امریکا نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کا 'بیرونی سازش' کا بیانیہ مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 04 جولائ 2022
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ عمران خان کے سازش کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں — فائل فوٹو: رائٹرز
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ عمران خان کے سازش کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں — فائل فوٹو: رائٹرز

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بار پھر اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ان دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ واشنگٹن پی ٹی آئی کی حکومت گرانے کی سازش میں ملوث ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز یہ تنازع میڈیا میں گردش کرنے والی ان رپورٹس کے ساتھ دوبارہ اٹھا جن میں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے سیکریٹری اوورسیز عبداللہ ریار نے امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور ڈونلڈ لو سے رابطہ کیا اور ان سے ماضی کو بھول کر آگے بڑھنے کو کہا ہے۔

مارچ میں عمران خان نے بطور وزیر اعظم عہدے پر موجودگی کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد ان کی خارجہ پالیسی کے باعث 'غیر ملکی سازش' کا نتیجہ ہے اور انہیں عہدے سے بے دخل کرنے کے لیے بیرون ملک سے فنڈز دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سیاست میں مداخلت کے روسی الزامات میں کوئی صداقت نہیں، امریکا

بعد ازاں پی ٹی آئی رہنماؤں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کے دعوے کی بنیاد اس کیبل، مراسلے پر ہے جو واشنگٹن میں پاکستان کے سابق سفیر نے 7 مارچ کو اسلام آباد بھیجا تھا جس میں سازش کی تفصیل درج تھی، اس مراسلے میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان کی ڈونلڈ لو سے پاکستانی سفارتخانے میں ملاقات کی تفصیلات درج تھیں۔

ڈان کو سفارتی ذرائع سے معلوم ہوا تھا کہ اس مراسلے میں مذکور گفتگو سبکدوش ہونے والے سفیر کے الوداعی ظہرانے پر ہوئی تھی اور اس کیبل میں کسی سازش کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا تھا۔

تاہم ڈونلڈ لو نے جو بائیڈن انتظامیہ کی سابق وزیراعظم کے اسی روز دورہ ماسکو کرنے پر جس روز روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا اس پر 'ناخوشی' کا اظہار کیا تھا۔

ڈونلڈ لو نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ 'ناراضی' اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ عمران خان اقتدار میں ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے ساتھ مشترکہ مفادات افغانستان سے بہت آگے ہیں، امریکی محکمہ خارجہ

سابق پاکستانی سفیر کے ساتھ اپنی طویل گفتگو کے دوران ڈونلڈ لو نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بارے میں سوالات بھی کیے تھے کیونکہ ان دنوں یہ معاملات میڈیا میں بہت زیادہ زیر بحث تھے۔

ڈان کی جانب سے عبد اللہ ریار کے ڈونلڈ لو کے ساتھ مبینہ رابطے پر رد عمل جاننے کے لیے امریکی محکمہ خارجہ سے رابطہ کیا گیا تو ترجمان کا کہنا تھا کہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہم نجی سفارتی ملاقاتوں پر تبصرہ نہیں کرتے۔

عمران خان کی جانب سے ان کی حکومت گرانے میں امریکا کے ملوث ہونے کے دعوے پر ترجمان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ ہم اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

امریکا میں موجود پی ٹی آئی کے ذرائع نے بھی رپورٹ کیے گئے رابطے سے متعلق بات کرنے سے انکار کر دیا جب کہ عبد اللہ ریار نے بھی معاملے پر رد عمل جاننے کے لیے کی گئی فون کالز کا جواب دیا نہ ہی اس حوالے سے ان کو بھیجے گئے پیغامات کا کوئی جواب دیا۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں