اپوزیشن نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 18 جولائ 2021
انہوں نے کہا کہ اس ظلم کی حکمرانی جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
انہوں نے کہا کہ اس ظلم کی حکمرانی جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: اپوزیشن نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) پر فروخت ہونے والے گندم کے آٹے، گھی اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کے حکومتی فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس اقدام کو ’قوم کے ساتھ ظلم‘ قرار دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے یوٹیلیٹی اسٹورز غریبوں کے لیے ’ناقابل رسائی‘ بنادیا۔

مزید پڑھیں: اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کئی گنا اضافے کی منظوری

حکومت نے اسٹریٹجک ذخائر بنانے کے لیے 2 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کا حکم دے دیا اور یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کے ذریعے آٹے، گھی اور چینی کی قیمتوں میں 53 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار (ایم او آئی پی) کی سفارش پر ای سی سی نے یو ایس سی آؤٹ لیٹس پر گھی کی قیمت میں تقریباً 53 فیصد کا اضافہ کردیا جس کے بعد قیمت 170 روپے سے بڑھ کر 260 روپے فی کلو ہوگئی۔

علاوہ ازیں گندم کے آٹے کی قیمت میں تقریباً 19 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد 800 روپے فی 20 کلو کی بوری 950 روپے کی ہوگئی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کرکے تاریخی مہنگائی کا اعتراف کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ’ظلم کی حکمرانی‘ جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے کیونکہ اس حکومت نے مہنگائی اور بے روزگاری کی تمام حدیں عبور کرلی ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف کو یقین ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام اندھے ہیں کہ پاکستان میں عمران خان کے دور حکومت میں جو کچھ کر رہے ہیں وہ انہیں نظر نہیں آرہا۔

انہوں نے کہا کہ ’افراط زر، غیر ملکی قرضہ، بے روزگاری اور معاشی تباہی موجودہ حکمرانوں کے دور میں تاریخی عروج پر ہے‘۔

مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے گندم، چینی اور گھی جیسی ضروری اشیا پر سبسڈی چھیننے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے انڈوں، گھی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا

انہوں نے کہا کہ ایک جانب حکومت نے تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کیا اور دوسری طرف حکمران یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک عام آدمی اس سے متاثر نہیں ہوگا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نائب صدر شیری رحمٰن نے کہا کہ حکومت نے اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں 53 فیصد اضافہ کیا ہے جبکہ ہفتہ وار افراط زر کی شرح 12.5 فیصد کے قریب ہے۔

انہوں نے کہا کہ عید سے قبل لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے حکومت نے عوام پر مہنگائی کا ایک بم گرا دیا تھا جبکہ مافیا اربوں روپے کما رہے ہے۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ اس حکومت نے انتہائی مہنگائی اور بے حد بدعنوانی کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹوروں کو غریبوں اور کمزوروں کے لیے قابل رسائی بنا دیا۔

اپوزیشن کے جواب میں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے سماجی روابط کی ویب سائٹ پر کہا کہ ملک بھر کے 4 ہزار 900 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹورز پر نظر ثانی قیمتوں کے باوجود بھی عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے گھی، چینی اور آٹا مارکیٹ کے مقابلے میں 15 تا 18 فیصد کم قیمت پر دستیاب ہے۔

مزیدپڑھیں: بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے صنعتکار پریشان

انہوں نے کہا کہ جنوری 2020 سے جون 2021 تک یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن کو تقریباً 30 ارب کی سبسڈی دی گئی ہے۔

فرخ حبیب نے کہا کہ حکومت پسے ہوئے طبقات پر قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے ’ٹارگٹڈ سبسڈی‘ لارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 4 ہزار یوٹیلیٹی اسٹورز کی کمپیوٹرائزیشن کی جارہی ہے تاکہ شفافیت سے سبسڈی حقدار تک پہنچائی جاسکے۔

فرخ حبیب نے یو این ایف اے او کا حوالہ دے کر بتایا کہ دنیا بھر میں مجموعی طور پر منہگائی 40 فیصد اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں 124 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں