— کریٹیو کامنز فوٹو
— کریٹیو کامنز فوٹو

دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سائبر کرنسی بٹ کوائن نے پہلی دفعہ پانچ ہزار ڈالرز کی حد کو عبور کرلیا ہے۔

اس سے قبل اگست میں اس نے چار ہزار ڈالرز کی حد کو عبور کیا تھا مگر اس کے بعد اس کی قیمت میں کمی دیکھنے میں آئی، جس کی وجہ چین کی جانب سے ورچوئل کرنسیوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کا اعلان اور روس کا ایسا عندیہ تھا۔

تاہم اب وہ ایک بار پھر اس کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اس کرنسی کے ایک یونٹ یا یوں کہہ لیں کہ ایک روپے کی قیمت 5200 (لگ بھگ ساڑھے پانچ لاکھ پاکستانی روپے) تک پہنچ چکی ہے۔

یعنی آپ ایک بٹ کوائن سے 113 گرام دس تولے سے زیادہ سونا خرید سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : دنیائے انٹرنیٹ کی کرنسی

واضح رہے کہ بٹ کوائن کا استعمال اشیاءاور سروسز کو ادائیگی کے حوالے سے لوگوں کو بینکوں اور ادائیگی کے روایتی پراسیس کو بائی پاس کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

بٹ کوائن اور دیگر ایسی ہی ورچوئل کرنسیوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ان خدشات کے باوجود تھم نہیں سکا کہ یہ قیمتیں اچانک زمین پر بھی گرسکتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں سال کے آغاز میں اس کرنسی کی قیمت صرف 966 ڈالرز تھی اور ایک سال کے دوران اس کی قیمت میں 750 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق بٹ کوائن کی سکیل ایبلیٹی اور ٹرانزیکشن کے لیے تیز پراسیس نے اس کی قیمت میں نمایاں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔

پانچ ہزار ڈالرز کی حد عبور کرنا بٹ کوائن کے لیے ایک سنگ میل ہے کیونکہ اسے ڈیجیٹل گولڈ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں : ایک بٹ کوائن 5 تولے سونے سے بھی مہنگا

کسی حقیقی کرنسی کے مقابلے میں بٹ کوائنز ہر طرح کے ضابطوں یا حکومتی کنٹرول سے آزاد ہے اور اس کا استعمال بہت آسان ہے۔

اس وقت اسے متعدد ممالک جیسے کینیڈا، چین اور امریکا وغیرہ میں استعمال کیا جارہا ہے تاہم دنیا میں انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والا ہر شخص اس کرنسی کو خرید سکتا ہے۔

اس کرنسی کی لین دین کے لیے صارف کا لازمی طور پر بٹ کوائن والٹ اکاؤنٹ ہونا چاہئے جسے بٹ کوائن والٹ اپلیکشن ڈاؤن لوڈ کرکے بنایا جاسکتا ہے۔ والٹ اکاؤنٹس کو پے پال، کریڈٹ کارڈز یا بینک اکاؤنٹس وغیرہ کے ذریعے بٹ کوائنز خریدنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مائیکروسافٹ سمیت انٹرنیٹ پر کام کرنے والی سینکڑوں کمپنیاں بٹ کوائنز کو قبول کرتی ہیں، جن میں سوشل گیمنگ سائٹس جیسے زینگا، بلاگ ہوسٹنگ ویب سائٹس جیسے ورڈ پریس اور آن لائن اسٹورز جیسے ریڈیٹ اور اوور اسٹاک ڈاٹ کام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

یہ بھی دیکھیں : آسٹریلیا: بٹ کوائن کے 'موجد' کے خلاف چھاپے

اس وقت دنیا بھر میں لاکھوں بٹ کوائن گردش کررہے ہیں۔