نئی ٹیم کے لیے دہشتگردی اور بھارت بڑے چیلنجز

اپ ڈیٹ 15 دسمبر 2016

ای میل

جب نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کور کمانڈرز کانفرس کی صدارت کریں گے تو سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی صدارت میں ہونے والی آخری کور کمانڈرز کانفرنس میں جو افسران موجود تھے، ان کے علاوہ اب کانفرنس میں کئی نئے چہرے بھی موجود ہوں گے۔

نئے آرمی چیف کو بڑے پیمانے پر فوجی عہدوں پر نئی تقرریاں کرنے میں سہولت سبکدوش ہونے والے چیف نے فراہم کی، جنہوں نے اکتوبر/نومبر میں کئی سینیئر افسران کی ترقیاں اور تقرریاں ملتوی کر دیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ جنرل راحیل شریف نے یہ آپشن استعمال کیوں نہیں کیا۔ ان سے قبل دونوں آرمی چیف، ریٹائرڈ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور پرویز مشرف اپنی مدت کے آخری ہفتوں میں ایسا کر چکے ہیں۔

شاید یہ ان کی جانب سے نئے آرمی چیف کی عزت افزائی کے لیے ہو، یا شاید اس لیے کہ آخری ہفتوں میں بطور آرمی چیف ان کے ذہن میں دوسری چیزیں موجود تھیں، مثلاً عہدے میں توسیع کی قیاس آرائیاں اور پنجاب میں عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے معاملے پر سول عسکری تناؤ کے بارے میں خبر پر حکومت کے ساتھ کھلے عام تنازع۔

پڑھیے: سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی: اصل وجوہات؟

خیر جو بھی ہو، یہ واضح ہے کہ اس فیصلے نے نئے آرمی چیف کو ابتدا سے ہی اپنی من پسند ٹیم تشکیل دینے میں مدد دی، اگرچہ یوں ضرور محسوس ہوا کہ جنرل باجوہ نے اپنی جانب سے کی جانے والی تمام تبدیلیوں پر غور فکر میں ہفتے سے 10 دن تک کا وقت لیا۔

اب جب وہ کور کمانڈرز کانفرنس کی صدارت کریں گے تو اعلیٰ ترین فوجی افسران میں ان کی جانب سے مقرر کردہ چیف آف جنرل اسٹاف، آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل، اور پشاور، راولپنڈی، ملتان، بہاولپور اور کراچی کے نئے کور کمانڈرز بھی ہوں گے۔

پہلے سے مقرر کردہ اور اب تک عہدوں پر فائز کور کمانڈرز میں، منگلا، گجرانوالہ، لاہور اور کوئٹہ کے کورکمانڈرز ہوں گے۔ کور کمانڈر کوئٹہ کو کمانڈر سدرن کمانڈ کہا جاتا ہے۔

موجودہ کمانڈر سدرن کمانڈ چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے کی دوڑ میں سب سے اول دکھائی دے رہے تھے، مگر شاید ایک سال قبل منظرِ عام پر آنے والی ان کی علالت آڑے آ گئی ہو، جس کی وجہ سے ان پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا۔

پالیسی میں تبدیلیاں

فوج کی کمان میں ہر تبدیلی کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی لازمی طور پر اٹھتا ہے کہ کیا نئے چیف اور ان کی مکمل طور پر الگ دکھائی دینے والی ٹیم مختلف شعبوں کی پالیسیوں میں تبدیلی لائے گی، اور اگر لائے گی تو کس طرح۔

دو کور کمانڈرز، جو نسبتاً کافی سخت گیر مؤقف رکھتے تھے، اب جنرل باجوہ کے ان پر سبقت لے جانے کی وجہ سے ریٹائرمنٹ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ چند دیگر کور کمانڈرز کو مختلف عہدوں پر فائز کر دینے کے بعد اب نئے چیف پالیسی میں جیسی چاہیں تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔

پڑھیے: کمان بدلنے سے سول ملٹری تعلقات میں بہتری نہیں آئے گی

تمام باخبر ذرائع سے ہونے والی تمام گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی، البتہ جنرل کیانی کی مدت کے دوران شروع ہونے والے داخلی سلامتی کے آپریشنز، جنہیں ان کے بعد آنے والے آرمی چیف نے بھرپور انداز میں جاری رکھا ہوا تھا، میں مزید تیزی لائی جائے گی۔

داخلی سلامتی اور انسداد دہشتگردی کا ٹریک ریکارڈ رکھنے والے افسران کی بطور چیف آف جنرل اسٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی اس خیال کو تقویت بخشتی ہے۔

چیف جنرل آف اسٹاف جیسے انتہائی اہم عہدے پر ایک جونیئر ترین لیفٹینینٹ جنرل کو تعینات کرنا یہ واضح کرتا ہے کہ آرمی چیف ان آپریشنز میں دلچسپی لیں گے اور ہدایات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نگرانی بھی کریں گے۔

یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف ایکشن میں تیزی لانے کے علاوہ ہندوستان کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کی جائے گی یا نہیں، مگر کوئی بھی آرمی چیف اس معاملے پر سستی سے کام نہیں لے سکتا۔

یہاں جنرل کیانی کا ایک بیان دہرانا مناسب ہوگا۔

ہندوستان کی جانب سے اس دور کی حکومت کو امن کی تجاویز پیش کرنے پر انہوں نے کہا تھا کہ، "مجھے ان کی صلاحیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے جواب دینے کے لیے تیار رہنا ہے، نہ کہ ان کے ارادوں کو دیکھتے ہوئے، کیوں کہ ارادے تبدیل ہوسکتے ہیں۔"

جس طرح ابھی مودی اور اجیت ڈوول کی جوڑی شدت کی راہ اختیار کر رہی ہے، ایسے میں پاکستان کی جانب سے مؤقف میں نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ تاہم ہو سکتا ہے کہ سول حکومت اور وزیرِ اعظم کو پالیسی میں تبدیلی لانے اور اس پر عمل درآمد کے بارے میں سوچنے کا پہلے سے زیادہ اختیار حاصل ہو۔

آنے والے ہفتے ہی یہ واضح کریں گے کہ وزیرِ اعظم کے پاس ایسے معاملات میں زیادہ اختیارات ہوں گے یا نہیں۔ بہتر تجارتی تعلقات کی صورت میں ایک اشارہ مل سکتا ہے۔

سول حکومت اور افواج دونوں افغان مسئلے پر گہری دلچسپی کے ساتھ کسی بہتر حل کے لیے پر عزم اور کوشاں نظر آ رہی ہیں۔

آئی ایس آئی کے سبکدوش ہونے والے ڈائریکٹر جنرل کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ انہوں نے سرکش افغان طالبان کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے تھے۔ مگر فی الحال کوئی نہیں جانتا کہ اب کون سے نئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

پڑھیے: 'نئے آرمی چیف بھی وزیراعظم کی پالیسی پر عمل کریں گے'

افغان طالبان کے علاوہ بھی مسائل موجود ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ دہشتگرد تنظیم دولتِ اسلامیہ (آئی ایس) افغانستان کے ان علاقوں میں خود کو مستحکم کر رہی ہے جہاں حکومت کی رٹ کمزور ہے، جبکہ پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں ملوث چند گروپس بھی خود کو آئی ایس کی صفوں میں شامل کر رہے ہیں۔ ان میں لشکرِ جھنگوی العالمی اور تحریکِ طالبان پاکستان کے دو دھڑے بھی شامل ہیں۔

امید ہے کہ جب سول حکومت کو پالیسی تشکیل دینے اور متعارف کرنے میں زیادہ اختیار حاصل ہو، تو بلوچستان کے زخموں کا مداوا کیا جائے کیوں کہ بھلے ہی سخت اقدامات سے ظاہری طور پر امن بحال ہوا ہو، مگر اندر ہی اندر کھولتی ہوئی مایوسی کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ امید بھی ہے کہ نواز شریف نئے حاصل ہونے والے اختیارات کو پھر سے 1990 کی دہائی کو دہراتے ہوئے مطلق العنانیت حاصل کرنے کے بجائے ملک کی بہتری، اور دہشتگردی، غربت، جہالت، بے روزگاری اور عدم مساوات کے مسائل ختم کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 14 دسمبر 2016 کو شایع ہوا۔