'ملکی سلامتی کیلئےانتہاپسندی، دہشتگردی کےخاتمے کی پالیسی ناگزیر'

اپ ڈیٹ 13 مارچ 2017

ای میل

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں آپریشن رد الفساد کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی سلامتی کے لیے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کی پالیسی ناگزیر ہے۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز، مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ شریک ہوئے۔

اجلاس میں آپریشن رد الفساد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، واضح رہے کہ گذشتہ ماہ ملک کے مختلف شہروں میں یکے بعد دیگرے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد 22 فروری کو پاک فوج نے ملک بھر میں آپریشن ’رد الفساد‘ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں:پاک فوج کا ملک بھر میں ’رد الفساد‘ آپریشن کا فیصلہ

آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت لاہور میں سیکیورٹی اجلاس میں کیا گیا تھا، جس کا مقصد ملک بھر کو اسلحہ سے پاک کرنا، بارودی مواد کو قبضے میں لینا، ملک بھر میں دہشت گردی کا بلاامتیاز خاتمہ اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

22 فروری کے بعد سے اس نئے فوجی آپریشن کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کرکے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک اور گرفتار کیا ہے۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے پاکستانی فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے ہونے والی اب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایات دیں کہ اس کی رفتار مزید بڑھائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن ’رد الفساد‘ کا راولپنڈی سے آغاز

اجلاس کے دوران انسداد دہشت گردی کے حوالے سے مختلف قوانین کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ان قوانین کو مزید موثر بنانے کے طریقوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ امن اور ترقی کے دشمنوں کو ملک میں امن و استحکام کی بحالی کی کوششوں کو برباد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی کوششوں میں مزید تیزی لانے اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اس کے عملرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

علاوہ ازیں اجلاس کے دوران پاک-افغان سرحد پر بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے حالیہ اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔