حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس: 13 نومبر سے نیب کی اپیل پر سماعت کا آغاز

اپ ڈیٹ 10 نومبر 2017

ای میل

اسلام آباد: شریف خاندان کی مشکلات میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل پر سماعت کے لیے 3 رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے نیب کی اپیل پر 3 رکنی بینچ تشکیل دیا جس کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کریں گے۔

3 رکنی بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں۔

خیال رہے کہ تین رکنی بینچ 13 نومبر کو حدیبیہ پیپز ملز ریفرنس پر نیب کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کرے گا۔

مزید پڑھیں: حدیبیہ ملز کیس: نیب،ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی

نیب کی اپیل پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کو نوٹس جاری کردیئے۔

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے شریف برادران کے خلاف حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس خارج کردیا تھا، جس کے خلاف نیب نے پاناما بینچ کے آبزرویشن پر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

یہ بھی یاد رہے کہ نیب کی جانب سے رواں سال ستمبر میں حدیبیہ پیپر ملز کیس دوبارہ کھولنے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک اپیل دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر لاہور ہائی کورٹ کا گیارہ مارچ 2014 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ شہباز شریف، ان کے مرحوم بھائی عباس شریف اور خاندان کے دیگر افراد کو فریق بناتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حدیبیہ پیپر ملز کیس دوبارہ کھولنے سے متعلق نیب کی اپیل سماعت کیلئے منظور

ان کے علاوہ نیب نے وفاق اور راولپنڈی احتساب عدالت کو بھی سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں فریق بنایا ہے۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس سے متعلق عدالت عظمیٰ میں دائر اپیل میں نیب نے استدعا کی کہ ریفری جج ہائیکورٹ کے احکامات کو کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں رکھتا تھا۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور اسحٰق ڈار کے خلاف نیب نے حدیبیہ پیپر ملز کا ریفرنس 2000 میں دائر کیا تھا، تاہم 2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے یہ ریفرنس خارج کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا کہ نیب کے پاس ملزمان کے خلاف ثبوت کا فقدان ہے۔

پاناما کیس کی تحقیقات کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے جے آئی ٹی کو حدیبیہ پیپر ملز کیس کا ریکارڈ جمع کرایا تھا، جس میں2000 میں اسحٰق ڈار کی جانب سے دیا جانے والا اعترافی بیان بھی شامل تھا۔

اسحٰق ڈار نے اس بیان میں شریف خاندان کے کہنے پر ایک ارب 20 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کرنے اور جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے کا مبینہ اعتراف کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنے اس بیان کو واپس لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ بیان ان سے دباؤ میں لیا گیا۔