موٹر وے فنڈز میں 2 ارب 10 کروڑ روپے کی خورد برد کا الزام، ڈی سی مٹیاری گرفتار

اپ ڈیٹ 18 نومبر 2022
<p>اسسٹنٹ کمشنر منصور عباسی جو  ایکیوزیشن افسر بھی تھے نے مختلف چیکس کے ذریعے 2 ارب 14 کروڑ روپے نکلوائے— فائل فوٹو: ڈان نیوز</p>

اسسٹنٹ کمشنر منصور عباسی جو ایکیوزیشن افسر بھی تھے نے مختلف چیکس کے ذریعے 2 ارب 14 کروڑ روپے نکلوائے— فائل فوٹو: ڈان نیوز

سندھ کے ضلع مٹیاری میں کرپشن کا بڑا اسکینڈل سامنے آگیا جہاں ایک سرکاری افسر موٹروے کی تعمیر کے لیے مختص 2 ارب 10 کروڑ روپے سے زائد رقم نکالنے میں ملوث پایا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس اسکینڈل کے مرکزی کردار 2 بیوروکریٹس مٹیاری کے ڈپٹی کمشنر محمد عدنان اور سعید آباد کے اسسٹنٹ کمشنر منصور عباسی ہیں اور سندھ بینک سعید آباد برانچ بھی معاملے میں ملوث دکھائی دیتی ہے۔

حیدرآباد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے جمعرات کے روز مٹیاری کے ڈپٹی کمشنر کو گرفتار کر کے ان کا 3 روزہ ریمانڈ حاصل کر لیا جب کہ مقدمہ بھی درج کرلیا گیا تاہم اسسٹنٹ کمشنر سعید آباد کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔

تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حیدرآباد ۔ سکھر ایم 6 موٹروے کے لیے زمین کے حصول کے لیے سندھ بینک برانچ سعید آباد سے 2 ارب 12 کروڑ روپے اوپن بیئرر چیک کے ذریعے نکالے گئے، جب کہ رقم نکلوانے کے لیے پہلے سے طے شدہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔

قواعد کے مطابق زمین کی خریداری کا عمل شروع کرنے کے لیے حصول اراضی ایکٹ، 1894 کے سیکشن 11 کے تحت لینڈ ایکوزیشن ایوارڈ پاس کرنا ہوتا ہے جس کے بعد متعلقہ فرد یا پارٹی کو واجبات ادا کیے جاتے ہیں۔

ڈان کی جانب سے دیکھی گئی دستاویزات کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے 2 ارب 70 کروڑ روپے سندھ بینک کے اکاؤنٹ میں ڈی سی مٹیاری لینڈ ایکوزیشن’ کے نام سے جمع کرائے تھے، تاہم 17 اکتوبر سے 11 نومبر کے درمیان اسسٹنٹ کمشنر منصور عباسی جو کہ ایکیوزیشن افسر بھی تھے نے مختلف چیکس کے ذریعے 2 ارب 14 کروڑ روپے نکلوائے، تاہم نکالی گئی رقم کہاں گئی اس کا تاحال کوئی سراغ نہیں ملا۔

ڈپٹی کمشنر مٹیاری اور اسسٹنٹ کمشنر سعید آباد زمین کے حصول کی کارروائی سے متعلق صرف جزوی ریکارڈ فراہم کر سکے جس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے خط و کتابت اور ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی شامل ہے، جب کہ زمین کے حصول کے لیے معاوضے کی ادائیگی کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔

اسکینڈل نے متعلقہ بینک کی کارکردگی پر بھی سوالیہ اٹھادیے ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ زمین کے حصول کے لیے رقم کی ادائیگی کے لیے کبھی بھی نقد لین دین نہیں کیا جاتا۔

سرکاری عہدیدار کے مطابق اس طرح کی ادائیگیوں کے لیے پے آرڈرز، ڈیمانڈ ڈرافٹ یا کراس چیک جیسے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

سندھ حکومت نے معاملے کو دیکھنے کے لیے 13 نومبر کو 2 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی تھی، دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ تحقیقات کے لیے جب بینک کی برانچ پہنچی تو منیجر چھٹی پر تھا۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ سندھ حکومت کی جانب سے اعلیٰ سطح پر اٹھایا گیا ہے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھی کرپشن سے متعلق آگاہ کیا جا رہا ہے۔

وفاقی حکومت سے بھی ان افسران کے خلاف ضروری کارروائی کرنے کا کہا گیا ہے کیونکہ ان کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کیڈر سے ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں