کووڈ کے متعدد مریضوں کو ایک سال بعد پھیپھڑوں کو نقصان پہنچنے کا انکشاف

06 مئ 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی سنگین شدت کے باعث زیرعلاج مریضوں میں سے متعدد کو ایک سال بعد بھی منفی اثرات کا سامنا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ساؤتھ ہیمپٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ سے ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے ایک تہائی افراد کے پھیپھڑوں میں ایک سال بعد بھی منفی اثرات کے شواہد ملے ہیں۔

خیال رہے کہ کووڈ 19 نے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر کیا ہے مگر اکثر مریض اس وقت ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں جب بیماری کے نتیجے میں پھیپھڑوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس کے لیے کووڈ 19 نمونیا کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔

کووڈ 19 نمونیا کے علاج کے حوالے سے کافی پیشرفت ہوکی ہے مگر اب تک اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں مل سکی کہ مریضوں کی مکمل صحتیابی میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے اور پھیپھڑوں کے اندر کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔

طبی جریدے دی لانسیٹ ریسیپٹری میڈیسین میں شائع تحقیق کے دوران ماہرین نے چین کے شہر ووہان کے ماہرین کے ساتھ مل کر سنگین کووڈ 19 نمونیا کے مریضوں کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا کہ ایک سال بعد ان کی حالت کیسی ہے۔

اس مقصد کے لیے 83 مریضوں کو تحقیق کا حصہ بنایا گیا جو کووڈ 19 نمونیا کی سنگین شدت کا شکار ہوکر ہسپتال میں زیرعلاج رہے تھے۔

ان مریضوں کا جائزہ 3، 6، 9 اور 12 مہینوں تک لیا گیا یعنی ہر 3 ماہ بعد ان کا معائنہ کیاگیا۔

ہر بار معائنے کے دوران طبی تجزیئے کے ساتھ ساتھ پھیپھڑوں کے افعال کی ان پڑتال کی گئی، جس کے لیے سی ٹی اسکین سے پھیپھڑوں کی تصویر لی گئی جبکہ ایک چہل قدمی ٹیسٹ بھی لیا گیا۔

12 مہینے کے دوران بیشتر مریضوں کی علامات میں علامات، ورزش کی صلاحیت اور کووڈ 19 سے متعلق سی ٹی چینجز میں بہتری آئی۔

ایک سال بعد اکثر مریض بظاہر مکمل طور پر صحتیاب ہوگئے تاہم 5 فیصد افراد تاحال سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کررہے تھے۔

ایک تہائی مریضوں کے پھیپھڑوں کے افعال بدستور معمول کی سطح پر نہیں آسکے تھے، بالخصوص پھیپھڑوں سے خون میں آکسیجن کو منتقل کرنے کی صلاحیت زیادہ متاثر نظر آئی۔

ایک چوتھائی مریضوں کے سی ٹی اسکینز میں دریافت کیا گیا کہ ان کے پھیپھڑوں کے کچھ چھوٹے حصوں میں تبدیلیاں آرہی تھیں اور یہ ان افراد میں عام تھا، جن کے پھیپھڑوں میں ہسپتال میں زیرعلاج رہنے کے دوران سنگین تبدیلیاں دریافت ہوئی تھیں۔

محققین نے بتایا کہ کووڈ 19 نمونیا کی سنگین شدت کے شکار مریوں کی اکثریت بظاہر مکمل طور پر صحتیاب ہوجاتی ہے، تاہم کچھ مریضوں کو اس کے لیے کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خواتین کے پھیپھڑوں کے افعال متاثر ہونے کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے اور اس حوالے سے جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ابھی بھی نہیں جانتے کہ 12 ماہ کے بعد مریضوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے اور اسی لیے تحقیق کو جاری رکھنا ضروری ہے۔

محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق میں مریضوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی اور اضافی تحقیق سے نتائج کو تصدیق کرنے کی ضرورت ہے، تاہم انہوں نے چن اہم چیزوں کی ضرور شناخت کی۔

اس سے قبل مارچ 2020 میں امریکا کے جارج واشنگٹن یونیورسٹی ہاسپٹل میں کورونا وائرس کے ایک مریض کے پھیپھڑوں کی ایک ویڈیو یوٹیوب پر شیئر کی گئی تھی، جس میں پھیپھڑوں کے صحت مند ٹشوز کو نیلے جبکہ وائرس سے متاثر ٹشوز کو زرد رنگ میں دکھایا گیا ہے۔

ہسپتال کے چھاتی کی سرجری کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر کیتھ مورٹمین نے بتایا 'پھیپھڑوں کے وائرس سے متاثرہ اور صحت مند ٹشوز کا امتزاج چونکا دینے والا ہے، درحقیقت اس کو دیکھنے کے بعد یہ سمجھنے کے لیے نام کے ساتھ طبی ڈگری کی ضرورت نہیں کہ پھیپھڑوں کو ہونے والا نقصان کسی ایک حصے تک محدود نہیں، درحقیقت دونوں پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ اس سے کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑوں کو طویل المعیاد بنیادوں پر نقصان پہنچنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

اسی مہینے ہانگ کانگ میں طبی ماہرین نے دریافت کیا تھا کہ نئے نوول کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑے کمزوری کا شکار ہوسکتے ہیں اور کچھ افراد کو تیز چلنے پر سانس پھولنے کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔

ساﺅتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ ہاسپٹل اتھارٹی نے یہ نتیجہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے ابتدائی مریضوں کا جائزہ لینے کے بعد نکالا۔

ڈاکٹروں نے دریافت کیا کہ 12 میں سے 2 سے تین مریضوں کے پھیپھڑوں کی گنجائش میں تبدیلیاں آئیں۔

ہسپتال کے انفیکشیز ڈیزیز سینٹر کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر اوئن تسانگ تک ین نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا 'ان افراد کا سانس کچھ تیز چلنے پر پھول جاتا ہے، جبکہ مرض سے مکمل نجات کے بعد کچھ مریضوں کے پھیپھڑوں کے افعال میں 20 سے 30 فیصد کمی آسکتی ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مرض کے طویل المعیاد اثرات کا تعین کرنا ابھی تو قبل از وقت ہے مگر 9 مریضوں کے پھیپھڑوں کے اسکین میں شیشے پر غبار جیسا پیٹرن دریافت ہوا، جس سے عضو کو نقصان پہنچنے کا عندیہ ملتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان مریضوں کے مزید ٹیسٹ کرکے تعین کیا جائے گا ان کے پھیپھڑوں کے افعال اب کس حد تک کام کررہے ہیں جبکہ پھیپھڑوں کی مضبوطی کے لیے فزیوتھراپی کا انتظام بھی کیا جائےگا۔

تبصرے (0) بند ہیں