حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس: جسٹس آصف سعید کی بینچ کا حصہ بننے سے معذرت

اپ ڈیٹ 13 نومبر 2017

ای میل

سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج آصف سعید کھوسہ نے حدیبیہ پیپرز ملز کے حوالے سے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ریفرنس پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت سے معذرت کرلی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے معذرت کے بعد اپیل پر سماعت کے لیے بینچ دوبارہ تشکیل کرنے کا معاملہ واپس چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا۔

گذشتہ ہفتے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا 3 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا جس کے دیگر ارکان میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں۔

حدیبیہ پیپرز ملز کیس میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نیب کی جانب سے دائر درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ہونی تھی تاہم جیسے ہی جسٹس آصف سعید کھوسہ عدالت پہنچے تو انہوں نے کیس کی سماعت سے معذرت کرلی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میں نے 20 اپریل کے پاناما فیصلے میں حدیبیہ پیپرزملز کے ریفرنس پر 14 پیرا گراف پر مبنی اپنے مشاہدات پیش کیے تھے جس میں حدیبیہ کیس کھلنے کے حوالے سے حکم، اسحٰق ڈار کی حد تک کا فیصلہ اور نیب کو کارروائی کا حکم بھی دیا جاچکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شاید رجسٹرار آفس نے پاناما فیصلے میں میرے مشاہدات نہیں پڑھے اور اس وجہ سے یہ کیس غلطی سے میرے بینچ میں لگا دیا گیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی کہ اس کیس کے لیے نیا بینچ تشکیل دیا جائے۔

سپریم کورٹ کے اس 3 رکنی بینچ کے تحلیل ہونے پر نیب پراسیکیوٹر نے سماعت کو آئندہ ہفتے مقرر کرنے کی درخواست کردی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کو آج (13 نومبر) سے نیب کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف دائر حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کرنی تھی۔

حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس

خیال رہے کہ حدیبیہ پیپرز ملز شریف خاندان نے 1992 میں کمپنی آرڈیننس 1984 کے تحت قائم کی تھی۔

حدیبیہ پیپرز کے سات ڈائریکٹرز تھے جن میں میاں محمد شریف، میاں شہباز شریف، عباس شریف، حمزہ شہباز شریف، حسین نواز شریف، صبیحہ عباس اور شمیم اختر شامل ہیں جبکہ کمپنی آرڈیننس کے تحت اس مل کا 30 جون 1998 میں آڈٹ ہونا تھا۔

کمپنی کے دو ڈائریکٹرز میاں عباس شریف اور صبیحہ عباس کے دستخط کردہ سال 1998 کی بیلنس شیٹ آڈٹ کے لیے پیش کی گئی، بیلنس شیٹ میں 61 کروڑ 22 لاکھ روپے کی اضافی رقم شیئر ڈپازٹ کی مد میں پیش کی گئی تھی جبکہ اس رقم سے قبل بھی 3 کروڑ روپے بیلنس شیٹ میں موجود تھی جس کی کوئی وضاحت شریف خاندان کے پاس نہیں تھی۔

دونوں رقوم کو ملا کر کل رقم 64 کروڑ 27 لاکھ روپے بنتی ہے، اسی بیلنس شیٹ میں التوفیق سے سرمایہ کاری کے لیے قرضے اور پھر لندن میں مقدمے کا بھی انکشاف ہوا جس کی تفصیلات آڈیٹر کو فراہم نہیں کی گئیں، یہ معاملہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو بھیجا گیا۔

مزید پڑھیں: حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس: 13 نومبر سے نیب کی اپیل پر سماعت کا آغاز

مذکورہ معاملے کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی جانے والی رقم کو فارن ایکوٹی انویسٹمنٹ کے طور پر قانونی ظاہر کیا گیا، مذکورہ رقوم غیر ملکی اکاؤنٹس سے بھجوائی جاتی رہیں جبکہ اسحٰق ڈار نے منی لانڈرنگ کے لیے غیر ملکی بے نامی اکاﺅنٹس کھولے اور انہوں نے قاضی خاندان کو دھوکا دے کر ان کے نام پر رقوم بیرون ملک منتقل کیں۔

غیر ملکی جعلی اکاؤنٹس صدیقہ سید، سکندرہ مسعود قاضی، کاشف مسعود قاضی اور طلعت مسعود قاضی کے ناموں سے 1992 میں کھلوائے گئے تھے جبکہ مذکورہ خاندان کو ان اکاﺅنٹس کا علم ہی نہ تھا۔

خیال رہے کہ اس کیس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اور نواز شریف کے دست راست اسحٰق ڈار نے عدالت کے سامنے اپنے اعترافی بیان میں شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا اور نہ صرف مزکورہ بالا چار اکاؤنٹس کھلوائے بلکہ کئی دیگر اکاﺅنٹس بھی کھلوائے جن میں اسحٰق ڈار کے قریبی ساتھی، نواز شریف کے ملازمین اور نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کے اکاﺅنٹس بھی شامل ہیں اور اس سارے عمل میں نیشنل بینک کے صدر کا منی لانڈرنگ میں تعاون رہا۔

نیب کے ریفرنس کے مطابق ان اکاﺅنٹس کو کھلوانے کا مقصد Protection of Economic Reforms Act 1992 کے تحت کالا دھن سفید کرنا تھا جبکہ اسحٰق ڈار نے 90 کی دہائی میں 1 ارب سے زائد کی منی لانڈرنگ کی تاہم وہ وعدہ معاف گواہ بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں: حدیبیہ ملز کیس: نیب،ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی

یاد رہے کہ نیب کی رپورٹ کے مطابق کالا دہن صرف 64 کروڑ 27 لاکھ روپے پر ہی نہیں رکتا، جیسا کہ التوفیق نامی کمپنی نے 1998 میں لندن کی عدالت میں شریف خاندان کے خلاف مقدمہ کیا اور فیصلہ شریف خاندان کے خلاف آیا مگر شریف خاندان نے التوفیق کمپنی کو 80 لاکھ ڈالر دیکر آﺅٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی۔

حدیببیہ پیپرزملز اسکینڈل میں 73 کروڑ 21 لاکھ روپے معلوم آمدنی کے ذرائع سے غیر متناسب ہیں، مذکورہ ریفرنس اس بنا پر داخل دفتر ہوا تھا کہ شریف خاندان، جنہیں بطور ملزمان نامزد کیا گیا تھا، بیرون ملک تھے۔

ملزمان نے 2011 میں لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ ریفرنس ختم کیا جائے اور دوبارہ تحقیقات نہ کرائی جائیں، جس پر 2 رکنی بینچ نے منقسم فیصلہ دیا تو ریفری جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ کیس دوبارہ تحقیقات کے لیے نہیں کھولا جا سکتا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ کی ہدایت پر بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں عملدرآمد بینچ کے رو برو 21 جولائی کو نیب حکام نے پیش ہوکر آگاہ کیا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر مشاورت کر رہے ہیں لیکن نیب حکام نے معاملے پر عدالت عظمیٰ سے رجوع نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: حدیبیہ مل کیس: شیخ رشید کا نیب کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

شیخ رشید نے عدالت ِ عظمیٰ میں نیب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دی تھی جسے پانچ رکنی بینچ نے شریف خاندان کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت کے دوران سنا تاہم اس سے ایک روز قبل 14 ستمبر 2017 کو نیب حکام نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے اور 20 ستمبر کو نیب نے لاہور ہائی کورٹ کا حدیبیہ پیپرز ملز پر دوبارہ تحقیقات نہ کرنے کے فیصلے کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا۔

سپریم کورٹ میں تاحال حدیبیہ پیپرملزکیس سے متعلق درخواست کو سماعت کے لیے 13 نومبر کو مقرر کردیا گیا، جس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کرے گا تاہم کیس کے آغاز کے ساتھ ہی شریف خاندان کے لیے مشکلات کا بھی نیا دور شروع ہوجائے گا۔