سانحہ بلدیہ: رحمٰن بھولا سے تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

ای میل

سانحہ بلدیہ کے مرکزی ملزم عبدالرحمٰن عرف بھولا کو بنکاک پولیس نے حراست میں لیا تھا — فائل فوٹو /اے ایف پی
سانحہ بلدیہ کے مرکزی ملزم عبدالرحمٰن عرف بھولا کو بنکاک پولیس نے حراست میں لیا تھا — فائل فوٹو /اے ایف پی

کراچی: بنکاک سے کراچی منتقل کیے جانے والے سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مرکزی ملزم عبدالرحمٰن عرف بھولا سے تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)تشکیل دے دی گئی۔

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی ، ملٹری انٹیلی جنس، انٹیلی جنس بیورو سندھ، پاکستان رینجرز، اسپیشل برانچ اور کاؤنٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ کے افسران شریک ہوں گے۔

جے آئی ٹی کے کنوینیئر سینیئر سپرینٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) انویسٹی گیشن ون ، ویسٹ زون اختر فاروق ہوں گے۔

حکم نامے کے مطابق جے آئی ٹی 7 یوم کے اندر اپنی تفتیش مکمل کرے گی اور تفتیش مکمل ہونے کے دو روز بعد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

گزشتہ روز یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ پولیس نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مزید ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری کا مرکزی ملزم بنکاک سے کراچی منتقل

ملزم کی شناخت ہائی پروفائل ٹارگٹ کلر یوسف عرف گدھا گاڑی کے نام سے کی گئی جس نے اہم انکشافات کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ وہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مرکزی کردار رحمٰن بھولا کا قریبی ساتھی ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی تھی اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی سے) نے کیس کے مرکزی ملزم رحمٰن عرف بھولا کو بنکاک سے کراچی منتقل کردیا تھا۔

عبدالرحمٰن بھولا کو 3 دسمبر کو تھائی پولیس نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران بنکاک سے گرفتار کیا تھا۔

ستمبر 2012 میں کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سانحے کی طویل تحقیقات کے بعد گزشتہ ماہ پولیس نے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت ضمنی چارج شیٹ پیش کی تھی جس کے تحت ایم کیو ایم کراچی تنظیمی کمیٹی کے سابق سربراہ حماد صدیقی، ان کے مبینہ فرنٹ مین اور اس وقت بلدیہ کے سیکٹر انچارج عبدالرحمٰن عرف بھولا اور دیگر تین سے چار نامعلوم افراد کو مفرور قرار دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ اس کیس میں شامل دیگر درجنوں افراد کو عدم ثبوت کی بناء پر چھوڑ دیا گیا تھا جبکہ فیکٹری کے مالکان کو پروسیکیوشن کے گواہ کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر اس واقعے پر پولیس نے فیکٹری مالکان اور چند ملازمین کے خلاف چارج شیٹ تیار کی تھی تاہم گزشتہ برس فروری میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سندھ ہائی کورٹ میں رپورٹ پیش کی جس میں انکشاف کیا گیا کہ مالکان کی جانب سے بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگائی گئی۔

اس کے بعد مارچ میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے واقعے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔

جے آئی ٹی نے حماد صدیقی، عبدالرحمٰن، زبیر، علی حسن، عمر حسن، عبدالستار، اقبال ادیب خانم اور چار نا معلوم افراد کو ملزم نامزد کیا تھا تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ ان میں سے صرف دو ملزمان کے خلاف قابل تجریم شواہد موجود ہیں۔