برازیل میں دریافت کورونا کی نئی قسم دیگر سے زیادہ متعدی

02 مئ 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

برازیل میں سب سے پہلے نمودار ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ متعدی ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے سائنس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ برازیل میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم پی 1 ماضی میں کووڈ سے متاثر ہونے والے افراد میں پیدا ہونے والی مدافعت پر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

برازیل کورونا وائرس کی وبا سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے بالخصوص میناوس نامی شہر پر سب سے زیادہ اثرات مرتب ہوئے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ 2020 کے وسط میں میناوس کے 75 فیصد کے قریب افراد کورونا کی پہلی لہر سے متاثر ہوئے تھے اور کچھ ماہرین نے اندازہ لگایا تھا کہ اس شہر میں بیماری کے خلاف اجتماعی مدافعت پیدا ہوگئی ہے۔

مگر 2020 کے اختتام پر اس شہر میں کووڈ کی دوسری لہر سامنے آئی جس میں پی 1 قسم کا ہاتھ تھا۔

تحقیق میں شامل کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ماہرین کہنا تھا کہ ہمارے ماڈل سے عندیہ ملتا ہے کہ پی 1 کورونا وائرس کی دیگر اقسام سے زیادہ متعدی ہے اور دیگر اقسام سے ہونے والی بیماری سے جسم میں پیدا ہونے والی مدافعت پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔

محققین نے پی 1 میں 17 میوٹیشنز کو دریافت کیا جن میں سے 3 اسپائیک پروٹین میں ہوئی تھیں۔

اسپائیک پروٹین میں ہونے والی 3 میوٹیشنز سے اس نئی قسم کو انسانی خلیات کو مؤثر طریقے سے جکڑنے میں مدد ملی، جن میں سے ایک میوٹیشن این 501 وائے برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں دریافت اقسام میں بھی دیکھی گئی تھی۔

اس میوٹیشن سے وائرس کے لیے انسانی خلیات کو جکڑنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے جبکہ ایک اور میوٹیشن ای 484 کے تھی جو وائرس کو موجودہ مدافعتی ردعمل کو پیچھے چھوڑنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پی 1 کورونا وائرس کی اوریجنل قسم کے ساتھ ساتھ دیگر اقسام کے مقابلے میں 1.4 سے 2.2 گنا زیادہ متعدی ہے۔

اسی طرح یہ قسم پرانی اقسام سے متاثر ہونے والے افراد میں پیدا ہونے والی امیونٹی کی شرح کو بھی 10 سے 46 فیصد تک کم کرسکتی ہے، جس سے لوگوں میں دوسری بار کووڈ کا خطرہ بڑھتا ہے۔

محققین کے مطابق میناوس کے رہائشیوں میں پی 1 سسے متاثر ہونے پر موت کا خطرہ دیگر اقسام کے مقابلے میں 1.2 سے 1.9 گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔

برازیل میں دریافت ہونے والی یہ نئی قسم پاکستان سمیت متعدد ممالک تک پھیل چکی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں