لاہور: اسکول میں طالبہ پر تشدد کا معاملہ، متاثرہ لڑکی سمیت 5 طالبات معطل

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2023
<p>متاثرہ لڑکی کے والد عمران یونس کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا بعدازاں ان کی ضمانت منظور ہوئی تھی۔—فوٹو: ٹوئٹر</p>

متاثرہ لڑکی کے والد عمران یونس کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا بعدازاں ان کی ضمانت منظور ہوئی تھی۔—فوٹو: ٹوئٹر

لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ایک نجی اسکول میں ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے معاملے پر انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ لڑکی سمیت 5 طالبات کو انکوائری مکمل ہونے تک معطل کردیا گیا ہے۔

لاہور کے علاقے ڈیفنس میں بی بی بلاک میں قائم امریکن انٹرنیشنل اسکول کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق 4 طالبات کی طرف سے ایک ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے معاملے پر انتظامیہ نے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے طالبات کو انکوائری مکمل ہونے تک معطل کردیا ہے۔

انتظامیہ بشمول پرنسپل اور دیگر سینیئر اساتذہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں اسکول انتظامیہ نے کہا کہ سینیئر اساتذہ پر مشتمل تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو 10روز میں اپنی انکوئری مکمل کرکے رپورٹ انتظامیہ کے پاس جمع کرائے گی۔

انتظامیہ کے مطابق کمیٹی کی تحقیقات کی روشنی میں ذمہ دار طالبات کے خلاف کارروائی کی جائے گی کیونکہ طالبات نے اسکول کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے.

اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے میں موجود 5 طالبات کو انکوائری مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے۔

اسکول پرنسپل نے واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کی 25 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔

خیال رہے کہ 20 جنوری کو لاہور کے نجی اسکول کی طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس کی جانب سے مقدمہ اس وقت درج کیا گیا تھا جب متاثرہ لڑکی کو ساتھی طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کرنے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وائرل ہوئی تھی۔

متاثرہ لڑکی کے والد عمران یونس کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق والد کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں بی بی بلاک میں قائم امریکن انٹرنیشنل اسکول میں زیرتعلیم ہے، والد نے الزام لگایا کہ حملہ کرنے والی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کے ہاتھ میں خنجر بھی تھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حملہ آور ہونے والی لڑکیوں نے ان کی بیٹی کو بالوں سے کھینچ کر زمین پر گھسیٹا اور اس کے اوپر چڑھ گئیں اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

عمران یونس کا کہنا تھا کہ حملہ آور لڑکیوں میں سے ایک لڑکی باکسر ہے جس نے میری بیٹی کے چہرے پر مکا مارا جس کے نتیجے وہ زخمی ہوگئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اور لڑکی نے متاثرہ لڑکی کا گلا دبانے کی کوشش کی، حملہ آور لڑکیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے سوشل میڈیا میں موجود ویڈیو کلپ ثبوت کے لیے کافی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد ان کی بیٹی کو شدید صدمہ پہنچا تاہم سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں اور ان کے اہل خانہ کو ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔

بعدازاں 21 جنوری کو لاہور سیشن عدالت نے نجی اسکول میں طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں مقدمے میں نامزد 3 طالبات کی عبوری ضمانتیں منظور کرلیں۔

پولیس کی جانب سے مقدمہ اس وقت درج کیا گیا تھا جب متاثرہ لڑکی کو ساتھی طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کرنے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وائرل ہوئی تھی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں