اسلام آباد: انتخابات کی مانیٹرنگ کرنے والی 50 سے زائد سول سوسائٹی کی تنظیموں کے اتحاد سے بننے والے غیر سرکاری ادارے فری اینڈ فیئر الیکشن (فافین) نے قانون ساز اسمبلی کی نشتوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق سامنے آنے والے مجوزہ بل میں انتہائی اہم غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس ضمن میں پیش کیا جانے والا قانون آئین کی بنیادی شقوں کے متصادم ہے۔

فافین کے مطابق اسمبلی میں وفاقی یونٹوں کی نشستیں بڑھانے سے متعلق مجوزہ بل میں وفاقی علاقوں کو آئین کی بنیادی شق کے مطابق تقسیم نہیں کیا گیا جبکہ نشتوں کو گزشتہ مردم شماری کے مطابق تقسیم کیا جانا چاہیے تھا۔

یاد رہے کہ مشترکہ مفاداتِ کونسل (سی سی آئی) کی جانب سے قومی اسمبلی میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق بل پیش کیا گیا تھا جس میں قومی اسمبلی کی نشتوں کی تعداد مردم شماری اعداد و شمار کے حساب سے بڑھانے پر زور دیا گیا۔

فافین نے حلقہ بندیوں کے ترمیمی بل میں نقص کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ’آئینی ترمیمی بل میں عوام کی تعداد درج نہیں کی گئی اور نہ ہی مردم شماری نتائج کے حساب سے مخصوص نشتوں کو دوبارہ مختص کرنے کا کوئی ذکر کیا گیا‘۔

مزید پڑھیں: حلقہ بندیوں پر ڈیڈلاک: مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب

انتخابات کی مانیٹرنگ کرنے والے ادارے نے پاکستان کے شماریاتی ادارے (پی بی ایس) سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر مسلموں اور اقلیتی برادری کی آبادی پر رپورٹ ترتیب دے۔

فافین نے سوال اٹھایا کہ کیا پارلیمانی جماعتوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے بل میں جان بوجھ کر اسمبلی کی مخصوص اقلیتی نشتوں کو قابل تسلی قرار دیا گیا ہے، فافین نے مطالبہ کیا کہ ادارہ شماریان غیر مسلموں ، اقلیتوں کی تعداد کی فہرست مرتب کرے۔

مجوزہ ترمیمی بل پر فافین کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کو مردم شماری کے حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کرنے کی کوشش کی جائے۔

حکومت کی کوشش ہے کہ آئین کے آرٹیکل 51 کی شق 3 اور 5 میں ترمیم کر نے کے لیے بل کو رواں ماہ اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔

فافین نے جاری اعلامیے میں کہا کہ ’آئین کے آرٹیکل 51 کی پانچویں شق کے بنیادی نقطے میں ترمیم کر کے اُسے منظور کروانے کی کوشش کی جاری ہے جبکہ اس آرٹیکل کے مطابق صوبے اور وفاق کے تحت چلنے والے علاقوں (فاٹا) کی تعداد کے بعد قومی اسمبلی میں نشتوں کی تعداد بڑھائی جاتی ہے، باوجود یہ کہ اسلام آباد اور فاٹا کی گزشتہ مردم شماری کے نتائج باقاعدہ جاری ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حلقہ بندیوں کیلئے مردم شماری نتائج فوری جاری کیے جائیں، ای سی پی

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ترمیمی بل میں فاٹا کی قومی اسمبلی میں نشتیں بڑھانے کے حوالے سے کوئی سفارش سامنے نہیں آئی جبکہ آئین کے آرٹیکل 51 کی شق میں وضاحت موجود ہے کہ نشتوں کی تشخیص آبادی کے لحاظ سے کی جائے۔

ترمیمی بل میں فاٹا کو قومی اسمبلی کی 12 نشستیں دینے کی تجویز سامنے آئی ہے، نشتوں کی یہی تعداد سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں فراہم کی گئی تھی جس کا سلسلہ جاری ہے۔

اگر نئی حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیمی بل اسمبلی سے منظور ہوجاتا ہے تو پنجاب کی قومی اسمبلی سے 3 نشتوں کی تعداد کم جبکہ سندھ کی 2 اور خیبرپختونخواہ کی 1 نشست زیادہ ہوجائے گی۔

فافین کا کہنا تھا کہ خواتین کی مخصوص نشتوں میں فاٹا اور اسلام آباد سے بھی نمائندگی دی جائے۔

غیر سرکاری تنظیم کا مشاہدہ ہے کہ آئین میں مخصوص ترمیم کی جاسکتی ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 1 (2) میں واضح درج کیا گیا ہے کہ تمام علاقوں کو یکسااں اہمیت دی جائے۔

اسے بھی پڑھیں: نئی حلقہ بندیوں پر پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس پھر بے نتیجہ

فافین نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اس پیچیدہ مسئلے کو حل اور انتظامی طریقے سے نشستوں کی تعداد برابر تقسیم کرے۔

فافین کا مزید کہنا ہے کہ حکومت شماریاتی ادارے کو ہدایت جاری کرے کہ وہ فوری طور پر مردم شماری کے نتائج کو شائع کرے کیونکہ صوبوں کی آبادی دیکھنے کے تعداد بڑھانے اور کم کرنے کا فیصلہ آسان ہوگا۔


یہ خبر 15 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی