لاہور: ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس کے ملزم وسیم کے کزن نے تفتیش کے لیے خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔

سینئر پولیس آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ حق نواز نے قندیل بلوچ کے قتل میں مشتبہ طور پر ملوث ہونے پر، ڈیرہ غازی خان کے کالا پولیس اسٹیشن میں خود کو پولیس کے حوالے کیا۔

سینئر پولیس آفیسر کا کہنا تھا کہ قندیل بلوچ کے قاتل بھائی وسیم نے اپنے اعتراف جرم میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے تنہا ماڈل کو قتل کیا اور قتل سے قبل اس نے اپنی بہن کو نشہ آور دوا دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: قندیل کو قتل سے قبل نشہ آور دوا دی، بھائی کا اعتراف

تاہم پولیس کو قتل میں حق نواز کے بھی ممکنہ طور پر ملوث ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث اب اس سے تحقیقات کی جائیں گی۔

پولیس نے وسیم کا جمعے کے روز لاہور کی فرانزک لیب میں پولی گرافک اور ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرایا تھا۔

یاد رہے کہ 16 جولائی کو ملتان کے علاقے کریم آباد میں قندیل بلوچ کو ان کے اپنے گھر میں قتل کردیا گیا تھا۔

ان کے والد نے دعویٰ کیا تھا کہ قندیل کو اس کے چھوٹے بھائی وسیم نے غیرت کے نام پر قتل کیا۔

قندیل بلوچ کے قتل کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو، ملک میں غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے کئی عرصے سے زیر التوا قانون سازی کے لیے سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، تاکہ ورثا کی جانب سے قاتل کو معاف کرنے کے سقم کو دور کیا جاسکے۔

اس حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے قانون متفقہ طور پر منظور کرانا چاہتی ہے اور اس حوالے سے پارلیمنٹ میں موجود مذہبی جماعتوں سے مذاکرات جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: ن لیگ کا غیرت کے نام پر قتل کےخلاف بل منظور کرانے کا اعلان

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ قائمہ کمیٹی نے چار روز قبل، غیرت کے نام پر قتل اور انسداد عصمت دری کے دو بل اتفاق رائے سے منظور کرلیے تھے۔

بل اگست کے پہلے ہفتے میں پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔