ہیمبرگ: جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں 20 ترقی یافتہ ممالک کے جی 20 اجلاس کے دوران ہونے والے مظاہروں اور جھڑپوں میں 500 کے قریب پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

پولیس کے مطابق جی 20 اجلاس ختم ہونے اور تمام ممالک کے رہنماؤں کی واپسی کے بعد بھی دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کی جانب سے شدید احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اورتیسری رات بھی کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔

واضح رہے احتجاج کا یہ سلسلہ 7 جولائی کو جی 20 اجلاس شروع ہونے سے قبل ہی شروع ہوچکا تھا جو 8 جولائی کو اجلاس ختم ہونے تک جاری رہا تاہم اس کی شدت میں کمی آگئی تھی۔

مزید پڑھیں: جی 20 اجلاس کے خلاف احتجاج،پولیس کا مظاہرین پر واٹرکینن کا استعمال

پولیس نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ مظاہرین نے مختلف علاقوں میں خالی بوتلوں سے گاڑیوں کو نشانہ بنایا جبکہ کئی گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی گئی تاہم فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین پر واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا اور انہیں پیچھے دھکیل دیا۔

ہیمبرگ پولیس کے ہیڈ آف آپریشنز ہرٹمٹ ڈیویڈ نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ جمعرات (6 جولائی) سے شروع ہونے والے احتجاج میں 500 کے قریب پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ 20 ہزار اہلکار صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 186 مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا تاہم زخمی ہونے والے مظاہرین کی حتمی تعداد ابھی معلوم نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ماحولیاتی تبدیلی معاہدے پر 175 ممالک کے دستخط

اس سے قبل جرمن صدر فرانک والٹر اشٹائن نے ہیمبرگ کے میئر کے ہمراہ ہسپتالوں کا دورہ کیا اور زخمی پولیس اہلکاروں سے ملاقات کی، اس موقع پر جرمن صدر کا کہنا تھا کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر حملے اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کا عمل قابل مذمت اور حیران کن ہے۔

ہیمبرگ کے میئر نے پولیس کی کارکردگی اور شہریوں کی جانب سے ملٹری ہسپتال میں زیر علاج زخمی پولیس اہلکاروں کے لیے لائے گئے گلدستوں کے عمل کی تعریف کی اور مظاہرین کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس نے طاقت کا غلط استعمال کیا جیسا کہ پوسٹ وار کے زمانے میں کیا گیا تھا اور مظاہرین کو طویل عرصے کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ جرمنی میں پیدا ہونے والی اس صورتحال نے کئی سوالات کوجنم دیا ہے کہ کیسے دائیں بازو کے شدت پسندوں نے ہیمبرگ پر کنٹرول حاصل کیا اور پھر بھرپور احتجاج کیا؟ جبکہ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ جرمن چانسلر انجیلا مریکل نے دائیں بازو کے شدت پسندوں کے مرکزی علاقے میں ہی کیوں جی 20 اجلاس کا انعقاد کیا؟


یہ خبر 10 جولائی 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں