اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گیتریز نے میانمار حکومت کو کہا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی کارروائیاں معطل کرے اور ان پر ہونے والے تشدد کو بھی بند کر دیا جائے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ میانمار میں انسانی صورت حال تباہ کن ہے، دنیا بھر کے ممالک وہاں کے متاثرین کے لیے امداد فراہم کریں۔

انھوں نے کہا کہ میانمار کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دے یا کم از کم ایسی حیثیت دے کہ وہ اپنی زندگی اچھے طریقے سے گزار سکیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ 3 لاکھ 80 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں، دنیا بھر کے ممالک ان کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے پر میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے کئی مرتبہ بات کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:بھوک سے نڈھال روہنگیا مسلمان مہاجرین کیمپوں میں اشتعال

خیال رہے کہ 25 اگست کو میانمار میں اراکان روہنگیا آرمی کی جانب سے سرکاری فورسز پر حملے کے بعد ریاست رخائن میں مسلمانوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی تھی جس کے بعد سیکڑوں مسلمان جاں بحق ہوئے جبکہ لاکھوں کی تعداد میں نقل مکانی پر مجبور ہوگئے تھے۔

ابتدائی طور پر اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ میانمار کی ایک ریاست میں فوجی بیس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد شروع ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں 38 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کرچکے ہیں۔

میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ 'دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں' کے خلاف کارروائی کررہی ہے کیونکہ عوام کا تحفظ ان کا فرض ہے۔

دوسری جانب روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں بے دخل کرنے کے لیے قتل وغارت کی مہم شروع کی گئی ہے۔

میانمارکی فوج کی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق جھڑپوں اور کارروائیوں کے دوران 370 روہنگیا عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ 13 سیکیورٹی فورسز، دو سرکاری اہلکار اور 14 عام افراد بھی مارے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میانمار: ایک ہفتے میں ہلاک روہنگیا افراد کی تعداد 400 سے زائد

خیال رہے کہ 2012 میں ہونے والے فرقہ وارانہ واقعات میں 200 افراد ہلاک اور ایک لاکھ 40 ہزار کے قریب افراد بے گھر ہوگئے تھے جس کے مقابلے میں تازہ واقعات بدترین ہیں۔

میانمار فوج کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ روہنگیا افراد کی جانب سے چھوٹے پیمانے پرحملے کیے جارہے ہیں جس کے بعد میانمار کی فوج کی جانب سے سخت کارروائی کی گئی۔

تاہم بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کرنے والے لاکھوں روہنگیا مسلمان اس کے برعکس میانمار کی فوج کے ظلم کی کہانیاں سنارہے ہیں جبکہ مذکورہ علاقوں میں عالمی میڈیا کی پہنچ نہیں ہے۔