کیا 2 فیس ماسک پہننے سے کووڈ سے زیادہ تحفظ ملتا ہے؟

27 جنوری 2021

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

امریکا کے وبائی امراض کے معروف ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے ایک کی بجائے 2 فیس ماسکس کا استعمال زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر انتھونی فااؤچی نے ایک ٹی وی شو کے دوران نے کہا کہ فیس ماسک کا مقصد وہا میں موجود وائرل ذرات کی روک تھام کرنا اور پہننے والے کے منہ تک وائرس کو پہنچنے سے روکنا ہوتا ہے۔

امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشیز ڈیزیز کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اگر آپ چہرے کو ایک تہہ سے ڈھانپتے ہیں اور اس پر ایک اور تہہ چڑھا لیتے ہیں تو عام فہم کی بات ہے کہ اس سے زیادہ تحفظ مل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم لوگوں کو 2 فیس ماسکس پہنے یا این 95 کا کوئی ورژن استعمال کرتے دیکھ رہے ہیں۔

این 95 مہنگا ہے اور زیادہ تر طبی ورکرز کو دستیاب ہوتا ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ 2 فیس ماسک کا استعمال آسان اور این 95 جتنا تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔

چلڈرنز ہاسپٹل اینڈ میڈیکل سینٹر کے وبائی امراض کی ماہر ایلس ساٹو نے کہا کہ دوہری تہہ سے فلٹریشن میں اضافہ ہوتا ہے، مگر فائدہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ماسک کے ارگرد کے خلاف کو اچھی طرح کور کیا جائے۔

امریکا میں 2 فیس ماسک کے استعمال کی شرح میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے، مگر ڈبل ماسک کے استعمال کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

حال ہی میں جاری ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ لوگ یا تو معیاری سرجیکل ماسک کا استعمال کریں یا ایسا کپڑے کا ماسک استعمال کریں جس میں کم از کم 2 تہیں ہوں۔

تحقیق میں کہا گیا کہ زیادہ سے زیادہ تحفظ کے لیے ایک فرد ایک سرجیکل ماسک کے اوپر کپڑے کا ماسک پہن لیں، جس میں سرجیکل ماسک فلٹر کا کام کرے گا جبکہ کپڑے کا ماسک اضافی فلٹریشن لیئر فراہم کرے گا۔

محققین کا کہنا تھا کہ 3 تہوں والا ماسک بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔