بڑھاپے اور بزرگی میں اپنی جوانی ملک کے نام کرنے والوں کو شدید گرمی میں بینک کی قطاروں میں رسوا کرنا ناقابل برداشت ہے۔  — آن لائن/فائل
بڑھاپے اور بزرگی میں اپنی جوانی ملک کے نام کرنے والوں کو شدید گرمی میں بینک کی قطاروں میں رسوا کرنا ناقابل برداشت ہے۔ — آن لائن/فائل

عید سے کچھ دن پہلے پینشن اور تنخواہوں کی آس میں بینکوں میں مجبور ملازمین کی لمبی قطاریں دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ بڑھاپے اور بزرگی میں اپنی جوانی ملک کے نام کرنے والوں کو موسمِ گرما کی چلچلاتی دوپہروں میں بینک کی قطاروں میں رسوا کرنا ناقابل برداشت ہے۔

میں حیران ہوں کہ ترقی کے اس دور میں بھی ہمارے پاس اس کا مؤثر حل کیوں نہیں۔ پینشن کو براہِ راست اے ٹی ایم سے منسلک اکاؤنٹ میں کیونکر بھیجا نہیں جا سکتا تاکہ کسی کو بینک آنے یا ڈاک خانے جانے کی ضروت ہی پیش نہ آئے؟

دسمبر سے لے کر مارچ تک میں پاکستان میں تھا۔ اس دوران کئی دفعہ بینک جانے کا اتفاق ہوا۔ بینک کا اے ٹی ایم کارڈ پھر سے بنوانے کا اتفاق ہوا، اپنی این جی او کی رجسٹریشن کے لیے ایک بینک میں سرکاری فیس جمع کروانے کے کٹھن مرحلے سے بھی گزرا۔

سرکاری بینک کی ایک بڑی برانچ میں فیس جمع کروانے گیا تو وہاں لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ فیس اور بل جمع کرنے والا ایک ہی شخص تھا، کم از کم بیس بندوں کی لمبی لائن لگی ہوئی تھی جو کچھوے کی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی۔

ایسا نہیں تھا کہ پیسے وصول کرنے والا تندہی سے کام نہیں کر رہا تھا، بلکہ ارد گرد سے لوگ لائن میں داخل ہو رہے تھے۔ بینک کا سیکورٹی گارڈ تک اپنے جاننے والوں کو لائن میں ایڈجسٹ کر رہا تھا۔

آدھے گھنٹے میں جب افسر بیس افراد نمٹا چکا اور ہم کھڑکی کے پاس پہنچے تو صورت حال کا مزید اندازہ ہوا۔ فیس یا بل والا کاغذ روپوں کے ساتھ وصول کیا جا رہا تھا، اس کے بعد اس کو اگلے کاؤنٹر پر بھیجا جا رہا تھا، جہاں اس پر مہر لگائی جا رہی تھی، وہاں سے یہ ایک اور کاؤنٹر پر جا رہا تھا جہاں اس کو ایک رجسٹر میں انٹر کیا جا رہا تھا اور ابتدائی دستخط کیے جا رہے تھے۔ پھر ایک اور کاؤنٹر پر کوئی افسر ایک پورا دستخط کرتا اور یہ رسید واپس جمع کنندہ تک پہنچا دی جاتی۔

جمع کرنے والا انتہائی جانفشانی سے لوگوں سے روپے وصول کر رہا تھا۔ اس کے ماتھے پر پسینہ آیا ہوا تھا۔ اس کا رویہ زیادہ کام کی وجہ سے جھنجھلاہٹ آمیز تھا اور وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگوں کو ڈانٹ رہا تھا، جیسے تمہیں نہیں پتہ کہ فارم کیسے فل کرتے ہیں، جاؤ اٹھاؤ اس کو پھر سے فل کرو وغیرہ۔

پاکستانی بینکوں میں ایسے کام کے نمونے ہر دفعہ اور ہر روز دیکھنے کو ملتے ہیں، اور اس میں صرف سرکاری بینک قصوروار نہیں بلکہ کچھ کو چھوڑ کر کئی کمرشل بینکوں کا بھی یہی حال ہے۔

یہاں تک بھی ہوسکتا ہے کہ اگر آپ کو دن میں ایک کام سے بینک میں جانا ہے، تو ہو سکتا ہے کہ آپ کا پورا دن اسی چھوٹے سے کام کی نذر ہو جائے۔

مجھے بینک میں جا کر ڈنمارک سے بھیجے ہوئے روپے وصول کرنے تھے۔ اس چھوٹے سے کام میں کتنا وقت لگ سکتا ہے؟

بینک میں داخل ہوا: "آئیے بیٹھیے۔ شناختی کارڈ کی کاپی دیجیے۔ اوہو۔ بینک کا انٹرنیٹ کنکشن ڈاؤن ہے۔ آپ آدھے گھنٹے بعد پتا کیجیے۔"

آدھے گھنٹے بعد: "کنکشن چل گیا ہے، لیکن سسٹم میں بھیجے ہوئے پیسے نظر نہیں آ رہے۔"

پھر آدھے گھنٹے بعد: "افسر کھانا کھا رہا ہے۔"

ایک گھنٹے کے بعد: "آپ فلاں بینک سے کیوں نہیں پتہ کر لیتے؟"

ویڈیو: نیشنل بینک کے لنک ڈاون ہونے سے 16 لاکھ سے زائد پنشنرز متاثر

بینکاری کی جدید سہولیات پاکستان میں ناپید نہیں ہیں۔ کمرشل بینکوں کی جانب سے تنخواہوں کی براہِ راست اکاؤنٹ میں منتقلی، اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے پیسے نکلوانا، دنیا بھر میں قابلِ قبول ویزا اور ماسٹر کارڈز کا اجرا، انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے بلوں کی ادائیگی، موبائل فون اور انٹرنیٹ کے بیلنس ڈلوانے، پیسے ٹرانسفر کرنے، اور یونیورسٹیوں کی فیس ادا کرنے کی سہولیات موجود ہیں۔

لیکن دلی ہنوز دور است کے مصداق اب بھی کئی بینک اس میدان میں بہت پیچھے ہیں، اور نیشنل بینک کی تو خیر کیا بات کی جائے۔ لیجرز میں انٹری کا وہی بوسیدہ نظام، تند مزاج بینک افسران، مکمل طور پر کاغذ پر منحصر بینکاری، اور زیادہ تر ڈاؤن رہنے والے اے ٹی ایم لنکس اس بینک کی پہچان بن چکے ہیں، حالانکہ یہی وہ بینک ہے جس سے سب سے زیادہ لوگوں کا کام پڑتا ہے۔

سرکاری دفاتر سے متعلق مزید دلچسپ مضامین


- پاکستان میں پاسپورٹ کی تجدید کا تلخ تجربہ

- تصدیق پر تصدیق پھر بھی جعلسازی

- فوٹو کاپی کا نیا قانون

ڈنمارک میں بینکنگ کو دن بدن سادہ کیا جا رہا ہے۔ آپ کی تنخواہ بینک میں آتی ہے۔ آپ کا ویزا کارڈ یا ماسٹر کارڈ تقریباً ہر دکان پر کارآمد ہے۔ چاہے آپ ایک روپے کی خریداری کریں یا ایک ہزار کی، بینک کارڈ کی مدد سے آپ پیسے ادا کر سکتے ہیں۔

یہاں نیشنل بینک کے اے ٹی ایم کارڈ ویزا یا ماسٹر کارڈ نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان کے ذریعے کہیں خریداری نہیں کی جا سکتی۔ انٹرنیٹ بینکنگ کا کوئی تصور نہیں، چنانچہ لنک ڈاؤن ہو اور بینک بند ہو تو بس آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں، آپ اپنے ہی پیسے استعمال کرنے سے رہ جاتے ہیں۔

ڈنمارک میں بہت سے بینک خود سے کیش دینے کے بجائے لوگوں کو اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکالنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ کسی کو پیسے بھیجنے کے لیے بینک فیس چارج کرتا ہے، جبکہ اگر یہی کام انٹرنیٹ پر کر لیا جائے تو تقریباً مفت ہے۔

دوسری جانب ہم لوگ اب بھی اس دور میں جی رہے ہیں جہاں اے ٹی ایم مشین میں 'پیسے ختم' ہوجاتے ہیں، اور اگر اتفاق سے پیسے ٹرانسفر کرنے کے لیے قومی بینک کا رخ کر لیا جائے تو فارم بھرو، اور فارم میں ذرا سی غلطی ہوجائے تو بینک کا افسر آپ کو ایسے ڈانٹتا ہے جیسے اسکول ٹیچر۔ جبکہ اسی کے مقابلے میں کمرشل بینک ہیں جو کسٹمر کی اتنی نازبرداری کرتے ہیں کہ وہ اپنا سب کچھ بینک کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔

ڈنمارک میں بھی دس بیس لوگوں کی لائن لگ جاتی ہے، لیکن آپ جس بینکر کے پاس جاتے ہیں، آپ کے سبھی مسائل کا حل اسی کے پاس ہوتا ہے۔ آپ نے پیسے دینے یا لینے ہیں، چیک بک لینی ہے یا کارڈ کے حوالے سے کچھ بات کرنی ہے، آپ کا فارم ٹیبل ٹیبل گھومتا نہیں۔ ایک ہی بندہ آپ کا کام کر دیتا ہے اور یوں کام کافی جلدی ہو جاتا ہے۔

پھر یہ کہ رش کے اوقات میں بینک کا دیگر عملہ مل جل کر اس لوڈ کو کم کرتا نظر آتا ہے، جبکہ پاکستان میں اگر ایک کام پر چار بندے بھی لگے ہوں تو تین کا کام تو دستخط کرنا ہی ہوتا ہے۔

نجانے پاکستان میں ہمارے بینکوں کا نظام کب ترقی کرے گا۔ کب ہمارے بینک اپنے ایک ایک فرد کو ذمہ دار بنائیں گے کہ وہ اپنی جمع کی ہوئی رقم کو تین لوگوں سے دستخط کروائے بغیر خود ہی جمع کرنے کے مجاز ہو جائیں اور کب یہ بینک اس قابل ہو جائیں گے کہ ان کے باہر بوڑھے پینشنرز دو چار ہزار روپے حاصل کرنے لیے سارا دن دھوپ میں ہلکان نہیں ہوں گے۔

کیا آپ بھی سرکاری دفاتر میں ایسی ہی صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں دیجیے۔