بھارت: کسانوں کا 23 فروری سے احتجاج میں مزید شدت لانے کا اعلان

21 فروری 2021

ای میل

بھارتی کسان گزشتہ دو ماہ سے تین نئے متنازع زرعی قوانین کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج و مظاہرے کر رہے ہیں — فوٹو: رائٹرز
بھارتی کسان گزشتہ دو ماہ سے تین نئے متنازع زرعی قوانین کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج و مظاہرے کر رہے ہیں — فوٹو: رائٹرز

بھارت میں متنازع زرعی قوانین کے خلاف مہینوں سے سراپا احتجاج کسانوں نے 23 سے 27 فروری تک اپنے احتجاج میں مزید شدت لانے کا اعلان کردیا۔

بھارتی کسان گزشتہ دو ماہ سے تین نئے متنازع زرعی قوانین کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج و مظاہرے کر رہے ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق احتجاج کی قیادت کرنے والے سَمیوکت کسان مورچا (ایس کے ایم) نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ احتجاج کی شدت بڑھانے کے ان کے مجوزہ پروگرام کے تحت 23 فروری پگڈی سَمبھل دِواس، 24 فروری دامن وِرودھی دِواس کے طور پر منائے جائیں گے جن کا مقصد حکومت کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ کسانوں کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور ان کے خلاف کوئی جابرانہ اقدام نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔

مورچا نے کہا کہ 6 فروری یووا کسان دواس (نوجوان کسانوں کا دن) اور 27 فروری مزدور۔کسان ایکتا دواس (کسانوں۔مزدوروں کے اتحاد کا دن) کے طور پر منائے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: بھارت: کسان ٹریکٹر ریلی کشیدگی پر مودی کا بیان، سپریم کورٹ سے درخواست خارج

کسانوں کے رہنما یوگیندرا یادیو کا کہنا تھا کہ 'حکومت گرفتاریوں، حراست اور مظاہرین کے خلاف مقدمات سمیت تمام جابرانہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور فساد برپا کر رہی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ سِنگھو بارڈر پر پہرا دیا جارہا ہے اور وہ کسی بین الاقوامی سرحد کا منظر پیش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 8 مارچ سے پارلیمنٹ کے اجلاس کی روشنی میں کسان تحریک کو طویل مدت تک چلانے پر غور کیا جائے گا اور 'ایس کے ایم' کے اگلے اجلاس میں حکمت عملی شیئر کی جائے گی۔

مورچا کے ایک اور رہنما دَرشن پال نے حکومت پر 'جبر' کرنے کا الزام بھی لگایا۔

انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس کی جانب سے یوم جمہوریہ پر دارالحکومت میں کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد اور توڑ پھوڑ کے الزامات کے تحت گرفتار کیے گئے 122 افراد میں سے 32 کو ضمانت مل چکی ہے۔

یہ بھی دیکھیں: بھارت کے لال قلعے پر سکھوں کا مقدس جھنڈا لہرا دیا گیا

خیال رہے کہ بھارت میں حکومت کے زرعی قانون کے خلاف کسانوں کے احتجاج کا سلسلہ دو ماہ سے جاری ہے اور وہ بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر نئی دہلی میں داخل ہوگئے، جس کو نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ تصور کیا جارہا ہے۔

کسانوں نے نئی دہلی، بنگلور اور ممبئی سمیت کئی شہروں کے علاوہ دیگر ریاستوں میں بھی احتجاج کیا تھا۔

26 جنوری کو بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کی شکل میں ہونے والا احتجاج اس وقت پر تشدد ہوگیا تھا جب کسانوں نے تاریخی لال قلعے پر چڑھائی کردی تھی، اس دوران ایک شخص ہلاک جبکہ سیکڑوں مظاہرین زخمی ہوگئے تھے۔