قومی اسمبلی میں حلقہ بندیوں پر آئینی ترمیمی بل لانے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 25 اکتوبر 2017

ای میل

— فوٹو: بشکریہ پی آئی ڈی
— فوٹو: بشکریہ پی آئی ڈی

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے حلقہ بندیوں پر بحث اور مشاورت کے لیے قومی اسمبلی میں آئینی ترمیمی بل لانے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس کے ابتدائی سیشن میں مدعو کیے جانے پر امام کعبہ ڈاکٹر صالح بن حُمید مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔

امام کعبہ نے کابینہ سے خطاب کے لیے مدعو کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر صالح بن حُمید نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات تاریخی اور مضبوط ہیں، پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب کا ساتھ دیا اور ہر طرح کے حالات میں اس کے ساتھ کھڑا رہا۔

انہوں نے کہا کہ کامیابی باہمی اتحاد میں ہے اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی مفادات میں فیصلے کیے جانے چایئیں۔

یہ بھی پڑھیں: حلقہ بندیوں کیلئے مردم شماری نتائج فوری جاری کیے جائیں، ای سی پی

امام کعبہ نے کابینہ اور پاکستانی عوام کے لیے خادم حرمین شریفین، سعودی ولی عہد، علما اور عوام کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

بعد ازاں وفاقی کابینہ کے باضابطہ اجلاس کا آغاز ہوا جس میں قانونی کیسز کو نمٹانے کے حوالے سے کابینہ کمیٹی کی جانب سے 16 اکتوبر کو دی گئی سفارشات کی توثیق کی گئی۔

کابینہ کے اجلاس میں حلقہ بندیوں کا بل بحث اور مشاورت کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

قبل ازیں شماریات بیورو نے مردم شماری پر کابینہ کو بریفنگ دی۔

وفاقی کابینہ نے کوئٹہ میں ’ڈرگ کورٹ‘ قائم کرنے اور جسٹس آفتاب احمد کو انسداد اسمگلنگ ایکٹ 1977 کے سیکشن ’46 ون‘ کے تحت اسپیشل جج ایپلٹ کورٹ سندھ تعینات کرنے کی بھی منظوری دی۔

مزید پڑھیں: حلقہ بندیوں کیلئےمردم شماری کے عبوری نتائج کے استعمال کا فیصلہ

وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکریٹری کو نیشنل ٹیلی کمیونیکشن کارپوریشن کے منیجمنٹ بورڈ کا چیئرمین تعینات کرنے اور پاکستان ایگری کلچر ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے بورڈ آف گورنرز کی تشکیل نو کی بھی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں کابینہ نے پی اے آر سی اور چین کی لین زو یونیورسٹی کے درمیان سائنسی معلومات کے تبادلے اور باہمی تعاون کے معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز کرنے کی بھی منظوری دی۔