ایم کیو ایم لندن کے کارکنوں کے خلاف کارروائی

ای میل

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن کے کارکنان کے خلاف لیاقت علی خان چوک (مکا چوک) کے قریب پولیس کے ساتھ تصادم اور ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز عزیز آباد میں لیاقت علی خان چوک اور نائن زیرو کے اطراف موجود یوم شہداء منانے والے ایم کیو ایم لندن کے کارکنان کی جانب سے ’ یادگار شہداء' پر حاضری کی کوشش کی گئی تھی، جسے پولیس کی جانب سے روکا گیا تھا۔

روکے جانے پر ایم کیو ایم لندن کے کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا تھا، جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے کئی افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

لیاقت علی خان چوک پر ایم کیو ایم کا جھنڈا لہرانے اور پولیس پر پتھراؤ میں ملوث ایم کیو ایم لندن کے تقریباً 100 کارکنان کے خلاف عزیز آباد تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جس میں ہنگامہ آرائی، نقصِ امن اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

عزیزآباد تھانے میں درج کیے جانے والے مقدمے میں 15 سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا ہے تاہم عزیز آباد کے اسٹیشن پولیس آفیسر (ایس ایچ او) نے بتایا کہ اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی،حیدرآباد میں کشیدگی،ایم کیو ایم لندن کے متعدد کارکن گرفتار

دوسری جانب حیدرآباد میں بھی پکا قلعہ اور گذشتہ رات پولیس چھاپوں میں گرفتار ہونے والے ایم کیو ایم لندن کے کارکنوں میں سے 14 کو فورٹ تھانے کی پولیس نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جہاں عدالت نے ملزمان کو 7 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم جاری کردیا۔

فورٹ پولیس کی جانب سے ایم کیو ایم لندن کے کارکنان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعہ6/7 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

250 افراد کے خلاف درج کی جانے والی ایف آئی آر میں متحدہ لندن کے 20 کارکنان کو نامزد کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز حیدرآباد میں بھی ایم کیو ایم کے سیکڑوں کارکنوں کی جانب سے پکا قلعہ میں یادگارِ شہداء پر پہنچنے اور بانی متحدہ الطاف حسین کے حق میں نعرے لگانے کے بعد کشیدگی دیکھنے آئی تھی۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن سیکریٹریٹ کے کارکنوں کے ساتھ مبینہ تصادم کے بعد پولیس نے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق پکا قلعہ میں یاد گار شہداء پر پہنچنے والے کارکنان نے فاتحہ خوانی کے بعد متحدہ بانی الطاف حسین کے حق میں نعرے بازی شروع کردی تھی۔

متحدہ کے مشتعل کارکنان پولیس کے اعلیٰ حکام کی ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے نہ ہی منتشر ہوئے اور نہ پاکستان مخالف نعرے سے باز آئے، جس کے بعد پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس فائر کیے جبکہ درجنوں کارکنان کو حراست میں لے لیا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ 'ایم کیو ایم لندن کو کسی بھی قسم کی تقریب منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی‘۔