اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے متحدہ مجلس عمل ( ایم ایم اے) کی دوبارہ بحالی میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو مسترد کردیا۔

واضح رہے کہ 2002 کے عام انتخابات سے قبل 6 مذہبی جماعتوں کا اتحاد بنا تھا جسے ایم ایم اے کا نام دیا گیا تھا۔

نیشنل پریس کلب میں میٹ دی پریس کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جن جماعتوں نے ایم ایم اے بنائی تھی ان کا خیال تھا کہ وقت کا تقاضہ ہے ’اسے دوبارہ بحال کیا جائے‘۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ ملک کے دیگر حصوں میں مبینہ سیاسی انجینئرنگ کی طرح مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے پیچھے بھی کسی تیسری قوت کا ہاتھ ہے، لیکن ملک میں فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اور ایم ایم اے کی دوبارہ بحالی میں ان کی جماعت نے کردار ادا کیا۔

مزیر پڑھیں: متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اعلان

ایم ایم اے میں کالعدم جماعتوں کے رہنما یا 1997 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل رہنماؤں کی موجودگی پر سوال کا دفاع کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جن پر مقدمات ہیں وہ عدالتوں سے مقدمات ختم کرانے کے بعد ایم ایم اے کا حصہ بن سکیں گے، جبکہ جن پر کوئی مقدمہ نہیں ہے ان کو مرکزی سیاسی میں آنے کا موقع دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی پاکستان کو کمزور کرنے کی بین الاقوامی سازش ہے، ایم ایم اے نے پہلے بھی فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کو کم کرنے میں کردار ادا کیا تھا اور امید ہے کہ مذہبی جماعتوں کا دوبارہ اتحاد ملک میں مختلف مذہبی گروپوں کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے میں کردار ادا کرے گا۔

فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے کی بحالی سے دنیا بھر میں مسلمانوں اور اسلام پسند جماعتوں کا مثبت تاثر جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے کی رسمی بحالی کے بعد جلد ہی ان کی جماعت جے یو آئی (ف) وفاقی حکومت جبکہ جماعت اسلامی خیبر پختوانخوا کی اتحادی حکومت چھوڑ دیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ مجلس عمل: ’اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ کالعدم جماعتوں کا اتحاد

انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کی بحالی کی سفارشات کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ فاٹا کا خیبرپختونخوا سے انضمام کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں لینا چاہیے، یہ ایک اہم فیصلہ ہے جس پر غور کرنا چاہیے۔

اس موقع پر انہوں نے بھارتی فوج کی جانب سے کشمیر میں کیے جانے والے مظالم پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت اور امریکا کے درمیان تعلقات خطے میں عدم استحکام کا باعث ہیں۔


یہ خبر 15 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی