اس کے خلاف ردعمل کچھ زیادہ اچھا نہیں تھا۔

تحقیق میں کہا گیا کہ کچھ ممالک نے وبا کی روک تھام میں دیگر کے مقابلے میں زیادہ بہتر کام کیا، مگر بیشتر ممالک نے ناقص کارکردگی سے خود کو دیگر ممالک سے پیچھے کیا۔

کم آبادی والے ممالک کو البتہ ضرور کچھ فائدہ ہوا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کم آبادی والے ممالک کو وبا کی روک تھام کے حوالے سے دیگر ممالک کے مقابلے میں کچھ سبقت حاصل رہی۔