کراچی: سندھ حکومت کی جانب سے گذشتہ روز 5 ایڈیشنل انسپکٹر جنرلز (اے آئی جیز)، کراچی پولیس چیف اور ڈپٹی انسپکٹر جنرلز (ڈی آئی جیز) کے تبادلوں اور تعیناتیوں کو موجودہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اے ڈی خواجہ کو 'تنہا' کرنے کا ایک سیاسی اقدام تصور کیا جارہا ہے۔

محکمہ پولیس کے ذرائع کے مطابق اے ڈی خواجہ نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو لکھے گئے خط میں پولیس ڈپارٹمنٹ سے مشاورت کیے بغیر بڑے پیمانے پر تبادلوں اور تعیناتیوں پر 'شدید تحفظات' کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق اپنے خط میں اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ سینئر پولیس افسران سے مشاورت کے بغیر بڑے پیمانے پر حالیہ تبادلوں اور تقرریوں کے نتیجے میں پولیس کی کارکردگی 'بری طرح متاثر' ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی جی سندھ پولیس کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کے ذمہ دار صوبائی وزیر داخلہ ہوں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز، ڈی آئی جی فنانس اور دیگر سینئر افسران کی غیر موجودگی میں پولیس سیکریٹریٹ 'مفلوج' ہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کے مطابق سندھ پولیس کے محکمہ انکوائری اینڈ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے چیئرمین گریڈ 21 کے افسر غلام قادر تھیبو کو مشتاق احمد مہر کی جگہ ایڈیشنل آئی جی کراچی تعینات کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: سندھ پولیس میں تبادلے،غلام قادرتھیبو ایڈیشنل آئی جی کراچی تعینات

نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق احمد مہر (بی ایس-21) کو ٹریفک پولیس سندھ کا ایڈیشنل آئی جی تعینات کردیا گیا۔

جبکہ ایڈیشنل آئی جی ٹریفک پولیس خادم حسین بھٹی کا تبادلہ کرتے ہوئے انہیں ایڈیشنل آئی جی ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انسپیکشن تعینات کردیا گیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل آئی جی ریسرچ، ڈیولپمینٹ اینڈ انسپیکشن سردار عبدالمجید کو ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس (ایڈیشنل آئی جی) سندھ تعینات کردیا گیا.

جبکہ موجودہ ایڈیشنل آئی جی سندھ آفتاب احمد پٹھان کو گریڈ 21 کے افسر ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی کی جگہ ایڈیشنل آئی جی کرائم برانچ کے عہدے پر تعینات کردیا گیا۔

تاہم ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے ایڈیشنل آئی جی کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دیتے رہیں گے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ جون میں سندھ حکومت نے ایس پیز، ایس ایس پیز اور ان عہدوں کے برابر افسران کے تبادلوں اور پوسٹنگ کے اختیارات انسپیکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے لے کر سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈنیشن ڈیپارٹمنٹ کو دے دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی جی سندھ سے سینئر پولیس افسران کے تقرر، تبادلوں کا اختیار واپس

صوبائی حکومت کے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ گریڈ 21 کے سول سرونٹس کے تبادلے اور تقرریاں عموماً اسلام آباد میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے کی جاتی ہیں، تاہم چونکہ ان افسران کی خدمات صوبائی حکومت کے پاس تھیں لہذا صوبہ ان کا تبادلہ یا تعیناتی کرسکتا ہے۔

دوسری جانب چیف سیکریٹری کی جانب سے جاری کیے گیے ایک اور نوٹیفکیشن کے ذریعے ہوم منسٹر کو پورے صوبے میں ڈی آئی جی رینک کے افسران کو ہٹانے یا تقرری کے اختیارات دے دیے گئے، یہی وجہ ہے کہ ان سینئر پولیس افسران کے تبادلے یا تقرری کے لیے وزیراعلیٰ کی اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔

ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ سیاسی اشرافیہ کا فیصلہ تھا، جس کا مقصد بظاہر اے ڈی خواجہ کو تنہا کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: اے ڈی خواجہ کی معطلی کے خلاف درخواست 'سازش': سندھ حکومت

ان کا مزید کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر اس طرح کے تبادلوں و تقرریوں سے سول سرونٹس میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔

مذکورہ افسر نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں تو جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں بھی نہیں ہوئی تھیں، عموماً ایڈیشنل انسپکٹر جنرلز (اے آئی جی) کو تعینات کیا جاتا ہے جنہیں اپنے جونیئر افسران کی ٹیم منتخب کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

تاہم حالیہ دنوں میں ایس پیز اور ایس ایس پیز کے تبادلوں اور تقرریوں کی وجہ سے ایڈیشنل انسپکٹر جنرلز کو اُسی ٹیم کے ساتھ کام کرنا پڑے گا، جو ان کے لیے پہلے ہی منتخب کرلی گئی ہے۔


یہ خبر 18 جولائی 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی