عمران خان کے خلاف عدم کارروائی، ن لیگ کی اداروں پر تنقید

اپ ڈیٹ مئ 25 2017

ای میل

اسلام آباد: حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان جاری لفظی جنگ نے اُس وقت نیا رخ اختیار کرلیا جب لیگی رہنماؤں نے ریاستی اداروں اور عدالت پر الزام لگایا کہ وہ عمران خان کو 'رعایت' دے رہے ہیں۔

لیکن پی ٹی آئی، جسے ان دنوں سپریم کورٹ میں غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کا سامنا ہے، کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں اور اسامہ بن لادن جیسے افراد سے فنڈز وصول کررہی ہے۔

پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ 'ہم قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی ریوینیو بورڈ (ایف بی آر)، اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے درخواست کررہے ہیں کہ وہ منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور اثاثوں کی جھوٹی تفصلات جمع کرانے پر عمران خان کے خلاف ایکشن لیں لیکن یہ ادارے بےبس نظر آتے ہیں'۔

وزارت کیڈ طارق فضل چوہدری کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'عمران خان کے خلاف مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں بینچ کی تشکیل میں بھی زائد وقت لگتا ہے، میں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ عمران خان کے خلاف ایکشن لیا جائے جو اشتہاری ملزم ہیں لیکن اب تک ان کے خلاف کچھ نہیں ہوا'۔

لیگی رہنما دانیال عزیز، جو اپریل 2016 میں پاناما پیپرز سامنے آنے کے بعد سے پاناما کیس میں وزیراعظم نواز شریف کے مؤقف کی وکالت کرتے رہے ہیں، کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس میں وزیراعظم کا نام شامل نہیں تھا اور پھر بھی وہ اپنی تین نسلوں کا منی ٹریل دے چکے ہیں۔

دانیال عزیز نے کہا 'دوسری جانب عمران خان بنی گالہ میں خریدی گئی اربوں روپے مالیت کی جائیداد کے معاملے پر اداروں اور عدلیہ کو چکما دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں اور عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں جیسا کہ شریف خاندان کے خلاف کیس میں کیا جارہا ہے۔

لیگی رہنما نے کہا 'ہم سپریم کورٹ اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے احکامات پر عمل کررہے ہیں لیکن عمران خان نے 2014 میں قائم ہونے والی دوسری جے آئی ٹی کے سامنے بھی اپنا جواب جمع نہیں کرایا، جو 2014 کے دھرنے کے دوران پی ٹی وی جیسے ریاستی اداروں پر قبضے اور حملے کے کیس میں قائم کی گئی تھی'۔

پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے دانیال عزیز سے مطالبہ کیا کہ وہ ای سی پی کے باہر گفتگو کے دوران صحافیوں کو 'عمران خان کے سسرالی' کہنے پر معافی مانگیں۔

دانیال عزیز نے وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی کہ ان کا مطلب یہ تھا کہ میڈیا بھی عمران خان کو رعایت دے رہا ہے اور جے آئی ٹی کے ساتھ ان کے عدم تعاون کو بالکل سامنے نہیں لایا جارہا تاہم انہوں نے اپنے کہے گئے الفاظ پر صحافیوں سے معذرت کرلی۔

لیکن لیگی رہنما نے اس بات کا اطمینان بخش جواب نہیں دیا کہ ان کی اپنی جماعت نیب، ایف بی آر اور ای سی پی کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔

ان کا صرف یہ کہنا تھا کہ عمران خان نے غلط منی ٹریل پیش کیا ہے۔

ن لیگ کے لیے غیر ملکی فنڈنگ؟

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے حکمراں جماعت کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 'ہم اپنی پوزیشن واضح کرچکے ہیں اور اب عوام جانتی ہے کہ عمران خان لندن میں ایک فلیٹ کے مالک ہیں جو انہوں نے نیازی سروسز کے ذریعے خریدا، اس کے علاوہ اس آف شور کمپنی کا اور کوئی تعلق نہیں'۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان تفصیلات فراہم کرچکے ہیں کہ یہ فلیٹ کس طرح خریدا اور فروخت کیا گیا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا 'پاکستان مسلم لیگ نواز (برطانیہ) سے متعلق ن لیگ کیا کہے گی جو وہاں فنڈز لینے کے لیے رجسٹرڈ ہے؟'۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی دستاویزات پیش کرکے یہ ثابت کریں گے کہ ن لیگ اور جمعیت علماءاسلام (ف) غیر ملکی حکومتوں سے فندز وصول کررہی ہیں۔


یہ خبر 25 مئی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔