تھائی لینڈ: ڈے کیئر سینٹر میں فائرنگ، 23 بچوں سمیت 34 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 06 اکتوبر 2022
<p>حملہ آور نے حملے میں اپنی بیوی اور بچے کو بھی قتل کردیا — فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

حملہ آور نے حملے میں اپنی بیوی اور بچے کو بھی قتل کردیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

تھائی لینڈ کے شمال مشرقی صوبے میں بچوں کے ڈے کیئر سینٹر میں فائرنگ کے نتیجے میں 22 بچوں سمیت کم از کم 34 افراد ہلاک ہوگئے۔

خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق پولیس نے اپنے بیان میں بتایا کہ متاثرین میں بچے اور بڑے دونوں شامل ہیں جبکہ حملہ آور ایک سابق پولیس اہلکار ہے جس کی تلاش جاری ہے۔

مزید پڑھیں: تھائی لینڈ: فوجی اہلکار کی آپے سے باہر ہوکر فائرنگ، 20 افراد ہلاک

حکام نے تصدیق کی کہ حملہ آور نے حملے میں اپنی بیوی اور بچے کو بھی قتل کردیا جبکہ واقعے میں 12 افراد زخمی بھی ہوئے۔

خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق تھائی لینڈ کے صوبہ نونگ بوا لام پھو میں شاٹ گن اور چاقو سے لیس حملہ آور نے دوپہر ساڑھے بارہ بجے چائلڈ کیئر سینٹر پر فائرنگ کردی اور بعد میں فرار ہو گیا۔

پولیس کے کرنل جکاپت وجتھریتیا نے بتایا کہ حملہ آور کی شناخت پولیس لیفٹیننٹ کرنل پانیا کھمراب کے نام سے ہوئی ہے اور انہیں منشیات کے استعمال پر گزشتہ سال پولیس کی نوکری سے برطرف کردیا گیا تھا۔

پولیس کرنل نے حملے میں 23 بچوں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مرنے والے بچوں کی عمر دو سے تین سال کے درمیان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تھائی لینڈ: 26 افراد کو قتل کرنے والا سر پھرا فوجی ہلاک

حکومت ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم پرایتھ چن اوچا نے ملزم کو پکڑنے کے لیے تمام ایجنسیوں کو متحرک رہنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے موقع پر پیش آیا ہے جب تقریباً ماہ قبل بینکاک میں حاضر سروس فوجی افسر نے ملٹری ٹریننگ بیس میں 2 ساتھیوں کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔

بینکاک میں لوگوں کی زیر ملکیت بندوق کی شرح کافی زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں فائرنگ کے واقعات بہت کم رونما ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: جنوبی تھائی لینڈ بم دھماکوں، آتشزدگی کے حملوں سے لرز اٹھا

گزشتہ سال بھی بینکاک میں اس طرح کے واقعات پیش آئے تھے جب ایک حاضر سروس فوجی نے اپنے ساتھیوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا۔

تاہم اس سلسلے میں حالیہ عرصے میں سب سے خوفناک واقعہ 2020 میں پیش آیا تھا جب 17 گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی میں ایک فوجی نے 29 افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا تھا اور بعد میں فوجیوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں