صدر فیفا نے قطر پر انسانی حقوق کی آڑ میں تنقید کو یورپ کی منافقت قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2022
<p>فیفا ورلڈکپ 2022 کا آغاز آج قطر میں رنگا رنگ تقریب سے ہوگا—فوٹو : اے ایف پی</p>

فیفا ورلڈکپ 2022 کا آغاز آج قطر میں رنگا رنگ تقریب سے ہوگا—فوٹو : اے ایف پی

فٹبال ورلڈ کپ 2022 کے میزبان ملک قطر پر انسانی حقوق کی آڑ میں تنقید کو فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر گیانی انفانٹینو نے یورپ کی منافقت قرار دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فٹبال کا سب سے بڑا عالمی میلہ فیفا ورلڈ کپ 2022 کا آغاز آج قطر میں رنگا رنگ تقریب سے ہوگا، پہلا میچ میزبان ملک قطر اور ایکواڈور کے درمیان کھیلا جائے گا جبکہ فائنل 18 دسمبر کو ہوگا۔

12 برس قبل ورلڈ کپ کی میزبانی کا حق ملنے کے بعد سے قطر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

تارکین وطن اور ہم جنس پرست افراد کے حقوق سمیت شراب کی فروخت کے علاوہ قطر جتنے حجم والے ملک کی ورلڈ کپ کی میزبانی کی اہلیت پر پہلے روز سے سخت سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

ورلڈ کپ کے آغاز سے ایک روز قبل دوحا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گیانی انفانٹینو نے قطر اور فیفا کا بھرپور دفاع کیا، انہوں نے یورپ کے ماضی کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ قطر پر سوال اٹھانے کا حق یورپ کو حاصل نہیں۔

ماضی میں یورپ کی جانب سے تارکین وطن، ہم جنس پرستی اور خواتین کو ووٹ کا حق دینے میں ہچکچاہٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’دنیا کو اخلاقیات کا سبق دینے سے پہلے ہم یورپی گزشتہ 3 ہزار برسوں سے جو کچھ کر رہے ہیں اس کے لیے ہمیں آئندہ 3 ہزار برس تک معافی مانگنی چاہیے‘۔

یہ ورلڈ کپ کے آغاز کا ایک غیر معمولی طریقہ تھا لیکن گیانی انفانٹینو نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ’ٹورنامنٹ کے آغاز کے ساتھ ہی سب کی توجہ فٹبال پر ہی مرکوز ہوگی‘۔

درحقیقت ایسا ہی ہوا، گیانی انفانٹینو کی گفتگو ختم ہونے کے صرف ایک گھنٹے بعد بات چیت کا رخ اس جانب ہوگیا کہ ورلڈ کپ کیسے کھیلا جائے گا۔

گیانی انفانٹینو کے بعد فیفا کے ٹیکنیکل اسٹڈی گروپ نے گفتگو کے لیے وہی پوڈیم سنبھالا، گروپ کی سربراہی اس کے چیف آف گلوبل فٹ بال ڈیولپمنٹ آرسین وینگر نے کی۔

انہوں نے کہا کہ ’فٹ بال میں بہت تبدیلیاں آچکی ہیں، ہر 4 برس بعد ہمیں ایک نئی صورتحال کا سامنا کرنا ہوتا ہے، روس میں ورلڈ کپ نے ہمیں سکھایا کہ جیتنے کے لیے گیند پر زیادہ کنٹرول ہونا ضروری نہیں ہے، جو ٹیمیں فائنل میں جائیں گی وہ تکنیکی صلاحیتوں کے اعتبار سے بہتر ہوں گی‘۔

ٹیموں کے درمیان بھی اب تمام تر گفتگو فٹ بال کے بارے میں ہی ہے، 4 برس قبل فرانس سے فائنل ہارنے والے کروشین فٹبالر برونو پیٹکووچ اور مارکو لیواجا نے کہا کہ ان کی نئی حکمت عملی بھی فائنل تک پہنچنے کے لیے ہی ہے۔

گزشتہ ورلڈ کپ کے مقابلے میں اس بار ورلڈ کپ کے لیے جوش و خروش اب تک کم نظر آرہا تھا لیکن فیفا کی جانب سے گزشتہ شب فین فیسٹیول کا آغاز ہوتے ہی شائقین البدا پارک میں جمع ہوگئے، ساتھ ہی دوحہ کارنیش پر اسٹریٹ فیسٹیول کا بھی آغاز ہوگیا۔

افتتاحی تقریب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بھارت سے آئے ایک مداح نے بتایا کہ ’یہ واقعی بہت شاندار ہے، بہت لطف آرہا ہے، ہم یہاں بہت اچھا وقت گزار رہے ہیں‘۔

آتش بازی کے ساتھ ٹورنامنٹ کی رونقوں کا باقاعدہ آغاز بھی ہوگیا، فیفا اور قطر کے منتظمین کو امید ہے کہ یہ رونقیں ورلڈ کپ کے ارد گرد شور کو ختم کرنے کا سبب بھی بنیں گی۔

تبصرے (0) بند ہیں