گورنر اسٹیٹ بینک کو وزیراعظم سے زیادہ بااختیار بنا دیا گیا ہے، احسن اقبال

05 جنوری 2022
مسلم لیگ(ن) سیکریٹری جنرل احسن اقبال کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کنوینر خالد مقبول صدیقی سے گفتگو کررہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز
مسلم لیگ(ن) سیکریٹری جنرل احسن اقبال کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کنوینر خالد مقبول صدیقی سے گفتگو کررہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز

مسلم لیگ(ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے قانون میں گورنر اسٹیٹ بینک کو پاکستان کے وزیر اعظم سے بھی زیادہ طاقتور اور بااختیار بنا دیا ہے، گورنر براہ راست صرف بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی بات سنے گا اور اس قانون کے ذریعے حکومت پاکستان کو بینکوں کا یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ فسکل مانیٹری بورڈ کو اسٹیٹ بینک کے قانون میں ختم کیا گیا ہے اس کے نتیجے میں پاکستان میں معاشی سطح پر انتشار پیدا ہو گا جبکہ فسکل اور مانیٹری پالیسی کو کوآرڈینیٹ کرنے کا میکانزم ختم کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ہمارا ہدف پیپلز پارٹی نہیں عمران خان کی حکومت ہے، احسن اقبال

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح اس میں جو شرائط شامل کی گئی ہیں اس میں اسٹیٹ بینک کے گورنر کو پاکستان کے وزیر اعظم سے بھی زیادہ طاقتور اور بااختیار بنا دیا ہے، پاکستان کا وزیر اعظم تو پھر بھی پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے لیکن گورنر اسٹیٹ بینک نہ پارلیمنٹ کو جوابدہ ہو گا، نہ اس ملک میں کسی کی بات سننے کا مجاز ہو گا، وہ اگر کسی کی بات سنے گا تو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی بات سننے کا مجاز ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کے ذریعے حکومت پاکستان کو بینکوں کا یرغمال بنا لیا گیا ہے اور جب حکومت پاکستان اپنا تمام قرضہ بین الاقوامی بینکوں سے لے گی تو وہ اپنی شرائط پر قرض دیں گے اور ملک کی مالی خودمختاری پر بھی سمجھوتہ ہو گا۔

مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا کہ ہمارے نزدیک اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کا بل ملک کی معاشی خودمختاری کو سرینڈر کرنے کا بل ہےاور ہم سمجھتے ہیں کہ ہر پاکستانی ملک کے دفاع اور خودمختاری میں اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے درخواست کی کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے اسٹیٹ بیننک کے قانون پر نظرثانی کریں اور اس میں وہ شقیں نکالیں جو قابل اعتراض ہیں اور جن سے پاکستان کی مالی خودمختاری پر سمجھوتہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: مسلم لیگ(ن) کی گرین لائن منصوبے کے علامتی افتتاح پر تشدد کی مذمت

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ گزارشات کسی سیاست کے جذبے کے تحت نہیں کی ہیں، یہ حکومت اور اپوزیشن کی بات نہیں ہے، یہ پاکستان کے عوام اور پاکستان کی بات ہے۔

احسن اقبال نے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کو بھی اس بل پر نظرثانی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو پہلے پاکستانی بن کر سوچنا چاہیے تاکہ ہم وہ کام کریں جو پاکستان کے مفاد میں ہے۔

اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایسے آئٹمز جن کا براہ راست اثر عوام پر پڑ رہا تھا، ان پر ہم قومی اسمبلی میں اپنی سفارشات جمع کرانا چاہ رہے تھے لیکن آج ہم نے مسلم لیگ(ن) کی بات بہت غور سے سنی ہے اور کئی پہلوؤں پر دوبارہ غور کریں گے جبکہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں اب اپنی ترامیم میں ایک دو نکات کا اضافہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ کے بعد جو صورتحال ہے اس کے بعد ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کو مل کر فیصلہ کرنا چاہیے، ہم حکومت کا حصہ ہیں یا نہیں ہیں اس بات سے قطع نظر جو فیصلہ پاکستان اور پاکستان کے عوام کے لیے صحیح ہو گا، ہم وہی کریں گے۔

مزید پڑھیں: حکومت کی چھٹی کر کے ہم سے بات کرو، پھر ہم سنبھالیں، آصف زرداری

ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) ڈیل کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی اور ہماری ڈیل صرف عوام کے ساتھ ہے، میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا شکریہ ادا کرتا ہوں انہوں نے بھی اس کی وضاحت کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ضمنی انتخابات میں تواتر کے ساتھ مسلم لیگ(ن) اور اس کے بیانیے پر اعتماد کا اظہار کررہے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کے موجودہ معاشی بحران کا حل فوری، صاف اور شفاف انتخابات ہیں کیونکہ 2018 کا تجربہ ناکام ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے قائد نواز شریف کا یہ نظریہ ہے کہ پاکستان کے مسائل کو کوئی بھی ایک لیڈر، کوئی ایک جماعت اور کوئی ایک ادارہ تنہا حل نہیں کر سکتا اور پاکستان کو درپیش سیاسی، سفارتی اور معاشی چیلنجز کا حل یہی ہے کہ ہر محب وطن آئین اور جمہوریت پر یقین رکھنے والی جماعت ملکی سلامتی اور ملکی مفادات کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے جامع سیاست کرے۔

یہ بھی پڑھیں: نارووال اسپورٹس سٹی کیس میں احسن اقبال اب تک معصوم ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

ان کا کہنا تھا کہ جب مرکز میں ہماری حکومت تھی تو خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی لیکن ہم نے دونوں حکومتوں کو ملا کر سی پیک نیشنل ایکشن پلان اور قومی توانائی پالیسی سمیت قومی پالیسیوں کو کامیاب بنایا لیکن اگر آج اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی تنہا پاکستان کو منزل مراد پر لے کر جا سکتا ہے وہ خودفریبی ہو گی۔

تبصرے (0) بند ہیں