رحیم اللہ یوسفزئی: ایسا صحافی جس نے خواہش کو کبھی خبر نہیں بنایا

10 ستمبر 2021

’مجھ میں اور آپ میں ایک خرابی ہے کہ ہم دونوں اپنے تجزیے خبر کی بنیاد پر کرتے ہیں خواہشات کی بنا پر نہیں‘، یہ وہ گفتگو تھی جو میری رحیم اللہ یوسفزئی سے آخری مرتبہ ہوئی تھی۔

ہم زوم ویبنار کے ذریعے بات کررہے تھے۔

جنرل لودھی، ایاز وزیر اور ہما بھائی کے نام انہوں نے ہی دیے۔ بات جب موجودہ تجزیہ کاروں کے تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے متعلق نکلی تو رحیم اللہ یوسفزئی کہنے لگے کہ ’یہ خواہشات بیان کرتے ہیں، لیکن ہم تم نیوز روم سے آئے ہیں اس لیے یہ کام چاہتے ہوئے بھی نہیں کرسکتے‘۔

رحیم اللہ یوسفزئی سے جب آخری مرتبہ بات ہوئی تو وہ اس بارے میں بہت واضح تھے کہ امریکا افغانستان کو چھوڑ کر نکل جائے گا اور اس کے بعد ایک افراتفری اور انارکی کی کیفیت پیدا ہوگی۔ انہیں بھی سب کی طرح یہ اندازہ تھا کہ اگر افغانستان میں خانہ جنگی ہوتی ہے تو اس کا دباؤ پاکستان پر بھی آئے۔ تاہم انہوں نے ایک اور بات بھی کہی تھی جو اس وقت تو سمجھ نہیں آئی تھی، مگر اب آنا شروع ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’افغان قوم بہت منفرد قوم ہے، ہم جو تجزیے کرتے ہیں بعض اوقات یہ اسے غلط ثابت کردیتے ہیں اس وجہ سے ممکن ہے کہ وہاں خون خرابہ کم ہو‘، رحیم اللہ یوسفزئی کی یہ بات یوں درست ثابت ہوئی کہ اب تک افغانستان میں خانہ جنگی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔

پنجشیر کے بارے میں انہوں نے یہ بتایا تھا کہ پنجشیر پہلے بھی سرنگوں ہونے کے لیے تیار تھا اور احمد شاہ مسعود اس بات پر تیار ہوگئے تھے کہ وہ طالبان کا اقتدار قبول کرلیں گے اور طالبان انہیں پنجشیر میں رہنے دیں گے۔ یعنی پنجشیر ہوتا تو طالبان کی حکومت میں لیکن اس پر کنٹرول احمد شاہ مسعود کا ہی ہوتا۔ اس حوالے سے معاہدہ بھی تیار ہوگیا تھا لیکن پھر یہاں مشرف صاحب نے نواز شریف کا تختہ الٹ دیا اور معاملات ختم ہوگئے۔ اس بات کی تصدیق اس وقت وہاں موجود سفیر نے بھی کی ہے۔

پنجشیر کے بارے میں رحیم اللہ یوسفزئی کا یہ بھی کہنا تھا اس بار طالبان پنجشیر حاصل کرلیں گے۔ کیونکہ جب تک وہ پنجشیر کو حاصل نہیں کرلیں تب تک ان کا مقتدر ہونا ثابت نہیں ہوتا۔

طالبان کے حوالے سے رحیم اللہ یوسفزئی کا ایک جملہ مجھے یاد رہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بہت سی باتیں کرتے ہیں کہ طالبان تبدیل ہوکر آئے ہیں، طالبان انسانی حقوق کی بات کر رہے ہیں، عورتوں کے حقوق کی بات کر رہے ہیں، عورتوں کی تعلیم کی بات رہے ہیں، لڑکیوں کے اسکول اور مدرسے کھولنے کی بات کر رہے ہیں اور خواتین کو مین اسٹریم میں شامل کرنے کی بات کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ وہ دیگر گروہوں کو بھی حکومت میں شامل کرنے کی بات کر رہے ہیں تاہم یوسفزئی صاحب کا کہنا تھا کہ ’طالبان کتنے ہی بدل جائیں، وہ طالبان ہیں‘۔

یہ بہت اہم جملہ تھا اور اب جو معاملات ہمارے سامنے آرہے ہیں وہ یہی ہیں کہ طالبان خواتین پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں، خواتین پر کرکٹ کھیلنے کی پابندی عائد ہوچکی ہے، طالبان نے ابھی تک کسی خاتون کو کابینہ میں شامل نہیں کیا ہے اور ابھی تک جامع مشترکہ حکومت قائم نہیں ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت عبوری حکومت ہے اور امکان ہے کہ جامع حکومت بن جائے، حامد کرزئی کو بھی امید ہے کہ ایسا ہوجائے۔

تاہم مجھے یاد آتا ہے کہ جب دوحہ مذاکرات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ افغانستان میں جامع حکومت قائم ہوگی تو طالبان کی جانب سے جواب آیا تھا کہ بالکل جامع حکومت ہوگی لیکن ہم ان لوگوں کو اپنی کابینہ میں کیسے شامل کرسکتے ہیں جنہوں نے ہمارا قتل کیا ہے اور جن سے ہماری لڑائی ہوتی رہی ہے۔ اس وجہ سے رحیم اللہ یوسفزئی کا وہ جملہ بہت اہم تھا۔

جب 9/11 ہوا تو اسلام آباد دنیا کا دارالحکومت بن گیا اور پشاور بھی کسی طرح پیچھے نہیں رہا۔ بی بی سی کے منجھے ہوئے صحافی جون سمپسن نے پاکستان آتے ہی رحیم اللہ یوسفزئی کو پکڑ لیا اور کہتے ہیں کہ نچوڑ لیا۔ 100 سے زیادہ ممالک میں رپورٹنگ کرنے والے جون سمپسن کا کہنا تھا کہ ’میں نے ان کے ساتھ جتنا بھی وقت گزارا اس میں ایک بار بھی مجھے یہ شک نہیں گزرا کہ رحیم اللہ یوسفزئی جو خبر دے رہے ہیں یا تجزیہ کررہے ہیں وہ معلومات کے بجائے اپنے ذاتی خیال یا خواہش کی بنیاد پر کررہے ہیں۔ وہ ایک واقعے کو دوسرے سے ملاتے اور دو تین ریفرنس دیتے اور پھر نتیجہ سامنے رکھ دیتے‘۔

میں نے بھی رحیم اللہ یوسفزئی کے ساتھ جیو کے دور میں کئی پروگرام کیے، پھر چاہے وہ وار روم ہو، فارن افئیرز ہو یا خبروں کے حصول کے لیے بذریعہ ٹیلی فون ہونے والی گفتگو ہو۔ لیکن مجال ہے کہ ان کی آواز اونچی ہوئی ہو یا وہ موضوع سے بھٹکے ہوں۔

یہاں یہ بات یاد رہے کہ ماہرین تو ایک طرف لیکن ہمارے ٹی وی میزبان بھی اتنا لمبا سوال کرجاتے ہیں کہ بندہ یہ بھی بھول جائے کہ موضوع عراق تھا افغانستان یا فلسطین۔ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا کہ بات افغانستان کی ہورہی ہوتی تو اینکر کے آخری جملے میں کشمیر نکل آتا ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی ایسے لوگوں کو قابلِ رحم اور ناقابلِ اصلاح کہتے تھے۔ ایک بار میں نے کہا کہ مولانا یہ آپ کا احترام عمر کی وجہ سے نہیں بلکہ آپ کے اندازِ صحافت کی وجہ سے ہے تو وہ ہنس پڑے۔ ان کی عمر زیادہ نہیں تھی۔ وہ 1954ء میں پیدا ہوئے اور اس عمر کے لوگ تو آج کل ورلڈ ٹؤر پر ہوتے ہیں۔

جون سمپسن نے رحیم اللہ یوسفزئی کا جو تفصیلی انٹرویو کیا اس نے پاکستان میں ایک نئے انداز کو جنم دیا۔ جون گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا تھا اور اتنا زبردست پروفیشنل تھا کہ طالبان حکومت کے گرنے کی تاک میں رہا اور پھر خبر بریک کرتے ہی سرحد پار پیدل کابل کی طرف دوڑ گیا۔ وہ کہتا ہے کہ ’رحیم اللہ یوسفزئی اپنے موضوع پر اتنی گرفت رکھتے ہیں کہ آپ ان کو ہلا بھی نہیں سکتے۔ بہت سے لوگ بی بی سی کا مائیک دیکھ کر بہک جاتے ہیں لیکن رحیم اللہ یوسفزئی رعب میں آئے نہ جون سے متاثر ہوئے بلکہ اسے طالب علم کی طرح سمجھانے لگے تھے‘۔

رحیم اللہ یوسفزئی بنیادی طور پر رپورٹر تھے اور اسی باعث ایڈیٹر ہوں یا کالم نگار ان کے رابطے سب سے رہتے تھے۔ کٹھن دور میں جب ہمیں طالبان کے بارے میں کسی خبر کی تصدیق درکار ہوتی تو ہم انہی سے رابطہ کرتے اور وہ چند لمحوں میں جواب لے آتے، یہی وجہ ہے کہ طالبان کے ترجمان یوسف شاہین نے ان کو اپنا دیرینہ دوست کہا اور یہ رشتہ 20 برس پرانا تھا۔

ہم یہاں یہ بات بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کا جانا پاکستانی صحافت کے لیے انتہائی بُرا شگون ہے۔ وہ ایسے زبردست صحافی تھے جن پر بہت عرصے تک بہت کچھ لکھا جاتا رہے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان کے بارے میں، قبائل کے بارے میں، قبائلی دوستیوں اور دشمنیوں کے بارے میں اور پاکستان کے اس علاقے کے بارے میں جہاں رحیم اللہ رہتے تھے ان کا فہم اور تجزیہ سب سے زیادہ معتبر رہا۔ اب اگر ہم ایسے لوگ تلاش کریں تو ہمیں بہت اچھے نوجوان اور سینئر افراد ضرور مل جائیں گے جو افغانستان، پاکستان اور اس علاقے پر نظر رکھتے ہیں لیکن رحیم اللہ یوسفزئی والی نظر اب آپ کو نہیں ملے گی۔ زمانہ ایک عرصے تک انہیں یاد کرے گا۔

اپنی رائے دیجئے

2
تبصرے
1000 حروف
محمد مخدوم Sep 10, 2021 03:13pm
بہترین تحریر۔
Khalid H. Khan Sep 12, 2021 06:59pm
بہت دانشور اور گہرا صحافی تھا درحقیقت ایک محسن صحافی - اللہ سبحان و تعالٰی مرحوم کے درجات بلند فرمائے آمین