جمہوری قیادت ممالک میں آمروں کے انسداد کیلئے مزید کام کریں، ہیومین رائٹس واچ

13 جنوری 2022
میانمار کے فوجی بغاوت کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں— فائل/ فوٹو: رائٹرز
میانمار کے فوجی بغاوت کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں— فائل/ فوٹو: رائٹرز

ہیومین رائٹس واچ کے سربراہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں جمہوری رہنماؤں کی جمہوری روایات اور اقدار پر موثر طریقے سے پابندی نہ کرنے کے باعث دنیا بھر میں آمروں کو ابھرنے کا موقع ملتا ہے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ہیومین رائٹس واچ کے سربراہ کنیتھ روتھ نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ کورونا اور ماحولیاتی تباہی کے بڑھتے خدشات جیسے عالمی چیلجنز سے نمنٹنے کے لیے جمہوری طریقے سے منتخب رہنماوں کو بہادرانہ اور اصول پسندانہ قیادت کرنے کی ضرورت ہے۔

ہیومین رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ہمیں خوف ہے کہ اگر جمہوری رہنما اس موقعے پر نمایاں طور کھڑے نہیں ہوتے اور جس طرح کی وژنری قیادت کی اس وقت ضرورت ہے اس کا مظاہرہ نہیں کرتے تو وہ لوگوں میں ایک طرح کی مایوسی اور جھنجھلاہٹ پیدا کر رہے ہیں جو کہ آمرانہ اور مطلق العنان حکمرانوں کے لیے بہت زرخیز بنیاد فراہم کرتی ہے اور بلاشبہ یہ ظاہر ہے کہ آمرانہ طرز حکمرانی کو عروج مل رہا ہے۔

مزید پڑھیں :ہیومن رائٹس واچ کا قطر میں مرد کی سرپرستی کا قانون ختم کرنے کا مطالبہ

ہیومین رائٹس واچ کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق 750 سے زائد صفحات پر مشتمل سالانہ رپورٹ جاری کردی گئی تھی، جس میں دنیا بھر میں چین، روس، بیلاروس اور مصر جیسے ممالک میں مخالفانہ آوازوں کے خلاف بڑھتے کریک ڈاون کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں میانمار اور سوڈان سمیت دنیا بھر میں ہونے والی حالیہ فوجی بغاوتوں کو نمایاں کیا گیا ہے اور دنیا کے جمہوری ممالک یا وہ ممالک جو کبھی جمہوری تھے جیسے ہنگری، پولینڈ، برازیل، بھارت اور گزشتہ سال امریکا میں آمرانہ رجحان رکھنے والے رہنماوں کے ابھرنے کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے 2020 کے الیکشن کے نتائج کو تبدیل کرانے کی کوشش ناکام ہوئی لیکن امریکی جمہوریت کو اب بھی چیلنج کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں :میانمار: فوجی بغاوت کیخلاف مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 800 سے زائد ہوگئی

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے ہونے والے کیپیٹل ہل فسادات صرف ایک ابتدا تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہےکہ 6 جنوری کے فسادات انتخاب کے نتائج تبدیل کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش تھی اور اب آئندہ صدارتی انتخاب پر نظر رکھتے ہوئے مزید مؤثر کوششیں جاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انہوں نے جمہوریہ چیک اور اسرائیل کی طرح "بدعنوان آمر" کو بے دخل کرنے کے لیے مختلف سیاسی سوچ رکھنے والی جماعتوں کے وسیع اتحاد کے ابھرنے پر روشنی ڈالی۔

یہ بھی پڑھیں :مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نظر انداز نہیں کی جاسکتی، وزیر خارجہ

انہوں نے میانمار اور سوڈان جیسے ظالمانہ فوجی حکومتوں والے ممالک میں حراست یا گولی کا شکار ہونے کے خطرے کے باوجود ہونے والے جمہوریت کے حامیوں کے مظاہروں اور بڑے پیمانے پر سول نافرمانی کی تحریکوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔

روتھ نے کہا کہ جو حکمران آمرانہ طرز حکومت کو دوبارہ نافذ کرنا یا اسے برقرار رکھنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف بہت سخت مزاحمت کے ساتھ ایک جنگ جاری ہے۔

ہم عالمی سطح پر جمہوری رہنماؤں کے ساتھ ایک غیر اطمینان بخش حالات دیکھ رہے ہیں، ہمیں فوری طور پر جمہوریت کے ساتھ بہتر طرز حکمرانی اورانسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مزید مسلسل آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں