بنگلہ دیش میں شادی کی تقریب پر آسمانی بجلی گرنے سے 17 افراد جاں بحق

05 اگست 2021
بنگلہ دیش میں مارچ سے جولائی کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے واقعات پیش آتے ہیں—فائل/فوٹو: اے ایف پی
بنگلہ دیش میں مارچ سے جولائی کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے واقعات پیش آتے ہیں—فائل/فوٹو: اے ایف پی

بنگلہ دیش کے شمال مغربی علاقے میں کشتی پر جاری شادی کی تقریب پر آسمانی بجلی گرنے سے 17 افراد جاں بحق جبکہ ایک درجن زخمی ہوگئے۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پولیس افسر فرید حسین کا کہنا تھا کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب دولہن کے گھر کی طرف جانے والے افراد کی کشتی شبگنج میں دریائے پدما کے کنارے پہنچی۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: سیلاب سے 20 افراد ہلاک، 3 لاکھ افراد پھنس گئے

فرید حسین نے کہا کہ ‘ہماری معلومات کے مطابق 17 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور کئی افراد کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا’۔

فائرسروس کے عہدیدار مہرالاسلام کا کہنا تھا کہ 14 افراد زخمی ہوئے ہیں اور انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور ان زخمیوں میں دلھا بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں آسمانی بجلی گرنے سے سالانہ سیکڑوں افراد انتقال کر جاتے ہیں اور 2016 میں آسمانی بجلی گرنے کو قدرتی آفت قرار دیا گیا۔

بنگلہ دیش میں آسمانی بجلی گرنے سے 2016 میں صرف مئی میں 200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے اور ایک دن میں 82 افراد دم توڑ گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات اکثر گرمیوں کے مہینوں مارچ سے جولائی کے دوران پیش آتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ آسمانی بجلی گرنے سے ہلاکتوں میں اضافےکی وجہ سے جنگلات کا کٹاؤ ہے کیونکہ ایسے بڑے درخت ختم ہوگئے ہیں جو آسمانی بجلی گرنے کے واقعات سے ہونے والے جانی نقصانات کم ہونے کا باعث بنتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: طوفان کے باعث روہنگیا کیمپوں میں ہزاروں افراد بے گھر

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں مون سون کی بارشوں کے سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ ہفتے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث دیہاتوں میں مقیم 3 لاکھ سے زائد افراد پھنس گئے تھے اور 6 روہنگیا مہاجرین سمیت 20 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بنگلہ دیش اور میانمار کے سرحدی علاقے میں میانمار لگ بھگ 10 لاکھ روہنگیا مہاجرین کیمپوں میں مقیم ہیں اور یہ خطہ پیر سے ہونے والی موسلادھار بارشوں سے شدید متاثر ہوا ہے۔

ضلعی منتظم مامون الراشد نے غیر ملکی خبر ایجنسی کو بتایا کہ کاکس بازار میں سیلاب کے باعث تقریباً 3 لاکھ 6 ہزار افراد پھنسے ہوئے ہیں جبکہ 70 گاؤں ڈوب چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے 6 روہنگیا مہاجرین بھی شامل ہیں جبکہ تقریباً 36 ہزار افراد کو اسکولوں اور سائیکلون شیلٹرز منتقل کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل طوفان کے باعث بنگلہ دیش نے کاکس بازار میں کیمپوں سے 10 ہزار روہنگیا مہاجرین کا انخلا کیا تھا۔

ضرور پڑھیں

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی میں اگر امن وامان، دیانت داری، فرض شناسی اور ذمہ داری کا احساس کرنے والی قیادت منتخب ہو جائے تو عوام کو اچھی سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی تو نصیب ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں