وزیراعظم کے خیالات پر دکھ ہوا، ہمیں آزادانہ طور پر کام کرنے دیں، الیکشن کمیشن

اپ ڈیٹ 05 مارچ 2021
الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کے بیان کو مسترد کردیا —فائل/فوٹو: ٹوئٹر
الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کے بیان کو مسترد کردیا —فائل/فوٹو: ٹوئٹر

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین اور قانون کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور جس نتیجے پر اعتراض کیا گیا ہے اس کو مسترد کرتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس کے بعد جاری بیان میں ای سی پی نے کہا کہ سینیٹ کے الیکشن آئین اور قانون کے مطابق کروانے پر ہم خداوند تعالی کے شکر گزار ہیں کہ وہ خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوئے'۔

مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن نےملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے، وزیر اعظم

بیان میں کہا گیا کہ 'الیکشن کے رزلٹ کے بعد میڈیا کی وساطت سے جو خیالات ہمارے مشاہدے میں آئے ان کو سن کر دکھ ہوا، خصوصی طور پر وفاقی کابینہ کے چند ارکان اور بالخصوص جناب وزیر اعظم پاکستان نے جو کل اپنے خطاب میں فرمایا'۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ہمارے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔

وزیراعظم نے ای سی پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'سپریم کورٹ میں آپ نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کیوں کی، کیا آئین چوری کی اجازت دیتا ہے، پھر آپ نے قابل شناخت بیلٹ پیپزر کی مخالفت کی اگر ایسا ہو جاتا تو آج جو ہمارے 15، 16 لوگ بکے ہیں ہم ان کا پتا لگا لیتے، یہ پیسے دے کر اوپر آنا کیا جمہوریت ہے، الیکشن کمیشن نے ہمارے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے، آپ کو سپریم کورٹ نے موقع دیا تو کیا 1500 بیلٹ پیپرز پر بار کوڈ نہیں لگایا جاسکتا تھا، آج آپ نے ملک کی جمہوریت کا وقار مجروح کیا ہے'۔

ای سی پی نے کہا کہ 'اس ضمن میں وضاحت کی جاتی ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی اور آزاد ادارہ ہے، اس کو ہی دیکھنا ہے کہ آئین اور قانون اس کو کیا اجازت دیتا ہے اور وہی اس کا معیار ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: یوسف رضا گیلانی اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست جیت گئے، عبدالحفیظ شیخ کو شکست

بیان میں کہا گیا کہ 'ہم کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین اور قانون کو نظر انداز کر سکتے ہیں اور نہ ہی ترمیم کر سکتے ہیں، اگر کسی کو الیکشن کمیشن کے احکامات یا فیصلوں پر اعتراض ہے تو وہ آئینی راستہ اختیار کریں اور ہمیں آزادانہ طور پر کام کرنے دیں، ہم کسی بھی دباؤ میں نہ آئے ہیں اور نہ ہی ان شااللہ آئیں گے'۔

ای سی پی نے کہا کہ 'الیکشن کمیشن نے ہر کسی کا مؤقف سنا، ان کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا، الیکشن کمیشن سب کی سنتا ہے مگر وہ صرف اور صرف آئین و قانون کی روشنی میں ہی اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے اور آزادانہ طور پر بغیر کسی دباؤ کے فیصلے کرتا ہے تاکہ پاکستان کے عوام میں جمہوریت کو فروغ ملے'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ حیران کن بات ہے کہ ایک ہی روز ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی الیکٹورل میں ایک ہی عملے کی موجودگی میں جو ہار گئے وہ نامنظور اور جو جیت گئے وہ منظور، کیا یہ کھلا تضاد نہیں جبکہ باقی تمام صوبوں کے نتائج قبول، جس نتیجے پر تبصرہ اور ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے الیکشن کمیشن اس کو مسترد کرتا ہے'۔

سینیٹ انتخابات کے بعد تنقید کا جواب دیتے ہوئے کمیشن کے بیان میں کہا گیا کہ 'یہی ہے جمہوریت اور آزادانہ الیکشن اور خفیہ بیلٹ کا حسن جو پوری قوم نے دیکھا اور یہی آئین کی منشا تھی، جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے وہ پارلیمنٹ سے منظور کروانے میں کیا امر مانع تھا؟ جبکہ الیکشن کمیشن کا کام قانون سازی نہیں ہے بلکہ قانون کی پاسبانی ہے'۔

'ہمیں کام کرنے دیں، ملکی اداروں پر کیچڑ نہ اچھالیں'

الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں واضح کرتے ہوئے کہا کہ 'اگر اسی طرح آئینی اداروں کی تضحیک کی جاتی رہی تو یہ ان کی کمزوری کے مترادف ہے نہ کہ الیکشن کمیشن کی'۔

بیان میں کہا گیا کہ 'ہر سیاسی جماعت اور شخص میں شکست تسلیم کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے اگر کہیں اختلاف ہے تو شواہد کے ساتھ آ کر بات کریں، آپ کی تجاویز سن سکتے ہیں تو شکایات کیوں نہیں، لہٰذا ہمیں کام کرنے دیں، ملکی اداروں پر کیچڑ نہ اچھالیں'۔

ای سی پی نے کہا کہ 'کچھ تو احساس کریں، الیکشن کمیشن انشااللہ خدا کے فضل وکرم سے اپنی آئینی ذمہ داریاں بخوبی قانون اور آئین کی بالا دستی کے لیے احسن طریقے سے انجام دیتا رہے گا'۔

یہ بھی پڑھیں: اداروں کے سربراہان کو ہارے ہوئے شخص سے اس وقت ملاقات نہیں کرنی چاہیے تھی، مریم نواز

یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں 3 مارچ کو اسلام آباد کی سینیٹ کی نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے تھے جہاں حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو شکست جبکہ خاتون اُمیدوار کامیاب ہوئی تھیں اور اپوزیشن کے اُمیدوار یوسف رضا گیلانی نے کامیابی حاصل کی تھی۔

گزشتہ روز قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ آپ کو اندازہ نہیں کہ اس الیکشن میں کتنا پیسا چلا ہے، میں نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ ریٹ لگ گئے ہیں، کیا آپ کو نہیں پتہ یہ تحقیقات کرنے کی ذمہ داری آپ کی تھی، جو کروڑوں روپے خرچ کر کے سینیٹر بنے گا وہ ریکور کیسے کرے گا، جو کروڑوں روپے خرچ کر کے سینیٹر بنے گا وہ کیا حاتم طائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پارلیمنٹ میں بھی اوپن بیلٹ کا بل پیش کیا، ہم نے اوپن بیلٹ کے لیے بل پیش کیا تو یہ تمام جماعتیں خفیہ بیلٹ پر اکٹھی ہوئیں، جس کے بعد ہم معاملے کو سپریم کورٹ لے کر گئے، وہاں الیکشن کمیشن نے اس کی مخالفت کی اور عدالت عظمیٰ نے کہا کہ صاف و شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

اسلام آباد میں اس اپ سیٹ شکست کے بعد جہاں حکومت کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا وہیں اپوزیشن نے اس پر فتح منائی اور وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔

سینیٹ انتخابات کے فوری بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی و دیگر وزرا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں