بھارت: راجستھان میں گائے کی اسمگلنگ کے شبے میں ہجوم کا حملہ، ایک شخص ہلاک

اپ ڈیٹ 14 جون 2021
مئی 2015 سے دسمبر 2018 کے درمیان ہندوستان میں اس طرح کے واقعات میں 36 مسلمانوں سمیت 44 افراد مارے گئے تھے— فائل فوٹو: رائٹرز
مئی 2015 سے دسمبر 2018 کے درمیان ہندوستان میں اس طرح کے واقعات میں 36 مسلمانوں سمیت 44 افراد مارے گئے تھے— فائل فوٹو: رائٹرز

بھارتی ریاست راجستھان میں ہجوم نے گائے کی اسمگلنگ کے شبے میں ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر ہلاک اور دوسرے کو زخمی کردیا۔

بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دو افراد بابو لال بھیل اور پنٹو اپنی گاڑی میں گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کررہے تھے، چھتیس گڑھ کے علاقے بیگو میں ہجوم نے زبردستی ان کا راستہ روک لیا اور موبائل فون اور دستاویزات چھیننے کے بعد ان کو مارنا شروع کردیا۔

مزید پڑھیں: بھارت: مشتعل افراد نے گائے کی اسمگلنگ کے شبہ میں مسلمان کو قتل کردیا

اُدے پور پولیس کے انسپکٹر جنرل ستیاویر سنگھ نے بتایا کہ آدھی رات کے لگ بھگ پولیس اسٹیشن انچارج کو اطلاع ملی کہ ہجوم اپنی گاڑی میں گائے لے جانے والے کچھ لوگوں کو پیٹ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے دونوں افراد کی دستاویزات اور موبائل فون چھین لیے تھے۔ جب پولیس پہنچی تو وہ بھاگ گئے، ہمارے افسروں نے دونوں افراد کو بچایا اور اسپتال لے گئے جہاں بابو جان کی بازی ہار گیا، رپورٹ کے مطابق پنٹو کی حالت مستحکم ہے۔

ستیاویر سنگھ نے بتایا کہ پولیس نے مزید تفتیش کے لیے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور کچھ لوگوں کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ستاویر سنگھ نے مزید کہا کہ ہم اب واقعے کو مکمل تفتیش کررہے ہیں اور کسی بھی ملزم کو بخشا نہیں جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: ’ گائے ذبح کرنے پر قتل کے واقعات میں پولیس ملوث ہوتی ہے’

ماضی میں بھارت میں گائے کی فروخت یا اسمگلنگ کی وجہ سے متعدد ناخوشگوار واقعات پیش آچکے ہیں، گزشتہ ہفتے ہندوستانی ریاست اترپردیش میں گائے کی اسمگلنگ کے شبے میں ایک 55 سالہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

2019 میں شائع ہونے والی ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مئی 2015 سے دسمبر 2018 کے درمیان ہندوستان میں گائے کے حوالے سے قانون ہاتھ میں لینے کے نتیجے 36 مسلمانوں سمیت کم از کم 44 افراد مارے گئے۔

تبصرے (0) بند ہیں